کراچی: ملکہ ترنم نورجہاں کی آج چوبیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔21 ستمبر 1926ء کو بلھے شاہ کی نگری قصور کے ایک گائیک گھرانے میں پیدا ہونے والی نور جہاں نے 74 برس کی عمر پائی اور دل کا دورہ پڑنے سے 23 دسمبر 2000ء کو دار فانی سے کوچ کر گئیں۔
انہوں نے 1965ء کی جنگ میں جو ملی نغمے گائے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں، ان نغموں نے پاک فوج کے جوش وجذبے میں بے پناہ اضافہ کیا۔ ان میں اے وطن کے سجیلے جوانوں، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں، اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے شامل ہیں۔
انہوں نے مختلف زبانوں میں دس ہزار کے قریب نغمے گائے، جن میں آواز دے کہاں ہے، سانوں نہر والے پل تے بلا کے، دل دا جانی، مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ شامل ہیں۔ یہ نور جہاں ہی تھیں جو چاندنی راتوں میں تاروں سے باتیں کرتی تھیں۔ نورجہاں نہ صرف گائیکی میں مہارت رکھتی تھیں بلکہ ایک بہترین اداکارہ بھی تھیں۔شاندار پرفارمنس پر انہیں صدارتی ایوارڈ، تمغہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔
اتوار, نومبر 1, 2026
تازہ خبریں:
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ

