پاکستان میں جب بھی کوئی نیا منصوبہ سامنے آتا ہے تو عوام کی اکثریت کے ساتھ ساتھ مزاح نگاروں کی عید ہو جاتی ہے۔ ابھی کل ہی خبر ملی کہ حکومت نے "کلینک آن بوٹ” اور "پولیس اسٹیشن آن وہیل” کا اعلان کیا ہے۔ سنا ہے یہ سب کچھ سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے، مگر جو سہولت عوام کو ملے گی اس سے زیادہ مزہ تو ڈاکٹرز، نرسیں اور پولیس والے اُٹھائیں گے۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ دریائے چناب کی تیز موجوں میں ایک کشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ کشتی میں ایک نیک نیت ڈاکٹر صاحب سفید کوٹ پہنے مریض کا بلڈ پریشر چیک کرنے بیٹھے ہیں۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے مشین باندھی، کشتی نے ایسا جھٹکا کھایا کہ ڈاکٹر کا اپنا بلڈ پریشر مریض سے بھی نیچے نکل گیا۔ مریض نے تسلی دی: "ڈاکٹر صاحب! پریشان نہ ہوں، دوا مجھے دے دیں، کھا لوں گا، مگر علاج آپ کا بھی ساتھ ساتھ کرتا رہوں گا۔”
اب سوال یہ ہے کہ ایم ایس صاحب کے لیے کون سی کشتی ہوگی؟ تو خبر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایم ایس کو "لگژری کشتی” ملے گی جس میں اے سی لگا ہوگا، پنکھے گھوم رہے ہوں گے اور ساتھ ساتھ کشمیری چائے کا انتظام بھی ہوگا۔ دوسری طرف ڈی ایم ایس کے لیے چھوٹی سی کشتی ہوگی جسے پانی کا ایک جھٹکا لگتے ہی لگے گا جیسے کشتی نہیں جھولا جھول رہی ہو۔ باقی جونیئر ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز تو ایسی کشتیوں پر ہوں گے جنہیں دور سے دیکھ کر لگے گا جیسے بچوں کی کھلونا بوٹ ہو۔
سب سے زیادہ مزہ لیڈی ڈاکٹروں اور نرسوں کا ہوگا۔ ذرا سوچیں، جب تیز ہوا چل رہی ہوگی اور کشتی ایک طرف جھکے گی، تو نرسیں اور لیڈی ڈاکٹرز ایسی چیخیں ماریں گی کہ قریب کی مچھلیاں بھی خوفزدہ ہو کر غوطہ لگا جائیں گی۔ مریض بے چارہ سوچے گا کہ "یہ ڈاکٹر مجھے بچانے آئی ہیں یا مجھے مزید خوفزدہ کرنے؟”
دوسری طرف "پولیس اسٹیشن آن وہیل” کی رونق بھی کچھ کم نہیں ہوگی۔ اب پولیس والے گلی گلی جا کر ایسے آوازیں لگائیں گے جیسے سبزی والے کہتے ہیں: "آلو لے لو، ٹماٹر لے لو!” ویسے ہی پولیس والے کہیں گے: "ایف آئی آر درج کرا لو! رپٹ لکھوا لو! جھگڑا کر کے ہماری گاڑی میں بیٹھ جاؤ، سہولت سے تھانے پہنچا دیں گے!”
ماضی میں یہ ہوتا تھا کہ لوگ تھانے جانے سے ڈرتے تھے، اب پولیس والے خود گلی گلی آکر منت سماجت کریں گے: "بھائی صاحب! کوئی جھگڑا ہوا ہو تو پلیز رپورٹ کرا دیں، ورنہ ہمارا ٹارگٹ پورا نہیں ہوگا۔” یوں لگے گا جیسے پولیس والے سروے کرنے نکلے ہیں: "جی آپ کا نام کیا ہے؟ آپ کا محلہ؟ کوئی چوری، ڈکیتی، لڑائی جھگڑا؟ کچھ نہیں؟ اچھا کوئی پرانا کیس یاد کر لیں تاکہ ہمیں ریکارڈ کے لیے کچھ مل جائے!”
اب اگر کوئی محلے دار معمولی جھگڑے میں دوسرے کو گالی دے دے تو پولیس موبائل فوراً پہنچے گی: "جی حضرت! ایف آئی آر بنائیں یا صرف ڈائری میں اندراج کافی ہے؟” محلے کے بچے بھی خوش ہوں گے، کھیل کھیل میں پولیس کی موبائل روک کر کہیں گے: "انکل! ہمارے ساتھ کھیلو، اور جاتے جاتے ایک فرضی رپٹ بھی درج کر دینا!”
ذرا سوچیں اگر یہ منصوبہ آگے بڑھ گیا تو اگلے مرحلے میں "عدالت آن رکشا” اور "جیل آن ٹرالی” بھی شروع ہو سکتی ہے۔ عدالت والے رکشے میں بیٹھے بیٹھے مقدمے سنیں گے اور قیدی ٹرالی میں بیٹھے بیٹھے سزائیں کاٹیں گے۔ گواہان سائیکل پر سوار ہو کر عدالت میں پیشی بھگتیں گے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر اور پولیس والے مل کر مشترکہ سروس بھی شروع کر سکتے ہیں۔ ایک کشتی پر ڈاکٹر بلڈ پریشر چیک کرے گا اور ساتھ ہی پولیس والا مریض سے پوچھے گا: "صاحب! کوئی دشمنی تو نہیں ہے؟ ابھی ایف آئی آر کا فارم بھرتے ہیں۔” یوں ایک ہی وقت میں مریض کا علاج اور مقدمہ دونوں نمٹا دیے جائیں گے۔
لیڈی ڈاکٹروں کی چیخوں اور پولیس والوں کی آوازوں سے دریا کا ماحول اتنا دلچسپ ہوگا کہ لوگ بطور "تفریح” ان کشتیاں دیکھنے آئیں گے۔ کشتی کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے: "جی علاج تو ہمیں نہیں چاہیے مگر ذرا چیخیں سننے دیں، لطف آ رہا ہے!”
فیس بک کمینٹ

