پیاری امی جان محبت بھرا سلام قبول کیجئے ۔۔
آج اٹھائیس اگست ہے اور آج میں آپ کے نام ایک اور خط تحریر کر رہا ہوں ۔ آپ بھی سوچ رہی ہوں گی کہ رضی نے دوبارہ مجھے یاد ہی نہیں کیا ۔۔ لیکن امی جان آپ تو بہتر جانتی ہیں کہ آپ کے ساتھ میرا کم و بیش روز مکالمہ ہوتا ہے ۔۔دن بھر کی مصروفیات کے دوران بھی آپ کا چہرہ بارہا نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے اور دوستوں کے ساتھ مکالمے کے دوران بھی میں بارہا آپ کی کوئی بات ، کوئی جملہ ان کے ساتھ دہراتا رہتا ہوں ۔۔میں نے یہ خط اٹھائیس اگست کو اس لیے لکھا کہ آج آپ کی جدائی کے نو ماہ مکمل ہو گئے ۔ اور ان نو ماہ میں آپ کو بارہا یاد کیا ۔۔ میں اس وقت بھی آپ کے کمرے میں بیٹھا ہوں اور یہ کمرہ ہی اب میرا مسکن ہے ۔ یہ کمرہ آپ کی بنائی ہوئی ترتیب کے ساتھ آج بھی آپ کی یادوں کے حوالے سے مہکتا ہے سامنے وہی وال کلاک ہے جو خراب ہو جاتا تو آپ اصرار کرتی تھیں اسے ٹھیک کراؤ یہ تمہاری خالہ نے اس گھر میں آنے پر تحفہ دیا تھا ۔۔ وہ کلاک اب نہیں چلتا ، خالہ کے جیون کی ساعتیں بھی باقی نہ رہیں تو کلاک کیا ٹھیک کرانا ۔ بس آپ کی محبت میں آویزاں رہے گا ۔۔ آپ کے دائیں جانب جو شوکیس تھا اس میں ابو کی تصویر اور کچھ برتن اسی طرح موجود ہیں ۔۔ الماری کے اوپر سورۃ یٰسین کا طغریٰ ہے ۔ بائیں جانب والی الماری کے اوپر خطاطی کے فریم آویزاں ہیں جو نام ور خطاط راشد سیال اور غلام فرید بھٹی صاحب نے دیئے تھے ۔۔
امی جان میں رات کو سونے سے پہلے آپ کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں بند کرتا ہوں اور جب کبھی مجھے نیند نہیں آتی تو آپ کو آواز دیتا ہوں اور پھر نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہوں ۔۔
کئی بار کمرے سے آپ کی آواز اتنی واضح سنائی دیتی ہے کہ ہڑ بڑا کر جاگ اٹھتا ہوں ۔۔ گمان ہوتا ہے کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے ۔۔ لیکن پھر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔۔ مجھے خوشی ہے میں نے آپ کو خواب میں جب بھی دیکھا مسکراتے ہوئے اور اپنے مخصوص انداز میں قہقہے لگاتے دیکھا ۔۔ایک مرتبہ دیکھا کہ آپ طاہر اوپل ، چچی زمرد اور چچا ظہیر کے ساتھ بیٹھی ہیں ۔ ایک مرتبہ کینٹ والے گھر کے منظر میں آپ کو دیکھا ۔۔
دو تین مرتبہ میں نے خواب میں آپ کو بورے والا کے چک 118/ای بی میں نانی اماں اور خالاؤں کے ساتھ قہقہے لگاتے دیکھا ۔۔ یہ ہمارے بچپن کا منظر تھا جب ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے آپ کے ساتھ گاؤں جایا کرتے تھے ۔خالاؤں کے ذکر پر یاد آیا کہ خالہ رضیہ تو آپ کی زندگی میں ہی رخصت ہو گئی تھیں ۔نومبر میں آپ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد خالہ پروین اور نسرین بھی آپ کے پاس پہنچ گئیں ۔۔
گزشتہ نو ماہ کے دوران آپ کو کب کب یاد کیا یہ شمار ہی نہیں کیا جا سکتا ویسے بھی یادیں کوئی اعداد و شمار تو ہیں نہیں کہ جن کا حساب کتاب رکھا جائے ۔۔ ابھی دو ماہ قبل آموں کا سیزن تھا ۔۔ اس دوران جب بھی آم سامنے آئے تو آپ کو بے اختیار یاد کیا کہ آم میری ماں کو بہت پسند تھے ۔ جامن اور فالسے آئے تو آپ یاد آئیں کہ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو کئی برس سے یہ دونوں پھل تجویز کیے گئے تھے ۔۔
اب آج ہی کی بات سن لیں ۔ آج شب ڈاکٹر انعام الحق مسعود صاحب نے شاکر اور قیصر عباس کے اعزاز میں پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا تھا ۔۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو یاد آیا کہ آپ کی علالت کے دوران مشاورت کے لیے انہی سے رابطہ کرتا تھا ۔ وہ آپ کو دیکھنے کے لیے گھر بھی آتےتھے ۔ اب ایک اور خبر بھی سن لیں آپ کو سن کر خوشی ہو گی ۔۔
خبر یہ ہے کہ اس مرتبہ چودہ اگست کو شاکر حسین شاکر اور قیصر عباس صابر کو حکومت نے ایوارڈز دیئے ہیں ۔۔ شاکر کو جب دوہزار دس میں تمغہ امتیاز ملا تو آپ بہت خوش ہوئی تھیں ۔ اور قیصر کو بھی آپ جانتی ہیں جو وکیل ہے ۔۔ آپ کی عیادت کے لیے بھی آتا رہا ۔۔ اور امی جان آج کل قمر رضا شہزاد کی صحت ٹھیک نہیں ۔۔ اس کے لیے دعا کریں ۔
میں نے یہ خط اٹھائیس اگست کو اس لیے لکھا کہ آج آپ کی جدائی کے نو ماہ مکمل ہو گئے ۔ ۔ میں اس وقت بھی آپ کے کمرے میں بیٹھا ہوں اور یہ کمرہ ہی اب میرا مسکن ہے ۔ یہ کمرہ آپ کی بنائی ہوئی ترتیب کے ساتھ آج بھی آپ کی یادوں کے حوالے سے مہکتا ہے سامنے وہی وال کلاک ہے جو خراب ہو جاتا تو آپ اصرار کرتی تھیں اسے ٹھیک کراؤ یہ تمہاری خالہ نے اس گھر میں آنے پر تحفہ دیا تھا ۔۔ وہ کلاک اب نہیں چلتا ، خالہ کے جیون کی ساعتیں بھی باقی نہ رہیں تو کلاک کیا ٹھیک کرانا ۔ بس آپ کی محبت میں لگا رہے گا ۔۔ آپ کے دائیں جانب جو شوکیس تھا اس میں ابو کی تصویر اور کچھ برتن اسی طرح موجود ہیں ۔۔ الماری کے اوپر سورۃ یٰسین کا طغریٰ ہے ۔ بائیں جانب والی الماری کے اوپر خطاطی کے فریم آویزاں ہیں جو نام ور خطاط راشد سیال اور غلام فرید بھٹی صاحب نے دیئے تھے ۔۔
آج یہ خط صرف اپنی بے چینی دور کرنے کے لیے تحریر کیا ہے شاید اسی طرح میں آج کی شب سکون کے ساتھ سو سکوں گا۔۔
آپ کا بیٹا
رضی
اٹھائیس اگست دو ہزار چھبیس
اتوار, اگست 30, 2026
تازہ خبریں:
- امی جان کے نام رضی الدین رضی کا ایک اور خط
- رضی الدین رضی کے خط کا امی جان کی طرف سے جواب : شہزاد عمران خان کا کالم
- ڈاکٹر فخر عباس ، مریم نواز اور لاہور سے محبت : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- شُرلی، پٹاخہ اور بم ۔۔ بلوُ راکٹ کی کہانی : سہیل ورائچ کا کالم
- ناروے کے عوامی بادشاہ کا انتقال :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پمز سانحہ،عمران خان اور دل کو تسلّی دینے کی کوشش : نصرت جاوید کا کالم
- خواب بیچنے والے آن لائن فراڈیوں کی کہانی : کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- نواز شریف نے الیکشن ہارنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کر دیا
- عہدِ حاضر ، جین زی کی بگڑتی عادات اور والدین کی ذمہ داریاں : پروفیسر صابر جروار کا کالم
- 14نومولود بچے جاں بحق ۔۔ ذمہ دار کوئی نہیں: سید مجاہد علی کا تجزیہ

