ایران، امریکہ/اسرائیل جنگ میں یاران سرپل اور میڈیا والے اپنا زور خطابت دکھاتے رہے کہ امریکہ/اسرائیل کی ایران کے ساتھ مسلط کی گئی جنگ سے پوری دنیا کی معاشی صورت حال اتھل پتھل ہو گئی ہے ساری دنیا کے ممالک اپنا اپنا ردعمل دیتے رہے، پاکستان اور کئی دیگر ملک بیچ بچاؤ کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش میں امریکہ اور ایران سے منت ترلا کرتے رہے لیکن دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین اس بارے میں اپنا واضح مؤقف اور ردِعمل دینے سے قاصر کیوں ہے اور وہ کیوں امن قائم رکھنے کی رسمی سی اپیلیں ہی کرکے کیوں رہ گیا؟
دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے ،سفید ریچھ (روس) سویت یونین کی ایمپائر ڈھے جانے کے بعد ایک بار پھر یوکرین میں خود اپنی ہی لگائی آگ میں جھلس رہا ہے لیکن چینی اپنا کاروبار بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں اور چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ بس کبھی ایک سنبھلا سنبھلا سا امن پسندانہ بیان دے دیا اور بس! یہ بات ہمارے حریت پسند دانشور کس طرح برداشت کر سکتے تھے اس لئے “حقیقت پسندانہ” تبصروں کی بھرمار شروع ہو گئی ۔
لیکن چین نے پھر بھی سکوت اختیار کیے رکھا اور دنیا کے ان دانشوروں کو محض اندازے لگانے کی کھلی چھوٹ دیے رکھی جو اس کی عالمی بھائی چارے اور اجتماعی سلامتی کی پالیسی کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بات تک کرنے کو تیار نہیں تھے اور یوں دراصل چینی۔ "تمہارے لئے تمہاری راہ اور ہمارے لئے ہماری راہ” پر عمل کررہے ہیں۔
بہر حال یہ عمومی ’’روایتی دانشوری‘‘ کا ایک عبرت انگیز نظارہ تھا جس سے دنیا واقف ہے، نیو لبرل دانشوری کا یہی المیہ ہے کہ وہ کسی متبادل فکر میں اپنی بقا دیکھتی ہے، اس لئے چین کی ظاہری خاموشی کو ۔ لبرل مغربی دانش ور وں اور ان کے متاثرین نے اپنے من پسند معنی کا جامہ پہنا کر اس کی خوب نمائش کی ۔ ہندوستانی دفاعی و سکیورٹی تجزیہ کار پروین ساہنی ان معدودے چند افراد میں سے ہیں جو بارہا چین کی اس اجتماعی سلامتی پالیسی کا بار بار تذکرہ کرتے رہے، لیکن یار لوگوں نے زعمِ دانشوری میں اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی کیونکہ ان کے پاس نامور نیو لبرل مغربی مصنفین کی بیسٹ سیلر کتابوں کے حوالے موجود ہیں جن سے ان کا کاروبار خوب چلتا ہے۔
یہاں چینیوں سے خود اپنا تقابل کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اہلِ چین ہماری طرح کشف و الہام پر یقین کئے رکھنے کی بجائے خود اپنے ہاتھ پاؤں چلا نے پر بھروسہ کرتے ہیں؛ لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہم اہل یقین لوگ ہیں اور ہمارے اہلِ اقتدار کشف و الہام پر ہمارے اس یقین سے فائیدہ اٹھانے کا ہنر جانتے ہیں اس لئے خود ساختہ کرائسز کے دنوں میں انھیں بس ایک لمحے میں اچانک کچھ کشف ہوتا ہے اور وہ ’’اپنے “عزیز ہم وطنوں‘‘ کو کسی بڑی اور انقلابی تبدیلی کی نوید سنا کر چپکے رہ کر انتظار کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور ہم تقریباً باجماعت ہو کر انتظار میں بیٹھے رہ جاتے ہیں اگرچہ ہر بار متوقع نوید، وعید کا روپ دھار کر ہمارا منہ چڑاتی ہے، اب تو اس معمول کی ہمیں عادت ہو گئی ہے۔
چین والے ہم جیسے نہیں وہ کچھ الگ ہی لوگ ہیں، وہ بات کہنے سے پہلے اس کی اچھی طرح مین میخ نکال چکے ہوتے ہیں۔ اس لئے صدر شی جن پنگ نے جب 2013 میں دنیا کی اجتماعی سلامتی کی بات شروع کی تو ان کا یہ عمل بھی کوئی اچانک کشف نہیں تھا کہ جس پر ایک چین نے یقین کر لیا۔ برسوں پہلے سے اس بارے میں سوچا جا رہا تھا، جس کے شواہد شنگھائی تعاون (SCO)برکس تنظیم اور (BRICS) وغیرہ کے قیام کے اغراض و مقاصد میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ہم بھی سندھ وادی کی پانچ ہزار سالہ تہذیب کے آثار کی خوب نمائش کرتے ہیں لیکن چینیوں کا معاملہ ہم سے بہت الگ ہے، وہ بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کے وارث اور امین ہیں لیکن وہ چین میں سوشلسٹ/ کمیونسٹ انقلاب کے بعد اپنی ہزاروں سالہ تہذیب کی رنگارنگ وراثت سے منحرف نہیں ہو گئے، ( خود اپنا معاملہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں)۔ اس لیے ہم چین کے صدر شی جن پنگ کے خطاب کو دیکھیں تو ہمیں اس میں (جس کا تفصیلی ذکر آگے آتا ہے) میں جگہ جگہ چین کی تاریخی، تہذیبی اور لوک دانش کے بے ساختہ حوالے موجود ملیں گے بہرکیف اس کی روایتی دانش کی دنیا معترف ہے خود چین کے صدر کی تقریر میں اس دانش کا مظاہرہ فطری ہے۔ وہ اپنی قدیم تاریخ اور تہذیب کی گہرائیوں اور وسعتوں کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کا کھل کر اعتراف بھی کرتے ہیں۔۔۔ ہمارے اصل (اور کٹھ پتلی) رہنماؤں کی طرح ان کا حافظہ ایک طوطے جیسا نہیں کہ وہ میاں مٹھو کی طرح محض چند گھسی پٹی، رٹی رٹائی باتیں اگلتے اور دہراتے رہیں ۔۔۔ طوطا پالنے والے یہ جانتے ہوں گے کہ طوطے کی یادداشت اپنے مالکوں کے منہ سے نکلی چند سطحی باتوں کے رٹے تک ہی محدود رہتتی ہے اور یہ کہ طوطا زمان و مکاں کے ایک بہت محدود دائرے کے اندر ہی کچھ یاد رکھ پاتا ہے حتیٰ کہ وہ خود اپنے پنجرے/ٹھکانے سے بھی ادھر ادھر ہو جائے تو وہ اپنی جگہ کی پہچان ایک بہت محدود فاصلے کی حدوں کے اندر ہی یاد رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ اپنے اس دائرے سے باہر نکل جائے تو پھر اس کے لیے وہاں واپس آنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔۔۔ اس لیے طوطے جیسی یادداشت رکھنے والے ہمارے رہنماؤں کو بھی دوسروں کو راستہ دکھانے کے زعم میں اقتدار کی ہواؤں میں لمبی اونچی اڑان بھرتے ہوئے خود اپنے اصل ٹھکانے اور ساتھی تک بھول بھال جاتے ہیں ۔۔۔
لیکن ہم چین کے صدر کے سوچے سمجھے خطاب کی بات کر رہے تھے، جس میں مملکتِ چین کی طرف سے دنیا کے سبھی ممالک کے لیے ایک مشترکہ اجتماعی تحفظ (Collective Security) کے بنیادی اصول سامنے آئے، جن پر چین آج تک سختی سے عمل کرتا دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔ صدر شی جن پنگ نے یہ خطاب 23 مارچ 2013ء کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا غیر ملکی دورہ کرتے ہوئے ماسکو، روس کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے، ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (MGIMO)، میں کیا تھا جس میں انھوں نے چین کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں چند بہت بنیادی باتیں کہی تھیں جو مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات کا ایک نیا رخ متعین کرنے والی تھیں۔
انھوں نے نئے دور کے بین الاقوامی معاملات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ دوستو! ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو تیزی سے بدل رہی ہے۔ اگر ہم دنیا کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں چند اہم حقائق واضح نظر آتے ہیں:
۔1۔ باہمی جڑت (Inter-connectivity): آج دنیا کے تمام ممالک باہم اس حد تک جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اس قدر انحصار کرتے ہیں کہ جس کی ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہم سب تاریخ اور حقیقت کے سنگم پر، ایک ہی عالمی بستی (Global Village) میں، ایک ہی وقت اور فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔
۔2۔ مشترکہ تقدیر: ہم بہت تیزی سے ایک ایسی کمیونٹی بنتے جا رہے ہیں جہاں ہمارے مفادات اور مستقبل مشترک ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کوئی ایک ملک باقی دنیا سے الگ تھلگ رہ کر یا پھر (پرانے نو آبادیاتی ماڈل پر،) دوسروں کی قیمت پر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔
3
پرانی سوچ کی نفی: اگر ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہے تو ہم جسمانی طور پر اکیسویں صدی میں رہ کر ذہنی طور پر ماضی میں قید نہیں رہ سکتے۔ ہمیں استعماری پھیلاؤ کی پرانی سوچ، سرد جنگ کی ذہنیت (Cold War Mentality)، اور ’زیرو سم گیم‘ (Zero-sum Game) کے فرسودہ نظریات کو خیرباد کہنا ہوگا۔‘‘
