بلوچوں کے مزاحمتی مزاج کو سمجھنے کی یہ ایک زبردست مثال ہے کہ انہوں نے باہر سے آیا مذہب تو قبول کر لیا مگر اس میں بھی ایک اختراع ڈھونڈ نکالی۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن پر تو ایمان لے آئے مگر عبادت کا طریقہ اپنا الگ مقرر کیا اور یوں “ذکری“کمیونٹی کی بنیاد رکھی گئی۔
رمضان کے آخری عشرے سے شروع ہو کر ستائیس رمضان کو تربت کیچ کے کوہ مراد پر اختتام پذیر ہونے والی یہ عبادت بلوچ کلچرل ڈائیورسٹی اور مذہبی رواداری کا زبردست نمونہ ہے۔ مرد و خواتین مل کر دو چاپی کی طرز پر ”چوگان“ کرتے ہیں اور خدا کی حمد و ثنا بلوچی زبان میں ادا کرتے ہیں۔ یہ عبادت ہر لحاظ سے کلچرل اور سیکولر ہوتی ہے۔
ذکری کیچ، مکران کی اکثریتی کمیونٹی رہی ہے، اب مکران میں ان کی اکثریت متاثر ہوئی ہے مگر اس کے باوجود نوری نصیر خان کے عہد کے سوا، بلوچ تاریخ میں کبھی مذہبی عدم رواداری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔
میں پندرہ سال پہلے تربت گیا تو کوہِ مراد کی زیارت کی تھی مگر ایک بار ستائیس رمضان والی چوگان میں جانے کی خواہش ہے۔ کہتے ہیں چوگان، بلوچوں کا حج اکبر ہے۔
بدھ, ستمبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا

