یہ کوئی نیا واقعہ نہیں کہ سیاسی مخالفین کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلائی جائیں، البتہ انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی معلومات کا پھیلاؤ اور اس کا ممکنہ طور پر وسیع تر اثر نیا ہے اور ریاستی اداروں، سیاست دانوں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور عوام میں تشویش اور بحث کا مرکز رہا ہے۔ IFES اور انتخابات اور سیاسی عمل کی مضبوطی کے لیے قائم کنسورشیم (CEPPS) میں شامل اس کے شراکت دار معلومات کے بگاڑ (information disorder) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تاکہ معلوماتی ماحولیاتی نظام اور جمہوریت پر اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک تصوراتی خاکہ تشکیل دیا جا سکے۔ معلومات کے بگاڑ کے اس خاکے کے مطابق، "غلط معلومات (misinformation)، جھوٹی اور گمراہ کن معلومات (disinformation) اور بدنیتی پر مبنی معلومات (malinformation) یہ سب اس بگاڑ میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، جسے سیاسی نظاموں اور گفتگو میں معلومات کی سالمیت کے بگاڑ میں معاون سمجھا جا سکتا ہے۔”
مِثال کے طور پر صوبہ پنجاب کے قرضوں کی صورتحال سے متعلق سامنے آنے والی تازہ ترین سرکاری مالیاتی دستاویزات کے مطابق، مقامی اور بین الاقوامی قرض دہندگان کے واجب الادا بقایا جات اب 1.691 کھرب (1691 ارب) روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ دستاویزات کے انکشاف کے مطابق جولائی 2025ء میں ریکارڈ کیا گیا 1.757 کھرب روپے کا مالی بوجھ مارچ 2026ء تک گھٹ کر، تقریباً 66 ارب روپے کی واضع کمی کا مظہر بنا ہے۔
مگر کیسے؟ اِس کا ذِکر کِسی سرکاری مالی دستاویز میں نہیں۔ کیا ہم نے اپنے قومی اور صوبائی اثاثوں میں ٓاِضافہ کر لیا ہے؟ کیا ہم نے ملک میں پائے جانے والے قدرتی ذرایع پیداوار کو بیچنے کی بجائے اپنے مُلک و قوم اور عوام کے لیئے اِستعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ کیا توانائی کے بُحران کو حل کرنے کے لیئے ہم نے 90 آئی پی پی کمپنیوں کو اپنے ملک کے بچوں کا مُستقبل گروی رکھے کا خیال چھوڑ دیا ہے؟ کیا نِجکاری ختم ہو گئی؟ کیا ریکوڈیک اور دیگر قدرتی معدنیات پر بین الاقوامی تسلط سے ہم نے اپنی قوم کو بچا لیا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو اِن سرکاری مالیاتی دستاویزات کو ہم جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ ہی کہہ سکتے جِس کی تشریح ہم اوُپر کر چُکے ہیں۔
ذرا مُلاحظہ فرمایئے کہتے ہیں ۔۔۔ کہ تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ پنجاب نے دسمبر 2025ء سے مارچ 2026ء کے درمیانی عرصے میں اپنے قرضوں میں 13.2 ارب روپے کی تخفیف کی ہے، سو ظاہر ہے کہ اِسے سرکار سے مُراعات و مُفادات حاصِل کرنے والا طبقہ تو یہی کہے گا کہ یہ عظیم کامیابی وسیع تر معاشی چیلنجز کے باوصف صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے مالیاتی ڈسپلن کو بہتر بنانے کی مسلسل کاوشوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
مقتدر طبقات کی اپنی شائع کردہ دستاویزات کی رو سے، پنجاب کے قرضوں کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کا مرہونِ منت ہے۔ صوبے کی مجموعی واجب الادا رقم کا تقریباً 42 فیصد حصہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کا مقروض ہے، جبکہ 20 فیصد قرضہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی مالی اعانت سے منسلک ہے۔ مزید برآں، 18 فیصد رقم ان قرضوں پر مشتمل ہے جو چین سے انفراسٹرکچر، ترقیاتی اور عوام النفع منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے تھے۔
اب اِن سرکاری دستاویزات کا جو متن میں آپ کہ خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوُں، اِس کے لیئے (disinformation) اور بدنیتی پر مبنی معلومات (malinformation) کی اِصطلاح بھی شائد قارئین کے لیئے کُچھ خاص اثر پذیر نہ ہو گی۔ درج ہے کہ ’’قرضوں میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب پاکستان قرضوں کے حجم کو کم کرنے اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کی غرض سے مالیاتی اصلاحات و انضباط کے اقدامات پر گامزن ہے۔ مملکتِ خداداد بین الاقوامی مالیاتی پروگراموں کے تحت اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومتوں پر اخراجات کو منظم کرنے اور آمدنی کی وصولی میں اضافے کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ محکمہ مالیات پنجاب کے حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جاری مالیاتی سال کے اختتام تک صوبے کے مجموعی قرضوں میں مزید نفی دیکھی جائے گی۔
اس متوقع کمی کا سہرا بہتر مالیاتی انضباط، متوازن قرضہ گیری، اور صوبائی وسائل میں اضافے کی پیہم کوششوں کے سر باندھا جا رہا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا نقطہ نظر ہے کہ اگرچہ پنجاب پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی معیشت ہے، تاہم قرضوں میں مسلسل و پائیدار کمی سے مالیاتی لچک پیدا ہو سکتی ہے اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، اور شعبہ صحت جیسے اہم ترقیاتی میدانوں کے اخراجات کے لیے زیادہ وسیع گنجائش میسر آ سکتی ہے‘‘۔
سو دوستو، خطِ غربت سے نیچے رہے والے فاقہ کَش عوام، علاج معالجے کی مناسب سرکاری سہوُلیات سے محروم بزرگ شہری، سرکاری و معیاری تعلیم حاصل نہ کرسکنے والے بچے جو نِجی تعلیمی اداروں میں بھی جانے سےبوجہ قاصِر ہیں، اگر یہ سرکاری معاشی دستاویز دیکھیں اور سمجھیں تو اِسے (disinformation) اور بدنیتی پر مبنی معلومات (malinformation) کہنا مُکمل طور پر درُست نہ ہو گا۔ اِسے خَلَلِ تَوَجُّہ یا نحرافِ توجہ کہنا زیادہ مُناسِب ہو گا۔
معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
ایڈیٹر0 Views