انھوں نے نئے زمانے میں نئے انداز کے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد نئے سرے سے استوار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ: “ دنیا کے تمام ملکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ مشترکہ طور پر (نئے) عالمی اصول مرتب کریں، بین الاقوامی امور کو باہمی مشاورت سے چلائیں، اور ترقی کے ثمرات کو دنیا کے سب لوگوں تک پہنچائیں۔ چین بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ ’باہمی تعاون اور مشترکہ فائدے اور تعاون‘ (Win-Win Cooperation) کو بنیاد بنا کر ایک نئے طرز کے بین الاقوامی روابط استوار کیے جائیں۔‘‘
صدر شی جن پنگ نے اس مشترکہ باہمی تعاون و مفاد کا مقصد حاصل کرنے کے لیے درجِ ذیل امور کو ضروری قرار دیا کہ:
دوسرے ملکوں کی ودمختاری کا احترام کیا جانا ضروری ہے؛ اور ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملکی حالات اور قومی مفاد کے مطابق اپنے سیاسی نظام اور ترقی کے راستے کا انتخاب خود کرے۔ کسی بھی ملک کو دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔۔ انہوں نے کہا کہ مشہور مقولہ ہے کہ ’’صرف جوتا پہننے والا ہی یہ جان سکتا ہے کہ جوتا اس کے پاؤں میں فٹ بیٹھ رہا ہے یا چبھ رہا ہے۔‘‘ بالکل اسی طرح، کسی ملک کے ترقی کے راستے کا تعین صرف وہاں کء عوام ہی کر سکتے ہیں، کوئی بیرونی طاقت نہیں۔
چین کے امن و ترقی کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا تھا: ” میں یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چین پختہ عزم کے ساتھ پرامن ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا۔ (لیکن) چین کی ترقی دنیا کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ ایک موقع ہے۔ چین جیسے جیسے ترقی کرے گا، وہ عالمی امن کی بقا اور دنیا کی مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنا تعمیری کردار مزید بڑھاتا رہے گا۔‘‘
اپنے اس خطاب کا اختتام انھوں نے بڑے دلچسپ اور شاعرانہ انداز میں کیا تھا۔ انھوں نے کہا: “میں اپنے خطاب کا اختتام روس کی ایک مشہور کہاوت اور ایک چینی نظم کے مصرعوں پر کروں گا:
روسی کہاوت ہے: ’ایک بڑا جہاز ہمیشہ دور تک کا سفر طے کرتا ہے۔‘ اسی طرح ایک چینی شاعر کا کہنا ہے کہ: “ایک دن میں تیز ہواؤں پر سوار ہو کر بھاری لہروں کو چیر دوں گا، اور اپنے بادل جیسے بادبانوں کو سیدھا کر کے گہرے سمندر پر پل بنا دوں گا”۔‘
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ صدر عوامی جمہوریہ چین کا یہ ایک سوچا سمجھا خطاب تھا جس میں بہت طویل غور و فکر کے بعد مستقبل کی دنیا کے لیے ایک نئے نظام کے ابتدائی نقوش ابھارے گئے تھے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا کے اہلِ علم و دانش ان کو پُرامید نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور اب ان کا کھل کر ذکر بھی کرنے لگے ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ کے مذکورہ خطاب میں مشترکہ اجتماعی بین الاقوامی سلامتی کے ابتدائی خدوخال ابھر کر سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد مملکتِ چین کی ایک واضح پالیسی سامنے آنے لگی۔ اسی باعث چین دنیا کے جھگڑوں، مناقشوں اور جنگوں سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کے جتن کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ وینزویلا جیسے بڑے تجارتی شراکت دار پر امریکی دار اندازی اور اس کے صدر کے اغوا پر چین کی خاموشی دنیا کے لئے حیران کن رہی آور اب ایران پر امریکی اسرائیلی حملے پر اس کا بے حد محتاط رویہ بھی بظاہر پریشان کن لگتا ہے لیکن یہ چین کا سرد جنگ کے دنوں کی محاذ آرائیوں سے بچنے کی پالیسی کا آئہنہ دار ہے جس کے بہتر نتائج ابھی مستقبل کے دھندلکے میں چھپے ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب!
بہت حال ہمارے خیال میں چین کی اس پالیسی کو سمجھنے کے لیے اس کے عملی اور ادارہ جاتی اظہار کو دیکھنا اور جانچنا ضروری ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم، برکس، اور آسیان وغیرہ کے ساتھ چین کے تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) اسی وسیع تر سوچ کے مختلف پہلوؤں کے طوو پر دیکھے جانے چاہئیں !
(اجتماعی سلامتی کی پالیسی پر چین کی حکمت عملی کی مشکلات اور امریکہ، ایران کے حوالے سے مکالمہ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اس لئے بات ابھی جاری ہے انشاللہ)

