ملتان:دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 30ستمبر کوترجمے کاعالمی دن منایاجارہاہے ۔یہ دن منانے کامقصد یہ ہے کہ تراجم کے ذریعے مختلف زبانوں اورخطوں کے ادب اورثقافت سے آگاہی حاصل کی جاسکے ۔ترجمے کے عالمی دن کے موقع پرپی ٹی وی ملتان کے خصوصی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر صحافی ،شاعر اور دانشور رضی الدین رضی نے کہاکہ آج کے زمانے میں جب دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ترجمے کی اہمیت میں اضافہ ہوچکاہے ۔انہوں نے کہاکہ برصغیر میں تراجم کاسلسلسہ مغلیہ دورمیں شروع ہوگیاتھاجب بہت سی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیاگیا۔اسی طرح برطانوی دور حکومت میں بھی تراجم کی ضرورت محسوس کی گئی اوربہت سی کتابیں انگریزی میں ترجمہ ہوئیں اورانگریزی کی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ ترجمے کے ذریعے مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ترجمہ کرنے والا دونوں زبانوں پر عبور رکھتاہو۔
آج کل ترجمے کے لیے گوگل اور مصنوعی ذہانت سمیت بہت سے ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں قباحتیں بھی پیدا ہورہی ہیں ۔معروف مترجم اور گورنمنٹ علمدار اسلامیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر علی سخن ور نے کہاکہ میں اب تک بہت سے ناول اورکہانیاں ترجمہ کرچکاہوں لیکن سیکھنے کاعمل اب بھی جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ضروری نہیں کہ ہر لفظ کاترجمہ کردیاجائے جو الفاظ لغت میں اپنی جگہ بناچکے ہیں وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ۔نامور سرائیکی دانشور اورمترجم عبدالباسط بھٹی نے کہاکہ ہمیں اپنے خطے کی زبانوں میں لکھے گئے ادب کابھی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرناچاہیے تاکہ اس کے نتیجے میں مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان اجنبیت ختم ہو۔
مختلف خطوں اورزبانوں کے ادب اورثقافت سے آگاہی وقت کی ضرورت ہے،رضی الدین رضی : تراجم کے عالمی دن کے موقع پراظہار خیال
ایڈیٹر13 Views

