ملتان : ماہ طلعت زاہدی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں انھیں بچپن سے ہی کاغذ قلم کی وابستگی میسر آئی ان کے والد ڈاکٹر مقصود زاہدی خاکہ نگار ،شاعر ، افسانہ نگاراور نقاد کی حیثیت سے اردوادب میں معتبر مقام رکھتے ہیں ۔ ترقی پسند تحریک کے ساتھ ڈاکٹرصاحب کی وابستگی غیر مشروط تھی۔ماہ طلعت زاہدی کے بھائی ڈاکٹر انور زاہدی بھی شاعری ،افسانے اورتراجم کے حوالے سے اردوادب کا معتبر حوالہ ہیں۔
ماہ طلعت زاہدی 8 ستمبر 1953ء کو ملتان میں پیدا ہوئیں ۔ان کی علمی ادبی ماحول میں پرورش ہوئی .انہوں نے 1967ء میں گورنمنٹ گرلز اسکول نواں شہر سے میٹرک کیا۔گرلز ڈگری کالج کچہری روڈ ملتان سے 1969میں ایف اے اور 1972ء میں بی اے کاامتحان پاس کیا۔1977ء میں ایمرسن کالج بوسن روڈ سے ایم اے اردو کیا
وہ زمانہ طالب علمی سے شعر کہہ رہی تھیں لیکن انھوں نے مشاعروں میں شرکت کیے بغیر بہت با وقار اندازمیں ادبی حلقوں سے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ۔
2000ء میں نامور ماہر تعلیم نقاد اورمحقق ڈاکٹر اسد اریب ان کے رفیق حیات بنے ۔ماہ طلعت زاہدی کی مطبوعہ کتابوں میں روپ ہزار ، شاخ غزل ، میں کیسے مسکراتی ہوں ، تین مصرعوں کاجہاں اورتاب نظارہ نہیں شامل ہیں۔12 جولائی 2020ء کو کینسر کی وجہ سے وفات پائی،
( بشکریہ : سلمی صنم ۔۔بنگلور )
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا

