سیلابوں کا آ نا ایک فطری عمل ہے اور ان کے نتیجے میں بربادی اور تباہی بھی اس فطری نتیجہ ۔لیکن باشعور،انسان دوست اور visionary ریاستیں کثیرالمدتی منصوبوں اور مستقل بنیادوں پر اقدامات لے کر بڑے پیمانے کے نقصانات کو minimize ضرورکر سکتی ہیں مگر اس کے لیے ایک بڑی ول کی ضرورت ہے ،بدقسمتی سے ہماری ایسی ریاستوں کے پاس اس ول کا فقدان ہے ۔یہاں کی قیادتیں "ڈنگ ٹپاو” پالیسیوں کی قائل ہیں۔پاکستان کے علاقوں میں قیام پاکستان سے قبل سے لے کر اب تک تواتر سے سیلاب آ رہے ہیں،فطرت سے مخاصمت رکھنے سے بڑی کلائمیٹ تبدیلی آ ئی ہے ۔بڑھتی ہوئی آ بادی،بڑی بڑی ہاؤ سنگ کالونیوں کی تعمیر اور درختوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام اس موسمی بدلاؤ کا سبب بنا ہے ۔مگر ہمارے ہاں سیلاب کی تین بڑی وجوہات بتائی جاتی ہیں:
۱۔ہم نے ڈیم نہیں بنائے،خصوصا کالا باغ ڈیم
۲۔بھارت ہمارے ساتھ آ بی جارحیت کرتا ہے ،اپنا سیلاب ہماری طرف بھیج دیتا ہے ۔
۳۔یہ سیلاب ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے ،خدا ہم سے ناراض ہے ۔
اگر ڈیم وجہ ہوتے تو جن ملکوں کے پاس کثیر ڈیم ہیں،وہاں سیلاب کبھی نہ آ تے مگر وہاں۔بھی سیلاب آ تے ہیں۔
ہمارے ساتھ بھارت آ بی جارحیت کرکے پانی ہماری طرف بھیج دیتا ہے ۔مگر وہ ہمارے ہاں کی آ بی گزرگاہوں کے آ گے رکاوٹیں کیسے کھڑی کر لیتا ھے،ان گزرگاہوں کے محافظ تو ہم خود ہیں۔ان گزرگاہوں پر رہائشی کالونیاں،تعلیمی ادارے،ہسپتال،پولیس چوکیاں ،شادی گھر اور سڑکوں کے جال کون بچھاتا ہے ؟ ۔دریا ایک زندہ جاوید حقیقت ہے اس کے اپنے جذبات واحساسات ہیں۔یہ ایک نامیاتی مخلوق کی مانند ہے جب ہم اس کی روانی کو روکتے ہیں تو یہ ناراض ہو جاتاھے،بپھر جاتا ہے ۔کہیں کہیں اس کا مزاج بھی ناگ جیسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو نہ چھیڑو تو کسی کو کچھ نہیں کہتا۔اس لیے اسے اپنے موڈ اور مزاج سے چلتے رہنے دینا چاہئے ۔
ایک وجہ ہمارے گناہ بتائے جارہے ہیں جدید تحقیق نے بتا دیا ہے کہ خلا میں موجود سیارے جہاں زندگی نام کی کوئی شے ہی نہیں. وہاں پر ہر پل زلزلے اور طوفان آ تے رہتے ہیں ۔لہذا قدرتی آ فات کی سائنسی توجیہہ جاننے کی ضرورت ہے ۔اس مصیبت کو گناہوں کا نتیجہ کہہ کر سوائے فراریت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔
اس بحث کے بعد سیلابوں کے تدارک کیلئے کچھ اس طرح کے اقدامات کی فوری طور پر ضرورت ہے :
۱۔ حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے اندر ایک” ول” پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اپنے عوام کو اس آ فت سے ہمیشہ کے لیے نجات دلانی ہے ۔ اس کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہرین سے سنجیدہ مشاورت کی جائے۔
آ بادی کے ایشو کو ایڈریس کیا جائے ۔
۳۔ بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں ۔
۴۔ فوری طورپر دریائی گزرگاہوں کو بحال کیا جائے، ندی نالوں پر تعمیرات کو روکا جائے۔
۵۔ جہاں ممکن ہے وہاں ڈیم بنادینے میں کوئی حرج نہیں ۔
۶۔ نئے بیراج بنائیں۔ پرانے بیراجوں/ پلوں کو توسیع دی جائے۔ بار بار حفاظتی بند توڑنا عقل مندی نہیں۔
۷۔ دریاوں میں بسے موہانڑوں،کیہلوں اور دیگر دریائی باشندوں کو نہ صرف ٹریننگ دی جائے بلکہ انھیں جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس کیا جائے تاکہ ضرورت کے وقت ان سے مدد لی جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی اور ٹریننگ کی ضرورت شہری دفاع کے محکمے کے ملازمین اور ون ون ٹو کو بھی ہے ۔ ایسے معاملات کے لیے پاک فوج کی محبتیں بھی مستعار لی جاسکتیں ہیں۔ سیلابوں میں عوام/ کیمونٹی کا بھی اہم کردار ہوتا ہے انھیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ وہ دکھی/متاثرین کے دکھوں کو بانٹیں اور جس طرح کی بھی مدد وہ کر سکتی ہے وہ سرانجام دے۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ بنیادی کردار ریاست کا اپنا بھی بنتا ھے ،وہ ایشو کے مداوے کے بیوروکریسی اور سیاست دانوں سے تو مشاورت کرتی ہے مگر ماہرین کو نظرانداز کر دیتی ہے ۔ انتظامیہ کا کام عمل درآمد تو ہو سکتا ہے ،مسقل حل کی راہیں متعین ماہرین کرتے ہی۔ہماری بیوروکریسی کالونیل عہدکی یاد گار بن کر رہ گئی ہے ،اس کی سوچ میں ارتقاء کرنے کی وہ طاقت نہیں جو کوالیفائیڈ ماہر میں ہو سکتی ہے لہذا ماہرین اور مقامی دانش کو ساتھ ملا کر سیلاب جیسی آ فت سے بچا جائے، آ خر کب تک ہم برباد ہوتے رہیں گے
کیا سیلاب ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے ؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ اور تجاویز
ایڈیٹر37 Views

