بات اُن دنوں کی ہے جب موبائل فون نہیں تھے اور سفر میں آدمی کے پاس دو ہی مشغلے ہوتے تھے، کھڑکی سے باہر دیکھنا یا ساتھ والے مسافر سے بات کرنا۔ میں لاہور سے کراچی جا رہا تھا۔ دسمبر کا مہینہ تھا، ڈبے میں سردی تھی، اور ٹرین اپنی روایتی سُستی کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔ میرے سامنے والی نشست پر ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ سادہ سا کوٹ پہنے اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چاقو لیے وہ اطمینان کے ساتھ ایک مالٹا چھیل رہے تھے۔ چھیلنے کا انداز ایسا تھا جیسے یہ کوئی عبادت ہو۔ انہوں نے مالٹے کی ایک قاش میری طرف بڑھائی جو میں نے لے لی۔ اور اس ایک قاش کی وجہ سے وہ گفتگو شروع ہوئی جو تیس سال بعد بھی میرے ساتھ ہے۔ میں نے حسبِ عادت پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ کہنے لگے، ”پینتیس سال محکمۂ آبپاشی میں نوکری کی ہے۔ اب ریٹائرڈ ہوں۔“ میں نے دل میں سوچا کہ سفر بورنگ گزرے گا۔ اور یہ اس سفر کا واحد اندازہ تھا جو غلط ثابت ہوا۔ امریکی ایک فقرہ بولتے ہیں Let ’s cut to the chase سو ہم بھی یہی کرتے ہیں اور آپ کو بوریت سے بچانے کے لیے اُس گفتگو کو چھوڑ دیتے ہیں جو میرے اور اُس بابے کے درمیان جان پہچان بنانے کے لیے ہوئی۔ باتوں باتوں میں پتا بھی نہ چلا اور گفتگو میرے پسندیدہ موضوع پر آ گئی۔ ویسے بھی اجنبی سے بات کرنا دراصل اپنے آپ سے بات کرنے کی سب سے آسان صورت ہے، سو میں نے پہلا سوال داغ دیا۔
”بزرگو، ایک بات بتائیں۔ دنیا میں اتنا دکھ کیوں ہے؟ خدا چاہتا تو ایک خوش دنیا بھی بنا سکتا تھا۔ ایسی دنیا جہاں کوئی بھوکا نہ ہوتا، کوئی بیمار نہ ہوتا، کوئی ماں اپنے بیٹے کا جنازہ نہ اٹھاتی۔ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟“
انہوں نے مالٹے کی ایک اور قاش الگ کی اور بولے، ”میں عالم نہیں ہوں، نہ عالم بننے کا شوق ہے۔ میں نے ساری عمر پانی کا حساب رکھا ہے۔ سو میں تمہیں پانی کی زبان میں بتاتا ہوں۔ نہر کیوں بہتی ہے؟“
”ڈھلان کی وجہ سے۔“
”ٹھیک۔ اب ایک نہر کا تصور کرو جس میں ڈھلان نہ ہو۔ بالکل ہموار۔ کیا ہو گا؟“
”پانی کھڑا ہو جائے گا۔“
”اور کھڑا پانی کچھ عرصے بعد کیا بن جاتا ہے؟“
میں چپ رہا۔
”بدبودار،“ انہوں نے کہا۔ ”زندگی بھی ایک نہر ہے۔ اگر اس میں ڈھلان نہ ہو، یعنی کوئی کمی نہ ہو، کوئی طلب نہ ہو، کوئی خطرہ نہ ہو، تو زندگی رکے گی نہیں، سڑے گی۔ ایک ایسے جزیرے کا تصور کرو جہاں سب برابر کے مالدار ہوں، کوئی بیمار نہ پڑے، کوئی کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے، اور ہر شخص ایک مقررہ عمر میں آرام سے مر جائے۔ بتاؤ وہاں کیا ہو گا؟“
میں نے کچھ دیر سوچا۔ بات میں وزن تھا۔ ”مگر بزرگو یہ دلیل ایک حد تک ٹھیک ہے۔ تھوڑی سی تکلیف آدمی کو تراشتی ہے، مانا۔ مگر اتنی زیادہ کیوں؟ اور دوسری بات، جو دکھ انسان خود دیتا ہے اس کا کیا؟ کروڑوں لوگ مذہب کے نام پر قتل ہوئے۔ خدا نے روکا کیوں نہیں؟ آخر وہ لوگ اسی کے نام پر تو لڑتے ہیں۔“
