زبانوں کے علم یا لسانیات سے مجھے شروع سے دلچسپی رہی ہے، میری پیدائش خیرپور میرس سندھ میں ہوئی ، مادری اور پدری زبان سرائیکی تھی جسے میرے ننہیال ملتانی اور ددہیال جاٹکی کہتے تھے، جس محلے میں رہتے تھے وہاں اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی لیکن کچھ سندھی بھی تھے ۔ میں ساڑھے تین چار برس کا تھا جب ہم خیرپور سے چوٹی زیریں ہوت والا واپس آ گئے، یہاں سب جاٹکی یا سرائیکی بولتے تھے، پڑھنا شروع کیا تو قاعدے کتابیں اردو میں تھیں لہذا اردو اور سرائیکی چلتی رہیں ، سندھی تقریباً بھول بھلا گئی ، بابا اور امی کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے یا دوسروں کی موجودگی میں کوئی نجی اور ذاتی بات سندھی میں کر لیتے تھے تو میری سندھی بھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی ، پھر سندھ سے کبھی کبھار کوئی رشتہ دار آ جاتے تھے جو سندھی بولتے تھے اور ساتھ ہی سندھی لہجے میں سرائیکی بھی تو میری سندھی مری نہیں ۔
ہمارے ہاں ناصر پشتون لورالائی اور دکی کے پہاڑوں سے اتر کر سردیاں گزارنے آتے تھے اور بہت سے بلوچی بولنے والے گرمیوں میں کھجوروں کا موسم یہاں گزارتے تھے ، یوں بھی ہمارے ہاں دو لسانی لوگ یعنی بلوچی اور جاٹکی بولنے والی آبادی کافی تعداد میں ہے لہذا ان دونوں زبانوں سے بھی شناسائی ہوئی ۔ پھر ہمارے کچھ رشتہ دار جھنگ میں آباد تھے تو جھنگوچی سے بھی واقفیت ہوئی ، بھکر ننہیال جاتے تو وہاں میانوالی کی بولی سے بھی آشنائی ہو گئی ، پھر ایک ماموں کی شادی تلہ گنگ میں ہوئی تو پوٹھواری بھی اجنبی نہ رہی ، سکول میں چھٹی سے انگریزی پڑھائی جاتی تھی لیکن گھر میں امی نے اس سے پہلے ہی ابتدائی قاعدے پڑھا دیے، سکول میں فارسی کا مضمون رکھا ، گھر میں بابا بھی فارسی پڑھنے میں مدد کرتے تھے ۔ بابا نے بعد میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھانا شروع کیا تو ساتھ عربی کا معلم کی ابتدائی جلدیں اور روضہ الادب بھی پڑھا دیں۔ بعد ازاں لسانیات پر کچھ بنیادی کتب بھی پڑھیں ، پھر دوستوں ڈاکٹر مظہر علی جسکانی ، عرفان اللہ خان کھوسہ اور ندیم اکبر خان کھتران مرحوم کے ساتھ افتخار خان لغاری مرحوم کے گھر 32 کیسٹوں پر مشتمل مہا بھارت سیریل دیکھی تو سنسکرت سے بھرپور ہندی سے بھی عدم واقفیت نہ رہی ۔یہ مختصر پس منظر ہے زبانوں اور بولیوں سے تعلق اور دلچسپی کا ۔
ہمارے ہاں ایک مورخ ہیں احسان چنگوانی صاحب جن کی ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی تاریخ پر کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔ وہ تاریخ کو بھی شاعری کی طرح کی کوئی چیز سمجھتے ہیں جو وارد ہوتی ہے اور اس کے مآخذ تحقیق اور چھان پھٹک کو وہ فضول کی سر دردی سمجھتے ہیں، حد یہ کہ عوام میں چلنے والے سینہ گزٹ پر بھی وہ اپنے وجدان کو فوقیت دیتے ہیں ۔ لکھتے ہیں سرائیکی ایک لاکھ سال قدیم زبان ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی زبان بھی سرائیکی تھی ۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بیس ہزار سال قبل ملتان میں ایک بہت بڑی بندرگاہ تھی ۔ ماہرین علم الآثار تاریخ اور لسانیات بتاتے ہیں کہ انسان نے زبان کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچانی کوئی پچاس سے ستر ہزار سال قبل شروع کی ، جبکہ اس نے غاروں اور جنگلوں سے نکل کر کھیتی باڑی اور چھوٹی بستیاں بسانا 12 سے 15 ہزار سال ہوئے شروع کیا ۔ بڑے شہر پانچ سے سات ہزار سال قبل آباد ہونا شروع ہوئے ۔
برادر رضی الدین رضی کی فرمائش بلکہ اصرار پر زبانوں کے حوالے سے مضامین کا یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں ۔ اگلے مضمون میں زبانوں کے ارتقاء سے پہلے بنی نوع انسان یا ہومو سیپینز کے ارتقاء کا جامع اور مختصر جائزہ لیں گے ۔ امید ہے آپ کو یہ سلسلہ پسند آئے گا، اپنی رائے سے آگاہ کیجیے گا۔
اور مختصر جائزہ لیں گے ۔ امید ہے آپ کو یہ سلسلہ پسند آئے گا، اپنی رائے سے آگاہ کیجیے گا۔ See less

