انگلش زبان میں روزمرہ کی متعدد چیزوں کے لیے مخفف استعمال کیے جاتے ہیں جیسے ائیر کنڈیشنر کو اے سی کہا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کا عام استعمال ہوتا ہے، مگر کچھ مخفف ایسے ہیں جو ہمارے ملک میں بھی بول چال میں نظر آتے ہیں مگر ان کا مطلب اکثر کو معلوم نہیں ہوتا۔
ان میں سب سے نمایاں گھڑی کے وقت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح اے ایم اور پی ایم ہیں جو کہ دن یا رات کے فرق کے لیے عام استعمال ہوتی ہے، مگر جب کسی سے پوچھا جائے کہ اے ایم یا پی ایم کن الفاظ کا مخفف ہیں تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ بہت کم لوگ ہی اصل الفاظ جانتے ہیں۔
بیشتر افراد کے خیال میں اے ایم سے مراد آفٹر مڈنائٹ جبکہ پی ایم کا مطلب پاسٹ مڈڈے ہے، مگر یہ درست نہیں۔
کیا آپ کو اس کا مطلب معلوم ہے؟
اگر نہیں تو پہلے جان لیں کہ انگلش زبان کے متعدد دیگر الفاظ اور جملوں کی طرح اے ایم اور پی ایم لاطینی زبان کے جملوں کا مخفف ہیں۔
اے ایم لاطینی جملے ‘ ante meridiem ‘ یا بی فور مڈڈے (دوپہر سے پہلے) جبکہ پی ایم ‘ post meridiem ‘ یا آفٹر مڈ ڈے (دوپہر کے بعد) کا مخفف ہے۔
اس حوالے سے تو زیادہ تفصیلات موجود نہیں کہ کب اے ایم اور پی ایم انگلش زبان کا حصہ بن کر عام استعمال ہونے لگے، مگر یہ معلوم ہے کہ 12 گھنٹے کا ٹائم کیپنگ سسٹم قدیم مصر کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔
آج دنیا کے اکثر حصوں میں 24 گھنٹے کا سسٹم استعمال ہوتا ہے مگر جہاں انگلش زبان کا غلبہ ہے وہاں 12 گھنٹے والی گھڑی چلتی ہے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