”بیٹا، جس دن خدا لوگوں کو غلط کام کرنے سے زبردستی روک دے، اس دن ان کے صحیح کام کی قیمت بھی ختم ہو جائے گی۔ فرشتے حکم مانتے ہیں، وہ نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، اسی لیے فرشتے کی نیکی پر کوئی انعام نہیں ہوتا۔ جو نیکی مجبوری سے ہو وہ نیکی نہیں، مشین کا چلنا ہے۔ جو محبت اختیار کے بغیر ہو وہ محبت نہیں، ایک پروگرام ہے۔ اختیار کی قیمت یہی ہے کہ آدمی غلط بھی چن سکتا ہے۔“
”مگر وہ خدا کے لیے لڑتے ہیں۔“
”وہ اپنے لیے لڑتے ہیں،“ انہوں نے کہا، ”اور بل خدا کے نام پر بھیج دیتے ہیں۔ کسی کے نام کا استعمال اس کی منظوری نہیں ہوتا۔ تم نے کبھی دیکھا ہے کہ ٹھیکیدار سرکاری بورڈ لگا کر غلط پُل بنا دیتا ہے؟ بورڈ سرکار کا ہوتا ہے، پُل ٹھیکیدار کا۔ اور جب پُل گرتا ہے تو لوگ سرکار کو گالیاں دیتے ہیں۔ باقی رہا یہ کہ لوگ ایک دوسرے کے ایمان کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یہ اختیار انہوں نے کسی سے مانگا ہی نہیں تھا۔ وہ خود ہی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں، فیصلہ سناتے ہیں، اٹھ کر چلے جاتے ہیں، اور اوپر صرف اطلاع بھیج دیتے ہیں۔“
میں نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ باہر اندھیرا تھا۔ گاڑی پیرووال اسٹیشن سے گزر رہی تھی۔
”اچھا تو جو زلزلے، سیلاب، طوفان آتے ہیں، ان میں انسان کا اختیار کہاں ہے؟ وہ بچے جو سکول کی چھت کے نیچے دب گئے، انہوں نے کون سا اختیار غلط استعمال کیا تھا؟“
بزرگوار نے چاقو بند کیا اور پہلی بار سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
”دو باتیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ کائنات قانون پر چلتی ہے۔ پتھر ہر بار نیچے کی طرف گرتا ہے۔ پانی ہر بار نشیب کی طرف بہتا ہے۔ زمین کی تہیں کھسکتی ہیں تو زمین ہلتی ہے۔ اب فرض کرو ہر گرتی ہوئی اینٹ کے نیچے کوئی ہاتھ رکھ دے اور ہر بہتے ہوئے پانی کو راستے میں روک لے۔ اس دن کشش ثقل ختم ہو جائے گی۔ اور جس کائنات کے قانون ہر لمحے بدلتے ہوں، اس میں سائنس تو دور کی بات ہے، بھروسا بھی ممکن نہیں رہتا۔ تم صبح گھر سے یہ سوچ کر نکلتے ہو کہ سڑک وہیں ہو گی جہاں کل تھی۔ یہ اطمینان اسی سختی کی دین ہے جس پر تم شکایت کر رہے ہو۔“
”اور دوسری بات؟“
”دوسری بات یہ ہے کہ زلزلہ عمارت نہیں گراتا۔ ناقص عمارت گرتی ہے۔“ وہ ذرا آگے جھکے۔ ”میں نے پینتیس سال پانی کا محکمہ دیکھا ہے۔ سیلاب ہر سال آتا ہے، ہر سال۔ یہ کوئی خبر نہیں ہے، یہ ایک موسم ہے۔ سوال یہ ہے کہ بند کس نے کمزور بنایا، پیسہ کہاں گیا، نالے پر مکان کس نے بننے دیا، اور فائل پر دستخط کس کے ہیں۔ ہم اپنی بدانتظامی کو قدرت کا نام دے کر آسمان کی طرف انگلی اٹھا دیتے ہیں۔ یہ سب سے سستا کام ہے اور ہمارے ہاں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔“
”اور جو پھر بھی بچ جاتا ہے؟“ میں نے کہا۔ ”جس کی کوئی توجیہہ نہیں؟“
”اس کے لیے صرف اتنا سوچو۔ تم روز چلتے ہو تو تمہارے پاؤں کے نیچے کتنی چیونٹیاں آتی ہیں؟ تم نے کبھی گنا؟ تمہارے لیے وہ ایک قدم ہے، ان کے لیے ایک قیامت ہے جس کی وہ تشریح نہیں کر سکتیں۔ چیونٹی کے پاس تمہارے قدم کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں، اور یہ اس کی کم عقلی نہیں، اس کے پیمانے کی حد ہے۔ اب تم بتاؤ، کیا تمہارے پاس ہر چیز ناپنے کا پیمانہ موجود ہے؟“
میں نے لاجواب ہونے کی اداکاری کی۔
”اچھا ایک اور بات۔ برے لوگ آرام سے ہیں اور اچھے لوگ ذلیل ہو رہے ہیں۔ جھوٹا ترقی کر رہا ہے، سچا نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ کیا انصاف ہے؟“
”تم میچ کے وقفے میں اسکور دیکھ کر فیصلہ سنا رہے ہو۔ تم کسی کے گھر کے اندر نہیں گئے۔ باہر سے سب مکان ایک جیسے لگتے ہیں۔“
”مگر یہ تو تسلی ہے، انصاف نہیں۔“
ٹرین کہیں رکی۔ چائے والا آواز لگاتا ہوا گزرا۔ انہوں نے دو کپ لیے، ایک میری طرف بڑھایا، اور خود پھونک مار کر پینے لگے۔
”ایک اور الجھن ہے،“ میں نے کہا۔ ”اگر سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے تو پھر کوشش کا کیا فائدہ؟ اور دعا کا کیا فائدہ؟ کیا ہم لکھے ہوئے کو بدلنے کی درخواست دے رہے ہوتے ہیں؟“
”یہ سوال بھی میں تمہیں پانی کی زبان میں سمجھاتا ہوں۔ نہر میں پانی کب چھوڑا جائے گا، یہ میرے ہاتھ میں نہیں تھا۔ یہ اوپر سے طے ہوتا تھا۔ مگر جس دن پانی آیا اس دن میرا کھیت تیار تھا یا نہیں، یہ پوری طرح میرے ہاتھ میں تھا۔ اور بیٹا، میں نے اپنی نوکری میں دو قسم کے کسان دیکھے ہیں۔ ایک وہ جو باری کا انتظار کرتا رہا اور کھیت تیار نہ رکھا۔ جب پانی آیا تو ضائع ہو گیا اور وہ ساری عمر تقدیر کو کوستا رہا۔ دوسرا وہ جو کھیت تیار رکھتا تھا۔ پانی نہ آتا تو بھی وہ مطمئن ہوتا تھا کہ میں نے اپنے حصے کا کام کر لیا۔ تقدیر پانی کا آنا ہے۔ کھیت تیار رکھنا تمہارا کام ہے۔“
میں خاموش ہو گیا۔ آخری سوال باقی تھا اور وہی سب سے بڑا تھا۔ ”موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟“
انہوں نے چائے کا کپ نیچے رکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہا، ”یہ کوئی نہیں جانتا۔“
”یعنی؟“
”یعنی تم خود مر کر دیکھ لو۔ تحقیق کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔“
پھر انہوں نے مالٹے کی ایک اور قاش میری طرف بڑھائی اور کہا، ”اب ایک سوال میں پوچھ لوں؟“
”ضرور۔“
”تم نے مجھ سے جتنے سوال پوچھے سب اوپر والے کے بارے میں تھے۔ ایک سوال بھی اپنے بارے میں نہیں تھا۔ تم نے پوچھا کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ تم نے کسی کا دکھ کم کرنے کے لیے کیا کیا؟ تم نے پوچھا کہ ظلم کیوں نہیں رکتا۔ جو ظلم تمہارے سامنے ہوا اور جہاں تم بول سکتے تھے، وہاں تم کہاں تھے؟“
میرے پاس جواب نہیں تھا۔ ٹرین کسی چھوٹے سے جنکشن پر رک گئی۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا کب وہ شخص اپنا بیگ اٹھا کر کسی چھلاوے کی طرح غائب ہو گیا۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )
جمعرات, اگست 27, 2026
تازہ خبریں:
- ایک اجنبی سے چند سوالات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- نوزائیدہ ریاست، نوزائیدہ بچے اور کمزورطبقات : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- مجھے میرا بچہ واپس کر دو…“ بین کرتی ماں اور ریاست کا ضمیر : شہزاد عمران خان کا کالم
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار

