کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ گریڈ ایک سے 15 تک کی نوکریاں مقامی لوگوں کو ملنی چاہئیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم سندھ ہائیکورٹ کے 30 جون کے فیصلے پر شکر گزار ہیں، 56 ہزار نوکریاں جو تعصب اور نسل پرستی پردی جاتی تھیں عدالت نے ذرا ٹھہرو کی آواز لگائی ہے، اس فیصلے نے نوجوانوں اور قوم کو یقین دیا ہے۔
خالد مقبول کا کہنا تھا کہ 50 سالوں میں انصاف سے محرومی کی پوری تاریخ ہے، لوگوں نے سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینی چھوڑدی تھی، ایک سے 15 گریڈ کی نوکریاں مقامی لوگوں کو ملنی چاہئیں۔ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ بھٹو کی نسل پرست حکومت اور نسل پرست حکمران نےکوٹہ سسٹم لگاکر تقسیم کی بنیاد ڈالی، سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں 140اے پر عمل درآمد کا فیصلہ آچکا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا س پر سو موٹو ایکشن لیں۔ پریس کانفرنس میں موجود ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 60 فیصد دیہی بھائیوں کےلیے تو 40 فیصدکوٹہ کراچی، حیدرآباد کے نوجوانوں کے لیے تھا مگر ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ نوکریاں شہری علاقوں کےلوگوں کو نہیں ملیں، ہم 50 سالوں میں کوٹہ سسٹم کے ناجائز استعمال کو ختم نہیں کرواسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوٹہ سسٹم کراچی، حیدر آباد اور سکھر کے نوجوانوں پر سرکاری ملازمتوں کے راستے بند کرنے کے لیے نافذ کیا گیا، 54 ہزارنوکریاں اپنےقریبی عزیز و اقارب کو بانٹی گئی ہیں، عدالت کی جانب سے یہ دوسرا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ہے اور یہ ہماری کامیابی ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

