دیوانے نے کارواں کاآغاز کیا۔ وہ کچھ اس طرح سرگرمِ سفر ہوا کہ دوبارہ پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اپنے سر پر کفن باندھ کے چلا تھا ۔ اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس لئے حالات سے نہیں گھبرایا۔غمِ جاناں جب اسے رلاتا تو وہ بس ہنس کر تمام دکھ درددرگزر کرتا۔سماں بگڑتا، سنورتا لیکن وہ نڈر ہو کر اور اٹل رہ کر جانبِ منزل اپنی نگاہیں جماتا۔ اس نے آگ میں پھول کھلانے کی قسم کھائی تھی۔ سوزِ جگر رہ رہ کر اسے ہمت دیتی۔ اس پر جنون سوار تھا۔ منزل کی تشنگی تھی۔ کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اسے ستاتا رہتا۔ اسے زمانے کے طعنے کا، ان آنسوؤ ں کاقرض اور اس تھپڑ کا جواب دینا تھا۔جو ہوا غلط ہوا۔ وہ اس ذلت کا حقدار نہیں تھا۔ جب بچھڑے ہوئے یاد آتے اور بے چین ہو کر اس طرف نظر جاتی تو وہ ضبط کر کے اپنا جگر تھام لیتا۔ جس دم اس نے یہ راہ لی تھی اسے معلوم تھا کہ قربانیاں لازم تھیں۔ اس نے جو سوچا اسے پانا تھا۔ اسی طرح الجھتے الجھتے عمر کٹ گئی۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ سب ضروری تھا؟
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

