نئی دہلی : گذشتہ ایک ماہ سے جاری احتجاج کے بعد ہفتہ کے روز انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے زیادہ تر نوجوان طلبہ پر مشتمل مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا ۔ وہ گذشتہ ماہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بار بار امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے تعلیمی نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ ’جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، ملک مخالف عناصر کو اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ملک کا اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔‘
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
راہول گاندھی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ان تمام نوجوانوں اور طلبہ کو دلی مبارک باد جنھوں نے جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔‘
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ’مجھے آپ سب پر فخر ہے۔‘
انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ ’وہ طلبہ سے معافی مانگیں، جبکہ حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کرے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔ ’ہمارے بچے اپنا وقت تعلیم میں گزاریں اور اپنے کیریئر کی تعمیر پر توجہ دیں۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو ارسال کر دیا ہے۔‘
اس سے قبل کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اصرار کر رہی تھیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

