ہم ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ چین والے الگ ہی لوگ ہیں۔ وہ بات کہنے سے پہلے اس کی میخ نکال چکے ہوتے ہیں اس لئے اب جب امریکہ بہادر نے ایران اپنے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت نئی سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایران کے تجارتی شراکت داروں، خاص طور پر چین کو سنگین معاشی نتائج کی براہِ راست دھمکی دی ہے، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، ہوابازی، سونے اور شپنگ سمیت 60 کے قریب ایرانی اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور تجارت برقرار رکھنے والے ملکوں کو واشنگٹن کی طرف سے دھمکی دی کہ جو ملک یا ادارہ ایران سے اپنے روابط ختم نہیں کرے گا، اسے امریکی ڈالر کے عالمی مالیاتی نظام (Global Dollar System) سے نکال دیا جائے گا اور وہ امریکہ میں کاروبار نہیں کر سکے گا۔
چین سمیت کوئی بھی ملک امریکی پابندیوں سے بالا تر نہیں ہے۔ ایران سے تیل اور دیگر اشیاء خریدنے والے ملکوں تجارتی رابطے مکمل طور پر ختم کرنے ہوں گے واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر ان ممالک نے خود کارروائی نہ کی تو امریکہ یکطرفہ طور پر ان کے مالیاتی اداروں پر ثانوی پابندیاں (Secondary Sanctions) عائد کر دے گا۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار اور معاشی شراکت دار ہونے کے ناطے چین نے امریکی دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان اور امریکہ میں چینی سفارتخانے نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ چین امریکہ کی ان یکطرفہ اور "غیر قانونی” پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے جنہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں ہے۔
چین نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کا تعاون بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہے۔ بیجنگ اپنی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے جائز حقوق اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے "تمام ضروری اقدامات” کرے گا۔ چین کا مؤقف ہے کہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کے ہتھکنڈے مسائل کا حل نہیں ہیں بلکہ اس سے خطے کی کشیدگی اور عالمی معاشی نظام کو مزید نقصان پہنچے گا۔ عصری تاریخ کے دورانیے میں چین نے ایسا سخت موقف صدر ٹرمپ کی گزشتہ محصولاتی پابندیوں کے موقع پر اپنایا تھا جس پر امریکی حکومت کو بعد میں پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی ۔ببصرین کے مطابق، بیجنگ نے پسِ پردہ اپنے متبادل ادائیگیوں کے نظام یعنی اپنی کرنسی یوآن پر مبنی تجارتی نیٹ ورک کو مزید آگے بڑھانے کا اشارہ دیا ہے، یہ توقع بھی ظاہر کی جارہی ہے کہ اگلے مہینے امریکہ اور چین کے درمیاں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے قبل اس تنازع کا کوئی حق نکال لیا جائے گا ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ چین کی مشترکہ و اجتماعی سلامتی پالیسی کے تحت اس کے صبر وتحمل کی ایک اور بڑی کامیابی ہوگی کی ہم وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یادش بخیر ہم صدر شی جن پنگ کے بارے میں عرض کر رہے تھے کہ اجتماعی سلامتی پالیسی کے ابتدائی نقوش اجاگر کرتے ہوئے انھیں ہمارے اعلیٰ دماغ حکمرانوں کی مانند اچانک کوئی کشف نہیں ہوا تھا بلکہ برسوں پہلے سے اس بارے میں سوچا جا رہا تھا، جس کے شواہد شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس (BRICS) وغیرہ کے قیام کے اغراض و مقاصد میں بھی موجود ملتے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم (Shanghai Cooperation Organisation – SCO) ایک نسبتاً نئی بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا آغاز 15 جون 2001ء کو شنگھائی (چین) میں کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے یوریشیا (ایشیا اور یورپ) کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے۔
اس تنظیم کے بنیادی مقاصد اور ترجیحات میں علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے رکن ممالک کے درمیان سرحدوں کی حفاظت، عدم اعتماد کا خاتمہ اور باہمی سلامتی کو یقینی بنانا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ جدید دور کی تین بڑی برائیوں (Three Evils)، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی، کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی مل کر کام کرنے پر متفق ہوئے۔ لیکن جلد ہی تنظیم کے مقاصد وسیع تر ہو گئے اور کہیں زیادہ بڑے آزادانہ معاشی و تجارتی تعاون میں ڈھل گئے، جن میں توانائی، مواصلات اور اقتصادی شراکت داری وغیرہ کو فروغ دینا شامل ہے۔
رکن ممالک کے درمیان اعتماد، بھائی چارے اور دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانا بھی اہم قرار پایا۔ اس لیے ثقافتی اور عوامی روابط بڑھانے اور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی تبادلے اور تعاون کو بڑھانا ضروری قرار دیا گیا، تاکہ عالمی سطح پر یکطرفہ غلبے کے بجائے اقوام متحدہ کے اصولوں پر مبنی کثیرالجہتی اور منصفانہ بین الاقوامی سیاسی و معاشی نظام کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
برکس (BRICS) کے نام سے دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی ایک اہم تنظیم 2006ء میں بنائی گئی تھی۔ ابتدا میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، جبکہ 2010ء میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد اسے ’’BRICS‘‘ کہا جانے لگا۔
جنوری 2024ء میں اس تنظیم کی مزید توسیع ہوئی اور مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ اب یہ تنظیم برکس پلس (BRICS Plus) ہے اور دنیا کی مجموعی آبادی کے تقریباً 45 فیصد اور عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے زائد حصے کی نمائندہ ہے۔
اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں دنیا بھر میں معاشی اصلاحات کرنا تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک وغیرہ تمام ممالک کے لیے برابری کے اصول اپنائیں، عالمی تجارت مقامی کرنسیوں میں ممکن ہو سکے اور دنیا کی تجارت کا ڈالر پر کلی انحصار ختم ہو۔
مزے کی بات ہے کہ ممبر ممالک کے مابین تجارت میں مقامی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کے فروغ کو تسلیم کرنے والوں میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے میں شامل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ترین ممالک بھی شامل ہیں اور ان ملکوں نے چین کے یوآن میں کاروباری معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ممبر ممالک نے 2014ء میں باہم مل کر ایک نیا ترقیاتی بینک (New Development Bank – NDB) بھی قائم کر لیا، جو ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی کثیرالجہتی (Multipolarity) عالمی نظام قائم کرکے دنیا میں کسی ایک ملک یا چند ملکوں کے بلاک کے یکطرفہ غلبے کو ختم کرنا بھی برکس کا بنیادی مقصد ہے، جس سے ممبر ممالک سرمائے کی ترسیل، توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت وغیرہ میں تجارتی رکاوٹوں کو دور کرکے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو فروغ دینے پر متفق ہیں۔
وہ مشترکہ عالمی چیلنجز، کلائمیٹ چینج، فوڈ سکیورٹی اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت تبادلۂ خیال اور مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی اتفاق کرتے ہیں۔
پاکستان نے برکس پلس کا ممبر بننے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ دنیا کے کم و بیش بیس دیگر ممالک بھی اس تنظیم کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں شرکت کے خواہش مند ہیں۔
اس تناظر میں یہ ایک تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ چین میں مشترکہ اجتماعی پالیسی پر بیسویں صدی کے آخر میں ہی سوچ بچار شروع ہوگئی تھی اور دوسرے یہ کہ 2013ء میں صدر شی جن پنگ نے اسے ایک واضح رخ عطا کیا اور ان پرانی قائم شدہ بین الملکی تنظیموں اور بلاکوں کی پالیسیاں بھی اس سے ہم آہنگ ہونے لگیں جن میں چین بطور ایک اہم ممبر یا پارٹنر کے شامل تھا۔ آسیان بھی اسی طرح کی ایک بہن الاقوامی تنظیم ہے
آسیان (Association of Southeast Asian Nations) کا قیام اگرچہ 1967ء میں عمل میں آیا اور چین اس کا ممبر نہیں ہے؛ آسیان (ASEAN) اور چین کے درمیان روابط کا باضابطہ آغاز 1991ء میں ہوا، اور گزرے برسوں میں یہ ایک اسٹریٹجک اور جامع معاشی شراکت داری میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ چین کو 1996ء میں اس کا باقاعدہ ڈائلاگ پارٹنر تسلیم کر لیا گیا۔
اگرچہ چین آسیان کا مکمل رکن نہیں ہے، کیونکہ اصولی طور پر آسیان کے ارکان صرف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہی بن سکتے ہیں، تاہم 1997ء میں پہلی آسیان۔چین سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ سرد جنگ کے بعد مشرقی ایشیائی بحران کے دوران چین نے علاقائی معیشتوں کی حمایت کی۔
آسیان اور چین کے تعلقات کے 30 سال مکمل ہونے پر تعلقات کو اعلیٰ ترین سطح، یعنی ’’Comprehensive Strategic Partnership‘‘، کا درجہ دیا گیا اور چین آسیان کا سب سے بڑا تجارتی حصہ دار بن گیا۔ اب چین نے آسیان کے ساتھ مل کر ’’ریجنل جامع معاشی شراکت داری‘‘ (RCEP) تشکیل دی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا آزادانہ تجارتی معاہدہ ہے۔
