جینی ایک قصبے میں رہتی تھی اور ایک سٹور پر سیلز گرل تھی ، وہاں دارالحکومت سے ایک سفری سیلزمین آیا کرتا تھا ، انہیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور جینی اس کے ساتھ دارالحکومت چلی گئی جہاں ڈیوڈ نے کرائے کا ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ لیا تھا ، جینی کو بھی وہاں ایک چھوٹے سٹور پہ نوکری مل گئی، چند ماہ بعد ڈیوڈ اپنے ٹور پہ یہ کہہ کر گیا کہ وہ ایک ہفتے بعد واپس آئے گا ، لیکن وہ واپس نہ آیا اور اس کا فون بھی بند ملنے لگا ، چند دن جینی نے انتظار کیا پھر مسنگ رپورٹ درج کرا دی ، کچھ دن بعد جینی کو لینڈ لارڈ کی طرف سے کال آئی کہ اس نے دو ماہ کا کرایہ ادا نہیں کیا ، اس وقت جینی کو پتہ چلا کہ ڈیوڈ نے اپارٹمنٹ اس کے نام پہ لیا تھا ، اس نے لینڈ لارڈ سے گزارش کی کہ وہ چند دن انتظار کرے ، جیسے ہی اس کا پارٹنر واپس آئے گا کرایہ ادا کر دیا جائے گا لیکن ڈیوڈ واپس نہ آیا اور جینی کے سر پر تین ماہ کا کرایہ چڑھ گیا چنانچہ اس سے اپارٹمنٹ خالی کرا لیا گیا ، تب اس پر انکشاف ہوا کہ ڈیوڈ نے فرنشڈ اپارٹمنٹ کرائے پر لیا تھا ، اس کے تو وہی چند جوڑے کپڑوں کے تھے جو وہ ساتھ لے گیا تھا ، جینی کے پاس تھوڑے سے پیسے تھے اور چھوٹی سی نوکری بھی ، اس نے ایک موٹل میں کمرہ کرائے پر لے لیا ، موٹلز ہائی ویز پر ایک قسم کے ہوٹلز ہوتے ہیں جہاں ٹرک ڈرائیور اور اپنی گاڑیوں پہ سفر کرنے والے مسافر رات گزارنے کے لیے ٹھہرتے ہیں اور وہاں رہائش سستی ہوتی ہے ۔ جینی نے جو کمرہ لیا اس میں اٹیچڈ باتھ بھی نہیں تھا ، وہ کامن باتھ روم استعمال کرتی تھی۔ خیر وہ ایک محنتی لڑکی تھی ، ساتھ ہی اکاؤنٹنگ اور کمپیوٹر کا کام بھی جانتی تھی ، دو تین ماہ بعد اسے ایک بڑے سٹور میں بہتر جاب مل گئی ، اب وہ اپارٹمنٹ کرائے پر لینے گئی لیکن لینڈ لارڈ نے اسے اپارٹمنٹ دینے سے انکار کر دیا ، وہ دو تین مختلف جگہوں پر گئی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا ، اسے بتایا گیا کہ وہ ایک ڈیفالٹر اور bad tenant بری کرایہ دار ہے ، اس کے سابق مالک مکان نے اس کے کوائف ویب سائٹ پر ڈال دیے تھے اور اب اسے پورے ملک میں کوئی مکان کرائے پر نہیں دے گا ، اسے یہ بھی علم ہوا کہ ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو برے حالات کی وجہ سے ایک سے تین ماہ تک کا کرایہ ادا نہیں کر سکے ، حالات بہتر ہونے کے بعد بھی انہیں کوئی مکان کرائے پر نہیں دیتا ۔ سو جینی موٹل میں ہی مستقل قیام پذیر ہے۔
مارتھا کے پاس مناسب جاب تھی اور وہ کرائے کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتی تھی ، کووڈ کے دوران اس کی جاب چلی گئی ، چند ماہ اس نے اپنی بچت سے کرایہ بھی دیا اور دو وقت کا کھانا بھی کھایا پھر اپارٹمنٹ چھن گیا ، اس کے پاس موٹل میں رہنے کے لیے بھی پیسے نہ تھے ، بس ایک پرانی کار تھی چنانچہ اس نے کار میں ہی رہنا شروع کر دیا ، سڑکوں پر پارکنگ محفوظ نہیں ہوتی چنانچہ ایسے لوگ تھوڑے سے پیسے دے کر پارکنگ لاٹ میں رات بھر کے لیے اپنے گھر پارک کرتے ہیں ۔ قریب واقع کسی ریلوے اسٹیشن یا دفتر کے واش روم استعمال کر لیتے ہیں۔ مارتھا کو نوکری نہیں ملی وہ ایک چیریٹی سے کھانا لے کر کھاتی ہے۔
مارگریٹ بھی برے حالات کا شکار ہوئی ، اس کے پاس کار بھی نہیں تھی ، اسے کہیں سے ایک بوسیدہ سا خیمہ ملا جو اس نے ایک پل کے نیچے لگا لیا ، وہاں ایسے اور بھی بہت سے لوگ ہیں ، یہاں اسے کئی اور مسائل کا سامنا بھی ہے ، چھوٹی چھوٹی چوریاں ہو جاتی ہیں ، کبھی راتوں کو کوئی ڈرگ ایڈکٹ ، کوئی الکحلک اس کے خیمے میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے اور کئی بار پولیس ریڈ کرتی ہے تو اسے خیمہ اکھاڑ کر بھاگنا پڑتا ہے ۔
میری کی بھی ایسی ہی دکھ بھری کہانی ہے ، وہ فٹ پاتھ پر سوتی تھی ، کسی نیک دل انسان نے اسے کیپسول لا کر دیا ، یہ ایک چھوٹا سا فائبر گلاس کا جھونپڑا سا ہوتا ہے جس میں ایک آدمی سکڑ سمٹ کر سو سکتا ہے لیکن اسے بھی بلدیہ اور پولیس اہلکار مسلسل پریشان کرتے ہیں ۔
ان چاروں دکھیاریوں کی ملاقات ڈینٹل کیمپ کے باہر ہوئی جہاں وہ رات کو جا کر لائن میں لگی تھیں تاکہ صبح کیمپ شروع ہو تو وہ ڈینٹسٹ سے اپنے دانتوں کے امراض کا مفت علاج کرا سکیں ۔ ہسپتالوں میں تو صرف ان لوگوں کا علاج ہوتا ہے جنہوں نے انشورنس کرا رکھی ہو ، اور پرائیویٹ کلینک پر تو صرف امرا ہی دکھا سکتے ہیں۔ کچھ نیک دل ڈاکٹر مہینے میں ایک یا دو بار غریبوں کے لئے فری کیمپ لگاتے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں مریض ہوتے ہیں ۔
تو یہ ہے جناب یونائیٹڈ سٹیٹس آف امیرکا ، دنیا کا امیر ترین اور طاقتور ترین ملک جس کا جنگی بجٹ ساڑھے آٹھ سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور دنیا کے ہر خطے میں اس کے فوجی اڈے اور بحری بیڑے ہیں ، جنگیں کرانا ، ملکوں کو غیر مستحکم کرنا ، حکومتوں کے تختے الٹنا اس کا مشغلہ ہے۔ اس کی سینتیس کروڑ کے قریب آبادی میں سے تین کروڑ اڑسٹھ لاکھ لوگ یعنی کل آبادی کا 11.1٪ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ تعداد کتنی ہے ؟ 44.7 فیصد۔
امریکہ میں اگر چار افراد پر مشتمل فیملی کی آمدنی تیس ہزار ڈالر سالانہ سے کم ہے تو اسے لو انکم گروپ میں شامل کیا جاتا ہے ۔ اس غربت کی وجوہات ہیں
رہائش کا انتہائی منہگا ہونا۔ تیس ہزار ڈالر سالانہ کمانے والوں کی آمدنی کا چالیس فیصد گھر کے کرائے پر خرچ ہو جاتا ہے ۔
بیروزگاری
کم تنخواہیں
نسلی امتیاز
سوشل ویلفیئر یا سوشل سپورٹ سسٹم کی کمزوری
خوراک کا منہگا ہونا
حکومت کی طرف سے صحت اور تعلیم کی مناسب سہولیات فراہم نہ کرنا
تعلیم اور صحت کا انتہائی منہگا ہونا۔
لیکن غور کیا جائے تو بنیادی وجہ صرف ایک ہے کیپٹلزم سرمایہ دارانہ نظام جس میں انسان کی نہیں پیسے کی اہمیت ہوتی ہے ۔
اس وقت امریکہ میں ارب پتی لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے ایک ہزار سے زیادہ لوگ ارب پتی ہیں ، ان کی تعداد اور سرمایہ ہر سال بڑھ جاتے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

