گزشتہ مضمون میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ تقریباً 4500 برس قبل مسیح ایک پروٹو انڈو یورپین زبان تھی جس میں سے یورپین ایرانی اور ہندوستانی زبانیں نکلیں ۔ آج یہ دیکھتے ہیں کہ ان سب زبانوں کی ماں کہاں سے تھی اور اس کی اولادیں کہاں کہاں پھیلیں ۔
پروٹو انڈو یورپین (Proto-Indo-Europen) بولنے والے بنیادی طور پر بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے شمالی علاقوں (موجودہ یوکرین، جنوبی روس اور قازقستان کا کچھ حصہ) میں آباد تھے، جسے "پونٹک-کیسپین سٹیپ” (Pontic-Caspian steppe) کہا جاتا ہے۔ اسے تاریخ اور لسانیات میں "کُرگان نظریہ” (Kurgan Hypothesis) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ لوگ تقریباً 4000 سے 3000 قبل مسیح (ق م) کے دوران یہاں آباد تھے اور بعد میں انہوں نے مختلف لہروں میں دنیا کے دیگر حصوں کی طرف ہجرت کی۔
پروٹو انڈو یورپین کی بڑی ہجرتیں
انڈو یورپین زبانیں بولنے والے قبائل کی ہجرتیں ایک طویل عرصے پر محیط تھیں، جن کی اہم ترین سمتیں درج ذیل ہیں۔ پونٹک-کیسپین سٹیپ (اصل وطن
1. یورپ کی طرف ہجرت (مغربی رخ)
وسطی اور مغربی یورپ قبائل کی ایک بڑی تعداد مغرب کی طرف بڑھی، جس سے بعد میں سیلٹک (Celtic)، جرمنک (Germanic)، اور اٹالک (Italic/Latin) زبانیں اور تہذیبیں وجود میں آئیں۔
شمالی اور مشرقی یورپ: کچھ گروہ شمال کی طرف گئے جنہوں نے بالتھک اور سلاویک (Baltic-Slavic) زبانوں کی بنیاد رکھی۔
یونان: جنوب مغرب کی طرف ہجرت کرنے والے گروہ یونان (Greek) میں آباد ہوئے۔
2. اناطولیہ (موجودہ ترکی) کی طرف ہجرت
کچھ ابتدائی گروہ جنوب کی طرف ہجرت کر کے اناطولیہ کے علاقے میں آباد ہوئے، جہاں انہوں نے ہٹی (Hittite) سلطنت قائم کی۔ یہ انڈو یورپین زبانوں کی قدیم ترین تحریری شکل مانی جاتی ہے۔
3. وسطی ایشیا اور برصغیر کی طرف ہجرت (مشرقی اور جنوبی رخ)
انڈو-ایرانی شاخ: یہ گروہ پہلے سٹیپ سے مشرق کی طرف وسطی ایشیا (Andronovo ثقافت) میں منتقل ہوا جہاں
ایرانی زبانوں اور سنسکرت کا آغاز ہوا، یہاں سے یہ دو بڑی شاخوں میں تقسیم ہوئے:
ایک شاخ جنوب کی طرف ایران کے سطح مرتفع میں داخل ہوئی (جس سے فارسی زبان بنی)۔
دوسری شاخ جنوب مشرق کی طرف ہندو کش کے پہاڑوں کو عبور کر کے برصغیر پاک و ہند (موجودہ پاکستان اور بھارت) میں داخل ہوئی، جنہیں تاریخ میں آریائی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے یہاں سنسکرت اور ویدک ثقافت کی بنیاد رکھی۔
4. چین (تخاری زبانیں)
ایک انتہائی مشرقی گروہ ہجرت کر کے موجودہ چین کے مغربی علاقے (سنکیانگ یا تارم بیسن) تک پہنچ گیا، جنہیں تخاری (Tocharians) کہا جاتا ہے۔
مؤرخین کے مطابق ان کی ہجرتوں اور فتوحات کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ گھوڑوں کو پالتو بنانا، پہیوں والے رتھوں (Chariots) کا استعمال اور پیتل و تانبے کے ہتھیار بنانا تھی، جس نے انہیں جنگی اور سفری لحاظ سے دیگر مقامی تہذیبوں پر برتری دی۔۔۔۔۔
اب تک جو ہم نے جانا اسے زبانوں کو محور بنا کر دہرا لیتے ہیں اور کچھ آپ یہ زبانوں کی یورپی بہنوں کا تذکرہ بھی کر لیتے ہیں۔
انڈو یورپین (ہند-یورپی) زبانوں کا خاندان دنیا کا سب سے بڑا لسانی خاندان ہے۔ ان تمام زبانوں کا ماخذ ایک قدیم، غیر مکتوب یعنی بغیر تحریری ریکارڈ کے زبان ہے جسے پروٹو ہند-یورپی (Proto-Indo-European) کہا جاتا ہے۔
اس خاندان کا تفصیلی شجرہ (فیملی ٹری) اور اس کی اہم شاخیں درج ذیل ہیں
اصل آبائی جڑ (Ancestral Root)
پروٹو ہند-یورپی (Proto-Indo-European) (~4500 قبل مسیح)
اہم شاخیں اور ان سے نکلنے والی زبانیں 1.ہندایرانی-اIndo-Iranian) اس میں سے نکلیں
• ہند-آریائی شاخ
اردو، ہندی، سنسکرت، بنگالی، پنجابی، سرائیکی سندھی، گجراتی وغیرہ۔
• ایرانی شاخ
فارسی، پشتو، کردی، بلوچی وغیرہ۔
• داردی شاخ، کشمیری، شینا، بروشسکی،کھوار وغیرہ۔
2. جرمنک (Germanic) شاخ
مغربی جرمنک: انگریزی، جرمن، ڈچ (Dutch)۔
شمالی جرمنک نارویجین، سویڈش، ڈینش، آئس لینڈی۔
3. اٹالک (Italic)
• لاطینی (ناپید)
• رومانک زبانیں فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی، پرتگالی، رومانیائی۔
4. بالتو-سلافی (Balto-Slavic)
• سلافی شاخ: روسی، پولش، یوکرینی، بلغاریائی، سربین۔
• بالتکی شاخ: لتھوانیائی (Lithuanian)، لیٹویائی (Latvian)۔
5. ہیلینک (Hellenic یونانی)
• قدیم اور جدید یونانی (Greek)۔
6. سیلٹک (Celtic)
• آئرش، اسکاٹش گیلک، ویلش (Welsh)۔
7. آرمینیائی (Armenian)
•آرمینیائی زبان۔
8. البانوی (Albanian)
البانوی زبان۔
9. اناطولیائی (Anatolian) ناپید (Extinct)
ہٹائٹ (Hittite) وغیرہ۔
10. تخارستانی (Tocharian) — ناپید (Extinct)
جو وسطی ایشیا (سنکیانگ) میں بولی جاتی تھی۔
آخر میں مختصر ملاقات اس نظریے کے بانی سے
سر ولیم جونز (Sir William Jones) کو جدید لسانیات کا باپ کہا جاتا ہے ۔وہ 28 ستمبر 1746 کو لندن میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد ایک مشہور ریاضی دان تھے۔- وہ بچپن سے ہی انتہائی ذہین تھے۔ انگریزی اور ویلش کے علاوہ بچپن میں ہی یونانی، لاطینی، فارسی، عربی، عبرانی سیکھ لی تھی۔ کہا جاتا ہے زندگی کے آخر تک وہ 8 زبانیں مکمل مہارت سے جانتے تھے، 8 زبانیں روانی سے اور 12 زبانوں میں مناسب دسترس رکھتے تھے – University College, Oxford سے 1768 میں گریجویشن کی۔ 1773 میں انہیں Supreme Court of Judicature at Fort William, بنگال (کلکتہ) میں جج مقرر کیا گیا۔
27 اپریل 1794 کو کلکتہ میں جگر کی سوزش سے، صرف 47 سال کی عمر میں انتقال کر گئے اور South Park Street Cemetery میں دفن ہوئے۔
انہوں نے1784 میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال قائم کی ۔
ہندوستان آ کر انہوں نے دیکھا کہ یورپ والے ہندوستان کی تہذیب سے نا آشنا ہیں ، اس لیے انہوں نے کلکتہ میں یہ ادارہ بنایا جس نے جدید Indology کی بنیاد رکھی۔
. انڈو-یورپین زبانوں کے خاندان کی دریافت ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے سنسکرت سیکھنے کے صرف 6 ماہ بعد ایشیاٹک سوسائٹی میں اپنا مشہور Third Annual Discourse دیا
> "سنسکرت زبان، چاہے اس کی قدامت جو بھی ہو، ایک حیرت انگیز ساخت رکھتی ہے؛ یونانی سے زیادہ کامل، لاطینی سے زیادہ وسیع اور دونوں سے زیادہ نفیس ہے، پھر بھی فعلوں کی جڑوں اور گرامر کی صورتوں میں دونوں سے اس کی ایسی گہری مماثلت ہے جو اتفاقی نہیں ہو سکتی… کوئی بھی ماہر انہیں دیکھ کر یہ ماننے پر مجبور ہو گا کہ یہ تینوں ایک ہی مشترکہ ماخذ سے نکلی ہیں، جو شاید اب موجود نہیں۔”
اسی خطبے میں انہوں نے کہا کہ فارسی، گوتھک (جرمن) اور سیلٹک (انگریزی کی آباء) بھی اسی خاندان سے ہیں۔
انہوں نے کالی داس کے ڈرامہ "شکنتلا” کا پہلی بار انگریزی میں ترجمہ کیا جس سے یورپ ہندوستانی ادب سے روشناس ہوا۔ اس کے علاوہ منوسمرتی (ہندو قانون) اور فارسی کی کتابیں بھی ترجمہ کیں۔
انہوں نے ہندوستان کے پودوں، موسیقی، اور قوانین پر بھی کتابیں لکھیں۔
سر ولیم جونز وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ یورپی زبانیں، ایرانی زبانیں اور ہندوستانی زبانیں آپس میں بہنیں ہیں – سب کی ماں ایک ہے۔ اسی لیے انہیں "Father of Modern Linguistics” کہا جاتا ہے۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی

