جدید انسان، جسے سائنس Homo sapiens کہتی ہے، بندروں جیسی مخلوق سے ارتقاء پا کر وجود میں نہیں آیا بلکہ اسی انسانی نسل کی ہی ایک شاخ ہے۔ موجودہ سائنسی شواہد کے مطابق ہومو سیپینز کا پہلا ظہور تقریباً 3 لاکھ سال پہلے افریقہ میں ہوا۔ اس کا سب سے قدیم فاسل جبل ارحود، مراکش سے ملا ہے۔ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ہم 2 لاکھ سال پہلے مشرقی افریقہ (ایتھوپیا) سے نکلے۔
تقریباً 2 لاکھ سال تک ہومو سیپینز صرف افریقہ میں ہی رہا۔ پھر دو بڑی ہجرتیں ہوئیں,
ایک گروہ 60 سے 70 ہزار سال پہلے افریقہ سے نکل کر جزیرہ نما عرب اور مشرق وسطیٰ میں داخل ہوا۔ وہاں سے ایک گروہ یورپ گیا (جہاں پہلے سے نینڈرتھال آباد تھے)،
دوسرا ایشیا اور پھر آسٹریلیا (65 ہزار سال پہلے) اور تیسرا برف کے راستے امریکہ (تقریباً 15 سے 20 ہزار سال پہلے) پہنچا۔
اس پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ اس کا نیا دماغ تھا۔
شعور (Cognitive Function) اور بول چال
یہ انسانی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے، جسے یووال نوح ہراری Cognitive Revolution کہتے ہیں۔
جسمانی طور پر بولنے کی صلاحیت تو 3 لاکھ سال سے تھی، لیکن پیچیدہ یا باقاعدہ زبان، جس میں کہانی، غیب، دیوتا، قوم جیسے تصوراتی خیالات بیان کیے جا سکیں، تقریباً 70 ہزار سے 50 ہزار سال پہلے کے درمیان پیدا ہوئی۔ اسی زبان کی وجہ سے انسان گروہ میں بہتر تعاون کرنے لگا، اوزار بہتر بنائے، تصویریں بنائیں، اور رسومات شروع کیں۔ غاروں میں بنی پہلی مصوری (انڈونیشیا اور فرانس میں) تقریباً 45 ہزار سال پرانی ہے، یہی شعور کی نشانی ہے۔
انسان نے غاریں یکدم نہیں چھوڑیں۔ وہ خانہ بدوش شکاری تھا۔ عارضی جھونپڑیاں اور خیمے تو 2 لاکھ سال سے بنا رہا تھا۔ لیکن مستقل گھر اور گاؤں کا تصور تقریباً 12 ہزار سے 10 ہزار سال پہلے شروع ہوا، جب اس نے ایک جگہ ٹکنا سیکھا۔ اس کی وجہ زراعت تھی۔
اسے Neolithic Revolution یا زرعی انقلاب کہتے ہیں۔ آخری برفانی دور ختم ہونے کے بعد موسم گرم ہوا۔
تقریباً 11,000 سے 9,000 سال قبل مسیح سب سے پہلے (Fertile Crescent) یعنی موجودہ عراق، شام، فلسطین اور ترکی کے علاقے میں۔ یہاں گندم اور جو اگائی گئی۔ اس کے بعد چین میں چاول (9000 سال پہلے)، وسطی امریکہ میں مکئی (7000 سال پہلے) اور جنوبی امریکہ میں آلو کی کاشت شروع ہوئی۔ زراعت نے انسان کو شکار سے نجات دلائی۔
جب زراعت سے خوراک زیادہ پیدا ہونے لگی تو آبادی بڑھی اور کچھ لوگ کھیتی چھوڑ کر کاریگر، سپاہی اور پجاری بن گئے۔
پہلے بڑے شہر تقریباً 4500 سے 3500 قبل مسیح میں اسی زرخیز ہلال fertile crescent میں بنے۔ دنیا کا پہلا بڑا شہر ارک (Uruk) موجودہ عراق میں سمجھا جاتا ہے، تقریباً 4000 قبل مسیح۔ اس کے بعد مصر میں ممفس، بلوچستان میں مہرگڑھ ،وادی سندھ میں موہنجوداڑو اور ہڑپہ (2600 قبل مسیح) آباد ہوئے۔
لکھائی کا آغاز تقریباً 3400 قبل مسیح میں سمیر (عراق) میں ہوا۔ حساب کتاب کے لیے تصویری لکھائی، جو بعد میں میخی رسم الخط بنی۔ تقریباً اسی زمانے میں مصر میں ہیروغلیفی، چین میں اور وادی سندھ میں الگ رسم الخط بنے۔ لکھائی سے قانون، تاریخ اور سائنس محفوظ ہونا شروع ہوئی۔
جب شہر بنے تو ان کو چلانے کے لیے بادشاہ، فوج اور قانون کی ضرورت پڑی۔ پہلی ریاستیں بھی 3100 قبل مسیح کے آس پاس بنیں۔ • مصر میں فرعون مینا نے بالائی اور زیریں مصر کو متحد کر کے پہلی مرکزی ریاست بنائی۔ • سمیر میں شہری ریاستیں جیسے ار، لگش اور اکاد بنیں۔ ان کے پاس بادشاہ، ٹیکس کا نظام اور لکھے ہوئے قوانین (جیسے حمورابی کا ضابطہ 1750 قبل مسیح) تھے۔
ہومو سیپینز کی کہانی 3 لاکھ سال پہلے افریقہ سے شروع ہوئی، 70 ہزار سال پہلے زبان اور شعور نے اسے دنیا کا فاتح بنایا، 12 ہزار سال پہلے اس نے زمین کو قابو کیا، 6 ہزار سال پہلے شہر بسائے اور 5 ہزار سال پہلے لکھائی اور ریاست بنا کر وہ حیاتیاتی جانور سے تاریخی انسان بن گیا۔
بدھ, اکتوبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
- جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
- ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
- شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
- "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
- کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
- ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- ریاض میں شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملہ : متعدد افراد زخمی

