میر نے کہا تھا: کونسی رات زمانے میں گئی ایسی میر / سینہ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا۔ عمر رواں کا بجرہ سدا اجنبی لہروں پر بہتا رہا۔ بچپن لاعلمی اور بزرگوں کی شفقت یا شقاوت کے تابع گزرتا ہے۔
ہمیں اس سفر کی سمت پر اختیار نہیں ہوتا۔ جوانی میں خانماں خرابی کی اپنی صورتیں ہیں۔ روزگار اور گرہست کے پیچاک خوش بختی یا حوادث کے امکانات لئے ہوتے ہیں۔ بڑھوتری کے برسوں میں اندوہ اور حزن کے اپنے رنگ ہوتے ہیں۔ بندہ کم مایہ اب اس طلسم کدے کے تیسرے دالان سے گزر رہا ہے۔ اب آپ سے کیا چھپانا۔ بے شک ہماری ایکس نسل نے بندوق کے جبر اور ریاست کی بے گانگی میں آنکھ کھولی اور اب ساعت شفق میں زی جنریشن کی خود رائی کے تجربے سے گزر رہے ہیں۔ لیکن اگر چیخوف کا کوچوان اپنے گھوڑے کو اپنا دکھ سنا سکتا ہے تو اخبار کا اظہاریہ تو سوز دروں کی حکایت ہے۔
ان دنوں ایک خفتہ ملال یہ ہے کہ جس شہر میں ایک عمر گزاری۔ اب وہاں جس کوچے سے گزرو، کسی دوست کی یاد پاؤں پکڑ لیتی ہے۔ فلاں اس نگر کی فلاں گلی میں رہتا تھا۔ اب اوجھل ہو چکا اور پھر یہ جانکاہ احساس کہ وہ چہرہ اب دکھائی نہیں دے گا اور وہ موہنی آواز اب کانوں میں کبھی رس نہیں گھولے گی، جس سے کبھی گوش سماعت پر معنی کی ورشا اترتی تھی۔ نومبر کا مہینہ شروع ہو چکا۔ ماہ رواں کی سترہ تاریخ کو خالد احمد کو آنکھیں موندے دو برس مکمل ہو جائیں گے۔ خالد احمد، وہ صاحب علم، وہ عالی دماغ، وہ مرد خود فراموش جو اس شہر کی گلیوں میں خاموشی سے آٹھ دہائیاں گزار کر سترہ نومبر 2024 کو علم، انکسار اور ذہنی توانائی کی ایک روایت اپنے ساتھ لئے رخصت ہو گیا۔
میں حسب معمول نماز جنازہ کی صفوں سے کچھ پیچھے مرگھلی دھوپ میں سگریٹ سلگائے امروز و دیروز کے غموں سے سر بگریباں تھا۔ ناگاہ سفر آخرت کیلئے رکھی چارپائی پر نظر پڑی اور خیال آیا کہ یہ ستا ہوا جسد خاکی اس خالد احمد سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا جو چند برس قبل تک صوفے پر بیٹھا تاریخ کی پرتیں کھولتا تو جہازی حجم کی نشست اس کے وجود سے وقار پاتی تھی۔ بے شک وقت ایک سفاک تراشندہ ہے جو سرسوں کی نرم کونپلوں اور شاہ بلوط کے تناور پیڑوں کو یکساں بے نیازی سے کاٹتا چلا جاتا ہے۔ سانس کی ڈوری میں بندھے ہم خاکی پتلے حتمی فنا کے زندانی ہیں اور نہیں جانتے کہ اس سیارے پر ہمیں آخری منظر سے قبل اور کیا دیکھنا اور بھگتنا ہے۔
محترم فاران احمد کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پختہ عمری کی حدود میں ہیں۔ قدیمی تعلق نہیں۔ انٹرنیٹ پر رابطہ ہوا تھا۔ کبھی کبھار مختلف موضوعات پر رائے کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔ ذاتی کوائف میں مجھے کچھ ایسی دلچسپی نہیں ہوتی اور فاران صاحب نے بھی کسی قدر حجابی طبیعت پائی ہے۔ دو کم آشنا طبع اس انداز میں مکالمت کریں تو تفہیم کا الجھاؤ بڑھ جاتا ہے۔ حضرت کا سفینہ خیال مذہب، اشتراکیت اور جمہوریت کے پانیوں پر زلیخائی کرتاہے۔ یہ موضوعات ہمارے کم نصیب زمانے کا المیہ ہے۔ جمہوریت سے کسی قدر خائف بلکہ مکدر ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی معاشی ترقی سے خیرہ ہیں اور اسی زمین میں قافیہ پیمائی کرتے، جمہوریت کی ناکامی پر گرہ لگاتے ہیں۔
محترم فاران اس رجحان زمانہ کے منفرد شارح نہیں ہیں۔ آپ کے نیاز مند نے بھی لڑکپن چیئرمین ماؤ کی سرخ کتاب کے افسوں میں بسر کیا ہے۔ تب ہمیں عظیم جست، 1962 کے قحط اور ثقافتی انقلاب کی خبر کیسے ہوتی۔ ہمیں تو یہ یاد ہے کہ ماؤزے تنگ سے آخری ملاقات کا شرف ہمارے ’انقلابی رہنما‘ ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوا تھا۔ ستمبر 1976 میں چیئر مین ماؤ کا انتقال ہوا تو روزنامہ امروز کے باکمال خطاط نے اردو زبان کی شہ سرخی کو چینی رسم الخط میں ڈھال دیا تھا۔ حرف مطبوعہ کا یہی معجزہ ہے کہ کم عمر ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ ہم نے ابن انشا کا سفرنامہ ’چلتے ہو تو چین کو چلئے‘ بھی پڑھا جس میں لانگ مارچ کا بیان ایڈگر سنو سے حرف بحرف مستعار تھا ۔ اشفاق احمد کی زبانی چین کی انقلابی ’طہارت‘ کا یہ بیان بھی ہمیں معلوم تھا کہ چین میں عورت، عورت معلوم ہی نہیں ہوتی۔ چیئرمین ماؤ کے نجی معالج کی کتاب تو بہت بعد میں ہم تک پہنچی جس میں ’بیس صدیوں کے رہنما ‘ چیئرمین ماؤ کی نجی زندگی کا چشم دید بیان مرقوم تھا۔
برادرم یاسر پیرزادہ چین کے دورے پر جا رہے تھے تو میں نے از رہ شرارت The Private Life of Chairman Mao تھما دی۔ سادہ لوح دوست نے وہ کتاب ہمراہ رکھ لی ۔ واپس آ کر پوچھا کہ اس کتاب میں ایسا کیا ہے، چین کا جو شہری اسے میرے ہاتھ میں دیکھتا بھڑک کر کئی قدم دور جا کھڑا ہوتا تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے کچھ تفصیل بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ چین کے سرکاری دانشوروں نے اس کتاب کے ایک نہیں، دو سرکاری جواب شائع کئے ہیں۔ کسی منحرف مصنف کی کتب پر ایسا ردعمل گویا اس کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ اقتدار کے جاہ و حشم میں لیکن لفظ کے اس راز و نیاز کی جدلیات نہیں کھلتیں۔
محترم فاران کا ذکر ہو رہا تھا ۔ ایک جملہ ایسا لکھ دیا کہ دل نا صبور میں تیر نیم کش ٹھہرا۔ میں نے عرض کی تھی کہ ہم ٹرمپ ، پیوٹن، مودی اور ژی کی دنیا میں زندہ ہیں لیکن میر امن کے یہ ’چہار درویش ‘ انسانیت کا مقسوم نہیں ہیں۔ فرمایا کہ ’یہ لوگ حقیقت ہیں۔ باقی سب تو قصہ خواب ٹھہرا۔ فیصلے کا معیار صحیح یا غلط نہیں رہا، پسند اور ناپسند پر بات ٹھہری ہے اور پسند نا پسند کا فیصلہ الگورتھم کے پاس ہے‘۔ میں خاموش ہو رہا ۔ چاہتا تھا کہ راشد کا مصرعہ دہراؤں ۔ ’پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائی کے ‘۔ ہم دھند کے ایک منطقے سے گزر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ بے بصری کا یہ سفر کتنا طویل ہے ۔ ’کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار‘۔
ماضی میں طاقت کے دھڑوں میں منقسم دنیا دو عالمی جنگوں پر منتج ہوئی تھی ۔ کیا آج ہم ہارورڈ کے استاد Graham Allison کے لفظوں میں The Thucydides Trap سے بچ نکلیں گے؟ آج کی خبر تو بہرصورت یہی ہے کہ ہم الگورتھم کے قیدی ہیں اور سیالکوٹ میں الگورتھم کے ایک تابع مہمل کی شادی پر بے چہرہ ہجوم میں بھگدڑ سے متعدد افراد کچلے گئے ہیں۔ الگورتھم کی دنیا میں سچ اور جھوٹ کا یہی معیار ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

