Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اگست 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کیا خرابی کی ذمہ دار صرف فوج ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ایوارڈ رے ایوارڈ، تیری کون سی کل سیدھی؟ ۔۔ شہزاد عمران خان کا کالم
  • امرتسر کی صدیقہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • نئے صوبے اور بھارتی منصوبے : حامد میر کا کالم
  • ایسے اتحاد کسی پر چڑھ دوڑنے کے لیے نہیں ہوتے : دل کی باتیں / وسعت اللہ خان کا کالم
  • پاکستان کے لیے آگے کا راستہ کیا ہو ؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بے نظیر اور شہباز کا مارچ 1990: نصرت جاوید کا کالم
  • کیا اب مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بلوچستان: کچھی میں پل کو دھماکے سے نقصان، چاغی میں مشینری نذرِ آتش
  • نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟ شاہنواز خان کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ایوارڈ رے ایوارڈ، تیری کون سی کل سیدھی؟ ۔۔ شہزاد عمران خان کا کالم
شہزاد عمران خان

ایوارڈ رے ایوارڈ، تیری کون سی کل سیدھی؟ ۔۔ شہزاد عمران خان کا کالم

ایڈیٹراگست 18, 20266 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
new logo shehzad imran khan
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ہمارے ہاں ایوارڈ بھی ایک عجیب چیز ہے۔ یہ نہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ سے متاثر ہوتا ہے، نہ ڈگریوں سے، نہ کتابوں کی تعداد سے اور نہ ہی عمر بھر کی ریاضت سے۔ یہ ایک ایسا پرندہ ہے جو کب، کس کی چھت پر آ بیٹھے، اس کا اندازہ نہ ماہرین کو ہوتا ہے اور نہ خود امیدوار کو۔ بعض اوقات تو جسے ایوارڈ ملتا ہے، وہ بھی حیرت سے اردگرد دیکھنے لگتا ہے کہ "یہ واقعی میرے لیے ہے یا کسی اور کا لفافہ میرے ہاتھ لگ گیا ہے؟”
چودہ اگست آتے ہی ملک میں دو فہرستیں سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ ایک دکانوں پر رعایتی سیل کی اور دوسری سول اعزازات کی۔ پہلی فہرست میں لوگ سستا سامان ڈھونڈتے ہیں، دوسری میں یہ تلاش کرتے ہیں کہ آخر اس سال کس کی قسمت جاگ گئی۔ جونہی فہرست جاری ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر تبصروں کا سیلاب آ جاتا ہے۔ کچھ لوگ ہر نام پر تالیاں بجاتے ہیں، کچھ ہر نام پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں، اور باقی لوگ گوگل پر جا کر تلاش کرتے ہیں کہ "یہ شخصیت آخر ہے کون؟”
ہم نے ایک دوست سے پوچھا، "تم ہر سال اتنی دلچسپی سے یہ فہرست کیوں پڑھتے ہو؟”
وہ بولا، "اس امید پر کہ شاید غلطی سے میرا نام بھی آ جائے۔”
ہم نے کہا، "لیکن تم نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟”
کہنے لگا، "کارنامہ تو کوئی نہیں، مگر اس ملک میں امید پر تو دنیا قائم ہے!”
ہمارے ایک بزرگ شاعر نے نصف صدی تک شعر کہے۔ ایسی غزلیں لکھیں جنہیں لوگ آج بھی محفلوں میں پڑھتے ہیں۔ ایک دن بڑے افسردہ بیٹھے تھے۔ ہم نے پوچھا، "استاد جی! خیریت ہے؟”
کہنے لگے، "زندگی بھر لفظوں کو ایوارڈ دلاتا رہا، مگر خود کسی فہرست میں جگہ نہ بنا سکا۔”
پاس بیٹھے ایک نوجوان نے فوراً مشورہ دیا، "استاد جی! اگلی کتاب کا نام ‘تعلقات نامہ’ رکھ دیں، شاید قسمت بدل جائے۔”
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب اصول ہے۔ جب کسی مستحق شخصیت کو اعزاز ملتا ہے تو قوم خوش ہوتی ہے۔ لیکن پھر اچانک ایک ایسا نام سامنے آ جاتا ہے کہ چائے کا کپ بھی احتجاجاً ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ لوگ عینک صاف کرتے ہیں، موبائل کی برائٹنس بڑھاتے ہیں اور دوبارہ فہرست پڑھتے ہیں کہ شاید پرنٹنگ کی غلطی ہو۔ جب یقین ہو جاتا ہے کہ غلطی پرنٹنگ کی نہیں بلکہ مقتدر اداروں کی ہے تو پھر تبصروں کا نیا سیزن شروع ہو جاتا ہے۔
ایک صاحب فرمانے لگے، "ایوارڈ لینے کے لیے قابلیت ضروری نہیں، قسمت ضروری ہے۔”
دوسرے نے فوراً اصلاح کی، "نہیں جناب! قسمت بھی کافی نہیں، قسمت کو جاننے والے بھی ضروری ہیں۔”
اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ بعض لوگ اتنے باصلاحیت ہوتے ہوئے بھی پوری زندگی انتظار کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات ایسے خوش نصیب ثابت ہوتے ہیں کہ لوگ ان کا تعارف پڑھ کر ہی پوچھنے لگتے ہیں، "بھائی، اصل کارنامہ کون سا تھا؟”
ایسا لگتا ہے جیسے کہیں ایک خفیہ دفتر ہو جہاں ایک بورڈ آویزاں ہو:
"کارکردگی بعد میں دیکھی جائے گی، پہلے خوش قسمتی کا نمبر لیجیے۔”
اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو مجھے ڈر ہے کہ آنے والے برسوں میں نئے اعزازات بھی متعارف نہ کرا دیے جائیں۔
تمغۂ انتظار — ان لوگوں کے لیے جو تیس سال سے ہر چودہ اگست کو صرف فہرست دیکھ کر رہ جاتے ہیں۔
ہلالِ خاموشی — ان شخصیات کے لیے جو ہر سال حیران ضرور ہوتی ہیں مگر اگلے سال کی امید میں کچھ بولتی نہیں۔
ستارۂ تعلقات — ان خوش نصیبوں کے لیے جنہیں اپنا تعارف دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، دوسروں کا تعارف ہی کافی ہوتا ہے۔
نشانِ برداشت — ان ادیبوں اور شاعروں کے لیے جو ہر سال فہرست پڑھ کر صرف ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اگلی کتاب لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایوارڈ کے بعد انٹرویو بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ سوال پوچھا جاتا ہے، "آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟”
جواب آتا ہے، "مجھے تو بالکل امید نہیں تھی۔”
یہ سنتے ہی ٹی وی کے سامنے بیٹھا ناظر مسکرا کر کہتا ہے، "ہمیں بھی نہیں تھی!”
ایک اور دلچسپ منظر دیکھیے۔ جنہیں اعزاز نہیں ملتا وہ کہتے ہیں، "ہم تو ایوارڈ کے لیے کام ہی نہیں کرتے۔”
اور اگر اگلے سال انہی کو اعزاز مل جائے تو فرماتے ہیں، "یہ دراصل میری عمر بھر کی خدمات کا اعتراف ہے۔”
یعنی ایوارڈ مل جائے تو تاریخی فیصلہ، نہ ملے تو رسمی کارروائی!
حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ہزاروں ایسے استاد، محقق، ڈاکٹر، سماجی کارکن، شاعر، ادیب، صحافی اور فنکار موجود ہیں جو خاموشی سے پوری زندگی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ نہ انہیں میڈیا پر جگہ ملتی ہے، نہ تصویریں شائع ہوتی ہیں اور نہ ہی بڑے بڑے تعارف لکھے جاتے ہیں۔ مگر وہ اپنے کام سے معاشرے کو سنوارتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی خدمات بھی اسی دیانت داری سے سامنے آئیں جس دیانت داری سے وہ کام کرتے ہیں تو شاید ایوارڈ کی وقعت بھی بڑھ جائے۔
اعزاز کا اصل حسن اس کی شفافیت میں ہوتا ہے۔ جب قوم کو معلوم ہو کہ فلاں شخص کو فلاں نمایاں خدمت پر اعزاز ملا ہے تو ہر شخص خوشی سے تالیاں بجاتا ہے۔ لیکن جب معیار پردے میں رہے تو پھر سوال بھی پیدا ہوتے ہیں، لطیفے بھی بنتے ہیں اور طنز و مزاح سے بھر پور کالم بھی لکھے جاتے ہیں۔
ویسے اگر کبھی عوام سے بھی رائے لی جانے لگے تو شاید دلچسپ نتائج سامنے آئیں۔ ہو سکتا ہے کسی گاؤں کا وہ استاد، جس نے چالیس سال بچوں کو مفت پڑھایا، کسی بڑے نام سے زیادہ ووٹ لے جائے۔ کوئی نرس، جس نے آدھی زندگی مریضوں کی خدمت میں گزار دی، کسی طاقتور شخصیت سے آگے نکل جائے۔ کوئی گمنام شاعر، جس کے اشعار لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، شہرت کے بڑے میناروں پر بیٹھے لوگوں سے زیادہ عزت سمیٹ لے۔
آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ ایوارڈ کی عزت برقرار رکھنی ہے تو معیار کو اتنا روشن کر دیجیے کہ کسی کو سوال اٹھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ کیونکہ جس دن قوم اعزاز یافتہ شخص کا نام سن کر بے اختیار کہے، "ہاں، واقعی اس کا حق تھا”، اسی دن ایوارڈ بھی باوقار ہو جائے گا اور ایوارڈ دینے والا ادارہ بھی۔
ورنہ ہر سال چودہ اگست کے بعد یہی آواز گونجتی رہے گی:
ایوارڈ رے ایوارڈ، تیری کون سی کل سیدھی!

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ایوارڈ سول اعزازات
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleامرتسر کی صدیقہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
Next Article کیا خرابی کی ذمہ دار صرف فوج ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

قومی اعزازت کی تقسیم ، ریوڑیوں اور بندر بانٹ کی کہانی : اظہر سلیم مجوکہ کا کالم

اگست 19, 2025

فیلڈ مارشل، ایئرچیف، وفاقی وزرا، بلاول سمیت وفاقی وزراء اور سول و فوجی افسروں کے لیے سول اعزازات

اگست 15, 2025

’دھوکے باز‘ کو اعزاز دینے والا ملک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اگست 30, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کیا خرابی کی ذمہ دار صرف فوج ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ اگست 18, 2026
  • ایوارڈ رے ایوارڈ، تیری کون سی کل سیدھی؟ ۔۔ شہزاد عمران خان کا کالم اگست 18, 2026
  • امرتسر کی صدیقہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم اگست 17, 2026
  • نئے صوبے اور بھارتی منصوبے : حامد میر کا کالم اگست 17, 2026
  • ایسے اتحاد کسی پر چڑھ دوڑنے کے لیے نہیں ہوتے : دل کی باتیں / وسعت اللہ خان کا کالم اگست 16, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.