پمز اسپتال اسلام آباد کے باہر گود خالی ہونے پر ایک ماں کا یہ بین محض ایک فریاد نہیں، اس ریاست کے ضمیر پر ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کسی انکوائری کمیٹی کی نچلی دراز میں بھی نہیں مل سکے گا۔ ایک لمحہ پہلے جو ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو نئی زندگی کی امید میں اسپتال لائی تھی، اگلے ہی لمحے اسے اپنے نومولود کے جلا ہوا وجود ملنے کی خبر سنا دی گئی۔
ابتدائی باتیں وہی ہیں جو ہر حادثے کے بعد سنائی دیتی ہیں—نرسری کے اے سی میں دھماکہ یا شارٹ سرکٹ۔ وفاقی وزیر صحت نے بھی مان لیا کہ شروعات اے سی سے ہوئی، لیکن ساتھ ہی روایتی جملہ جوڑ دیا کہ ”اصل وجہ فرانزک انکوائری کے بعد معلوم ہوگی۔“ وزیراعظم نے نوٹس لیا، سیکریٹری صحت معطل ہوئے اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بن گئی۔ یہ سب کچھ ہم دہائیوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سانحہ ہوتے ہی بیانات کا طوفان آتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، خبریں پرانی ہوتی ہیں اور بالآخر فائلیں داخلِ دفتر کر دی جاتی ہیں۔
یہ المیہ کوئی پہلا نہیں۔ لاہور ہو یا فیصل آباد، ڈیرہ اسماعیل خان ہو یا پتوکی ۔
ہم نے اے سی کمپریسر پھٹنے اور شارٹ سرکٹ کے بعد گھروں کی چھتیں گرتے اور دکانوں کو راکھ بنتے دیکھا ہے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب میں ہی رواں برس آگ لگنے کے 15,000 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد کی بنیادی وجہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ اور اے سی یا گیس آلات کی خرابی تھی۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اس ملک میں آج بھی ایسا کوئی مربوط سرکاری ریکارڈ موجود نہیں جو بتا سکے کہ اب تک اے سی کمپریسرز یا ان کے مخصوص دھماکوں سے کتنی جانیں گئیں اور کتنا نقصان ہوا۔ جب ہمارے پاس مسئلے کی سنگینی اور مخصوص اسباب کا درست اور یکجا اعداد و شمار ہی موجود نہ ہوں، تو مؤثر قانون سازی اور احتساب کیسے ہوگا؟
آج کل ایک نیا مسئلہ گرم ہو رہا ہے۔ نئے اے سی یونٹس میں ماحول دوست مگر جلدی آگ پکڑنے والی ’R-290‘ گیس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں یہ گیس محفوظ سمجھی جاتی ہے، مگر وہاں اس کی تنصیب اور دیکھ بھال کے سخت اصول ہیں۔ ہمارے ہاں جب نقلی کمپریسر، ملاوٹ شدہ گیس، اور غیر تربیت یافتہ ٹیکنیشنز اس کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں، تو ٹھنڈک دینے والی یہی مشین ایک جلتا ہوا بم بن جاتی ہے۔
مگر قصہ صرف اسپتالوں یا گھروں کے اے سی تک محدود نہیں۔
ہماری سڑکوں پر چلتی مسافر وینیں اور رکشے بھی بارود کے ڈھیر سے کم نہیں۔ ہر چند مہینوں بعد کسی وین میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے سے جلی ہوئی لاشوں کی خبریں آتی ہیں۔ ریسکیو کی ٹیمیں آگ پر قابو تو پا لیتی ہیں اور متاثرین کو اسپتال منتقل کر دیتی ہیں، مگر حادثات کی روک تھام کا نظام پھر بھی مفلوج ہی رہتا ہے۔ کچھ دن شور مچتا ہے، ناکے لگتے ہیں، چالان ہوتے ہیں، اور پھر سب کچھ پہلے کی طرح چلنے لگتا ہے۔
قانون کتابوں میں موجود ہے۔ اوگرا واضح طور پر پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر قانونی سلنڈرز کی تنصیب کو جرم قرار دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر قانون ہے تو یہ سلنڈر سڑکوں پر کیسے دوڑ رہے ہیں؟ انہیں کون بیچ رہا ہے، گاڑیوں میں کون لگا رہا ہے، اور انہیں پاسنگ سرٹیفکیٹ کون جاری کر رہا ہے؟ حادثے کے بعد ان سب کے چہرے غائب کیوں ہو جاتے ہیں؟
پمز کے معاملے میں بھی یہی سوالات کھڑے ہیں۔ اگر آگ اے سی سے لگی تو کیا صرف تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ کیا اس بات کا حساب نہیں ہوگا کہ اس اے سی کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا ناقص پرزے استعمال کیے گئے؟ اور اگر یہ سیدھی سیدھی غفلت ہے تو اس کا مجرم کون ہے؟
سچائی یہ ہے کہ ہم حادثے کے بعد ریسکیو کے ذریعے آگ بجھانے میں تو بہت جلدی دکھاتے ہیں، لیکن اس غفلت اور بدعنوانی کی آگ کو بجھانے کی کبھی کوشش نہیں کرتے جو ان حادثات کو جنم دیتی ہے۔ جب تک قانون صرف ایک عام اور کمزور آدمی پر نافذ ہوگا اور بڑے عہدیدار بچتے رہیں گے، تباہی کے یہ سانحات یوں ہی ہمارے دروازوں پر دستک دیتے رہیں گے۔
حکومت کو اب باتوں سے نکل کر کچھ عملی قدم اٹھانے ہوں گے:
اے سی اور ایل پی جی کے تمام حادثات کا ایک شفاف قومی ڈیٹا بیس بنایا جائے۔
ہر حادثے کی فرانزک اور انکوائری رپورٹ کو عوامی طور پر شائع کرنا قانونی طور پر لازمی کیا جائے۔
غیر معیاری گیسوں، جعلی کمپریسرز، غیر قانونی سلنڈرز اور غیر تربیت یافتہ مکینکس کے خلاف مسلسل کارروائی ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، حادثے کے پیچھے چھپی انتظامی غفلت کے اصل ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔
پمز کے باہر روتی ہوئی اس ماں کو شاید اس کا بچہ کبھی واپس نہ مل سکے، مگر اس کی فریاد اس ملک کے نظام سے ایک ہی بات پوچھ رہی ہے: ”مجھے میرا بچہ واپس کر دو۔“
مجھے میرا بچہ واپس کر دو…“ بین کرتی ماں اور ریاست کا ضمیر : شہزاد عمران خان کا کالم
ایڈیٹر7 Views

