کوئٹہ : کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد مزید 18 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق کان کنوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سورینج کی کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے باعث 42 کان کن پھنس گئے تھے، دیگر کی تلاش جاری ہے۔
کان کے مالک کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت 42 مزدور موجود تھے، دھماکا میتھین گیس کے باعث ہوا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے حادثے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے (پروونشیئل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی) کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے 18 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کا مشترکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حکام اور مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کان میں حادثہ ایک زوردار دھماکے کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث اس میں 24 سے زائد کانکن پھنس گئے۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر مائنز میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
’کان میں پیش آنے والا واقعہ بہت زیادہ شدید تھا‘
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج کی ایک کوئلہ کان میں پیش آیا۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اطلاع ملتے ہی اس کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئیں، جن میں چار ایمبولینسز بھی شامل تھیں۔
مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ نے فون پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہمیں ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ کان میں میتھین گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی عہدیدار عمر حیات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا، جس کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے۔
اے ایف پی کے کیمرہ مین بنارس خان کے مطابق جب تک وہ کان پر موجود تھے اس وقت تک چھ کانکنوں کی لاشیں نکالی جاچکی تھیں۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کان کے مالکان سے ان کی بات ہوئی، جنھوں نے بتایا کہ کان میں 35 سے زائد کانکن موجود تھے۔
سرکاری اہلکار نے دھماکے کی شدت اور ریسکیو کے جدید سہولیات کی فقدان کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے اس واقعے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپیکٹر آف مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ قائم کرنے اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
سورینج کہاں واقع ہے؟
سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اور مزدور وابستہ ہیں۔
سینئر مزدور رہنما لالا سلطان کا کہنا ہے کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے اور ٹھیکیداری کے نظام کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کانوں حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا ہے ان حادثات میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