چین صدیوں سے اپنی قدیم تہذیبی زندگی اور وافر قدرتی وسائل کی بنا پر دنیا کے دیگر ممالک کے لیے معاشی و تجارتی کشش کا باعث رہا ہے، جس کے شواہد معروف تاریخی سیاح مارکو پولو کے سفرنامے اور دیگر تاریخی کتب میں موجود ہیں۔ قدیم ادوار میں شاہراہِ ریشم (Silk Road) چین کو دنیا کے دیگر علاقوں سے ملاتی تھی۔ عہد حاضر میں چین کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت نے اس کا متبادل ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ (Belt and Road Initiative – BRI) کی صورت میں تعمیر کرنے میں دیکھا، جو قدیم روایتی شاہراہِ ریشم سے کہیں زیادہ وسیع تر تصور پر محیط ہے۔ بی۔آر۔ آئی کا آغاز صدر شی جن پنگ کی مذکورہ تقریر کے بعد 2013ء میں چین کی نو تشکیل شدہ اجتماعی سلامتی کی پالیسی کی واضح جہت نمائی کے بعد کیا گیا تھا۔ پاکستان میں سی پیک (CPEC) بی آر آئی کا ایک اہم حصہ ہے ؛ گویا صدر شی جن پنگ کے اجتماعی عالمی سلامتی کے تصور کی تجسیم کے عمل کا آغاز’’ایک سڑک، ایک بیلٹ‘‘ (One Road One Belt)، ایک بیلٹ یا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI)
منصوبہ سے ہوا، جس میں آسیان ممالک کو شامل کیا جا چکا ہے اور ان ممالک کے ساتھ اپنے پرانے تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں اب موزوں لگتا ہے کہ مشترکہ اجتماعی سلامتی (Collective Security Policy) کے اس تصور اور اس کے ارتقاء کی مختصر وضاحت کد دی جائے، جس کے بنیادی عناصر کم و بیش حسبِ ذیل ہوں گے:
1۔ دنیا کے تمام ممالک کی سلامتی کے احترام پر زور دیا گیا تھا؛ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کسی ایک ملک کی سلامتی کسی دوسرے ملک کی سلامتی کی قیمت پر حاصل نہیں ہونی چاہیے۔
2۔ اس میں ایک جامع نقطۂ نظر اپنانے پر بھی اصرار کیا گیا تھا تاکہ دنیا کو روایتی خطرات (جنگوں، ایٹمی ہتھیار کے استعمال) اور غیر روایتی خطرات (غربت، موسمی تبدیلی، وبائی اور مہلک امراض وغیرہ) دونوں سے نمٹنے کو ازحد ضروری قرار دیا گیا۔
3۔ بین الاقوامی باہمی تعاون کو دنیا کے مسائل کے حل کی اساس سمجھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، کیونکہ طاقت کے استعمال یا اقتصادی و سیاسی پابندیوں کی بجائے سیاسی اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے طریقے تلاش کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
4۔ اسی طرح پائیدار عالمی سلامتی کا اہم ترین مقصد حاصل ککرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق دنیا بھر سے عدم استحکام کی جڑوں کو اکھاڑنے کے لیے صرف باہمی تعاون سے تمام ملکوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو استعمال کیا جانا چاہیے۔
5۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ چارٹر کے تسلیم کردہ اصولوں پر منحصر کثیرالجہتی سوچ کی اہمیت کو تسلیم کرکے اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنا بہت اہم ہے اور ’’سرد جنگ کی ذہنیت‘‘ اور خصوصی اتحادوں کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
6۔ تمام بڑے اور چھوٹے، طاقت ور اور کمزور ممالک کی (Sovereign Equality) کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے، کیونکہ باہمی اعتماد صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جو عالمی ترقی اور امن کی بنیاد ہوگا۔
کوئی بھی فلسفہ اور پالیسی مؤثر عملی اقدامات کیے بغیر محض ایک ہوائی قلعہ ہوتی ہے؛ یہ بات اہلِ چین اچھی طرح جانتے ہیں، اس لیے چینی حکومت نے فعال سفارتی اور اقتصادی کوششوں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ (BRI) اور دیگر مذکورہ تنظیموں کے ذریعے اجتماعی سلامتی کی اپنی پالیسی کو مسلسل آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔۔۔
اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے جو صبر و استقامت اور تحمل (Restraint) ایک ذمہ دار ریاست کو درکار ہوتا ہے، چین نے مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران (Crisis) میں اس کا مکمل اظہار کیا ہے اور شدید عالمی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود کھل کر کسی قضیے کا فریق نہیں بنا، بلکہ متحارب فریقوں پر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کا بالواسطہ دباؤ ڈالتا رہا ہے۔
یار لوگوں نے نئی سیال عالمی صورتِ حال میں چین پر امریکہ کی طرح دنیا کا رہنما (World Leader) بننے کا میسر شدہ موقع نہ گنوانے کی بہت دہائی دی اور بہت دانت پیسے؛ حق کا ساتھ دینے کے لیے بہت للکارا بھی، لیکن مملکتِ چین کے بظاہر ٹھنڈے ٹھار رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔۔۔ اور اب جب غیر جانب دار مبصرین ایران، امریکہ/اسرائیل جنگ میں امریکہ کی شکست کی بات کر رہے ہیں تو چین کی (علاقائی و عالمی) باہمی سلامتی پالیسی کی اہمیت مزید کھل کر سامنے آ رہی ہے۔
اب لگتا یہ ہے کہ مریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائیسلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟
(ایران؛ امریکہ/اسرائیل جنگ کے بعد اجتماعی سلامتی/Collective Security کے تصور کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جس پر ایک الگ آرٹیکل لکھنے کا ارادہ ہے۔)
اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
ایڈیٹر1 Views

