اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دے دیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے کیس کا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا ، جس کے بعد وہ آئندہ انتخابات میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر آئندہ بھی عدالت کی جانب سے کسی بھی شخص کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اس کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی۔خیال رہے کہ 14 فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
پیر, نومبر 2, 2026
تازہ خبریں:
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

