شیخ محمد اقبال سینئر صحافی اوران دنوں ایکسپریس نیوز ملتان سے وابستہ ہیں اور ان کے ساتھ میرا تین عشروں سے زیادہ کا دوستی اور محبت کا رشتہ رہا ہے اور ابھی بھی قائم ہے۔ ہم دونوں نے طویل عرصے تک ایکسپریس نیوز ملتان کے رپورٹنگ روم میں ایک ساتھ بلکہ ایک دوسرے کے برابر بیٹھ کر خبریں بھی لکھی ہیں’یہ اتفاق تھا یا ان کی محبت میری کرسی رپورٹنگ روم میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہی اگرچہ روزنامہ ایکسپریس ملتان اب تک چار بار شہر کے مختلف مقامات پر دفتر تبدیل بھی کرچکا ہے۔پیارے دوست شیخ اقبال کی یاد اور اس سے کیا گیا پرانا وعدہ یاد آ نے کی وجہ سینئر صحافی معروف شاعر رضی الدین رضی صاحب کی تین برس قبل سینئر صحافی ایم اے شکور مرحوم پر لکھی جانے والی تحریر تھی ۔رضی صاحب شاعری ہو یا نثرنگاری ، کالم نگاری ہو یا اخبارات میں خبروں کی سرخیاں جمانا سب پر کمال درجہ عبور رکھتے ہیں ۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی 28 اکتوبر کو رضی صاحب کی فیس بک وال سے ایم اے شکور مرحوم کے حوالے سے شئیر ہونے والی تحریر نے کچھ یادیں باتیں ہماری بھی تازہ کردیں۔رضی صاحب کی یہ تحریر نہایت عمدہ اور ایم اے شکور مرحوم کے ساتھ ان کی ملاقاتوں اور یادوں کا احاطہ کرتی ہے ۔ انہوں نے ایم اے شکور مرحوم کی صحافت میں خدمات کو بڑی محبت سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔رضی صاحب کی اسی تحریر کا ایک جملہ ہے کہ "اخبارات میں خبروں کی سرخیاں بنانے کے حوالے سے ایم اے شکور ملتان کے عباس اطہر (شاہ جی) تھے ۔
رضی صاحب آ پ نے یہ بالکل درست لکھا ہے میں اس کی تائید کرتا ہوں ۔ آ پ کو بتاتا چلوں کہ تقریباً 30 برس قبل لاہور سے ایک اخبار روزنامہ صداقت کا اجراء ہوا تھا اس کے چیف ایڈیٹر محترم عباس اطہر اور ایڈیٹر محترم منوبھائی تھے ۔کچھ عرصہ ملتان بیورو میں ڈپٹی بیورو چیف کے فرائض سر انجام دیے اس دوران محترم عباس اطہر اور محترم منو بھائی کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا اس دوران صداقت آ فس لاہور میں اکثر جانا ہوتا تھا اور کئی بار نیوز روم میں شاہ جی کو خبروں کی سرخیاں جماتے بھی دیکھ چکاہوں اور پھر صداقت اخبار کی سرخیاں بھی نظروں سے گزرتی رہی تھیں قصہ مختصر اخبارات میں سرخیوں کو کمال تک پہنچا نے اور تاریخی خبروں کی سرخیوں کوصحافت سے وابستہ ان کے دور کا ہر صحافی ضرور جانتا ہے۔
اب آ جائیں رضی صاحب نے مرحوم ایم اے شکور کو ملتان کا عباس اطہر کا لقب کیوں دیا ؟ تو صداقت اخبار کے بعد ایک اور اخبار کا حوالہ دیتا ہوں جہاں پر میں نے تقریباً تین عشرے قبل ہی چند ماہ کے لیے چیف ایڈیٹر شیخ محمد امین صاحب کے اصرار اور محبت کے بعد روزنامہ حیرت ملتان کے دفتر میں رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ نیوز ڈیسک کا بھی تجربہ حاصل کیا تھا اس دوران ایم اے شکور مرحوم ایڈیٹر بڑی محنت سے روزنامہ حیرت کو تیار کرتے ، وہ مسلسل کوششوں میں رہتے کہ حیرت اخبارمیں کوئی خبر مس نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی دوران مجھے اور شیخ محمد اقبال کو قریب سے ایم اے شکور مرحوم کی اخباری سرخیاں دیکھنے کا موقع ملا ۔اور ایک لوکل اخبار کی سرخیاں اکثر اگلے روز قومی اخبارات کے ہم پلّہ دکھائی دیتی تھیں ۔
چلتے چلتے یہ واقعہ لکھ کر اپنے دوست شیخ محمد اقبال سے کیا گیا وہ وعدہ بھی اب پورا کررہا ہوں ، جو ہم دوستوں کو اکثر سناتے تھے۔ شیخ اقبال کہتا آ غا صاحب ایم اے شکور صاحب کے اپنی صحافتی ڈیوٹی سے حد درجہ محبت و لگن کی مثال یہ ہے کہ جب وہ آ پریشن والے دن آ پریشن کرائے بغیر ہسپتال سے بھاگ کر تکلیف کی حالت میں روزنامہ حیرت کے دفتر پہنچ گئے تھے۔ آ ج میں اپنے سینئر صحافی ایم اے شکور کی صحافت سے لگن اور شیخ محمد اقبال پیارے سے کبھی کیا ہوا وعدہ پورا کردیتا ہوں ۔ہوا کچھ یوں تھا کہ روزنامہ حیرت میں اس کو بہترین اخبار کی لگن اور شب وروز کام کرنے کی وجہ سے ایم اے شکور صاحب بیمار ہوگئے اور ان کی تکلیف پر ڈاکٹر نے ان کو آ پریشن کرانے کا کہہ دیا اب چیف ایڈیٹر شیخ محمد امین صاحب نے ایم اے شکور کو پورا یقین دلایا کہ آ پ کی غیر موجودگی کے دوران میں نے دو تین دن کے لئے نیوز ایڈیٹر کا عارضی بندوبست کرلیا ہے لہذا اب آ پ اخبار کی فکر کئے بغیر ہسپتال جائیں اور آ پریشن کرالیں کہیں بیماری بڑھ نہ جائے۔ پہلے دن ہی جب شام کو ان کا آ پریشن ہونا تھا ۔عارضی آ نے والے ایڈیٹر غائب ہوگئے اور حیرت کے دفتر نہ پہنچے۔جب میں شیخ محمد اقبال اور اختر شیخ دفتر آ ئے تو چیف ایڈیٹر آ رٹ ایڈیٹر اور کمپیوٹر والا سٹاف پریشان دکھائی دیا ۔پریشانی کا پتہ چلا تو شیخ محمد اقبال کو نجانے کیا سوجھی فوری کہہ دیا شیخ صاحب آ پ با لکل پریشان نہ ہوں آ ج ہم پیپر تیار کریں گے۔ نیوز ایڈیٹر آ غا صاحب اور ہم انہیں خبریں دیں گے میں یہ سن کر روزنامہ حیرت آ فس میں حیرت سے شیخ اقبال کو تکنے لگا۔پھر شیخ اقبال نے ساتھ ہی میر ی طرف منہ کر کے اپنا معصوم منہ دکھاتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کردیا ۔بعد میں شیخ صاحب کے جانے کے بعد’میں نے شیخ اقبال پر غصہ کرتے ہوئے کہا یہ تم نے کیا کردیا اور کہا ں پھنسا دیا۔شیخ صاحب نے زبردستی نیوز ایڈیٹر کی کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی مہینوں سے سپورٹس اور شوبز کا آ دھا صفحہ تو تیار کررہے ہو نا ‘ تو آ ج دو اور صفحات بھی بنا لوگے۔میں اس سے پہلےکہ میں کچھ کہتا اقبال شیخ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا دیکھ آ ج شیخ صاحب اور ایم اے شکور مرحوم کی غیر موجودگی میں عزت کا معاملہ ہے آ ج اخبار نہ بنا تو بڑی سبکی ہوگی ۔خیر کام شروع کیا پتہ چلا کہ آ ج تو بڑے اہم واقعات پر مبنی خبریں ہیں ۔اللہ اللہ کرکے اخبار تیار ہوکر پرنٹنگ مشین پر بھجوادیا گیا ۔اورابھی اس احساس کا مزا لے رہے تھے اور اللہ کا شکر ادا کرہی رہے تھے کہ چلو یہ مشکل کام بھی سر انجام ہوگیا ہے کہ ایسے میں سیڑھیوں سے اوپر آفس آ نے والے شخص کو دیکھ کر دور کھڑے آ رٹ ایڈیٹر نے بلند آواز میں کہا کہ شکور صاحب آ گئے ہیں ۔پھر تو کمرے میں چیف ایڈیٹر شیخ محمد امین، اختر شیخ اور میں حیرت میں ڈوب گئے ۔کمرے میں تکلیف کی حالت میں ایم اے شکور مرحوم کو دیکھتے ہوئے شیخ امین صاحب نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا آ پ کا تو اس وقت ہسپتال میں آ پریشن ہونا تھا !! ایم اے شکور مرحوم نے کہا شیخ صاحب باقی باتیں چھوڑوپہلے یہ بتاو آ ج اخبار تیار ہوا ہے یا نہیں ۔۔۔شیخ صاحب نے کہا شکور پریشان نہ آ ج ان نوجوانوں نے کمال کردیا ہے اور آ رٹ ایڈیٹر نے بھی شائع ہونے سے پہلے والی کاپی دکھادی جسے دیکھ کر ایم اے شکور مرحوم نے ہم تینوں کو شاباشی دی ۔اب شیخ صاحب بولے اب تو بتادو شکور صاحب اپنا آ پریشن چھوڑ کر ہسپتال سے کیو ں بھاگ آ ئے ۔تو ایم اے شکور نے بتایا کسی دوست نے مجھے ہسپتال میں بتایا کہ شیخ صاحب نیوز ایڈیٹر کا انتظام نہیں کرسکے ہیں اور آ ج حیرت اخبار کا شائع ہونا مشکل ہو گیا ہے بس پھر میں نے سوچا آ پریشن تو دوتین دن کے بعد بھی کرالوں گا لیکن آ ج حیرت اخبار کا ناغہ نہیں ہونے دوں گا بس پھر دیکھ لیں جیسے تیسے کرکے آ پ کے پاس پہنچ گیا ہوں۔مجھے اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایم اے شکور صاحب کی جو تکلیف کی پروا کئے بغیر ہسپتال چھوڑ کر آ نے کو غلطی کہوں ۔۔۔۔یا پھر اسے صحافت کی محبت میں جنونی شخصیت ایم اے شکور مرحوم کو لگن و محبت پر انہیں داد دوں یہ معاملہ اپنے صحافتی دوستوں پر چھوڑ دیتا ہوں کہ ایم اے شکور مرحوم کے اس عمل پر آ پ کیا کہتے ہیں۔۔
ایم اے شکور ، رضی الدین رضی کی یاد نگاری اور اقبال شیخ سے کیا گیا ایک وعدہ : آغا محمد علی
ایڈیٹر11 Views

