Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اگست 25, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
  • آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
  • عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
  • ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
  • مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
  • معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
  • انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
  • حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس
  • بیان مزید دربارہ سود و زیاں : وجاہت مسعود کا مکمل کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » بنگلہ بھاشا آندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی ۔۔وجاہت مسعود
لکھاری

بنگلہ بھاشا آندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی ۔۔وجاہت مسعود

ایڈیٹرفروری 21, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
21 feb 1971
اکیس فروری 1971 ء: شہید مینار پر مادری زبان تحریک کے شہدا کی یاد میں عوام کا آخری اجتماع ۔ اس کے بعد یہ مینار مسمار کر دیا گیا تھا ۔۔
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد صرف ایک دفعہ مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ 4فروری 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے’‘اردو اور صرف اردو“ کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ قائداعظم کے بے پناہ شخصی احترام کے باوجود بنگالی طلبا کے گلے سے احتجاج کی بے ساختہ چنگھاڑ برآمد ہوئی۔ جناح صاحب کی طویل سیاسی زندگی میں کم ہی ایسا ہوا تھا کہ انھیں کسی عوامی اجتماع میں کھلم کھلا مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔اردو پاکستان کے صرف چار فیصد باشندوں کی مادری زبان تھی جبکہ 56 فیصد پاکستانی بنگالی بولتے تھے۔ ادبی روایت، فنی استعداد اور علمی ذخیرے کے اعتبار سے بنگالی کا شمار ہندوستان کی ترقی یافتہ ترین زبانوں میں ہوتا تھا۔ ادب کے میدان میں ہندوستان کے حصے میں آنے والا واحد نوبیل انعام بنگالی ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کو ملا تھا۔ ان گنت ندی نالوں کی اِٹھلاتی موجوں میں ب±نی بنگالی زبان کا لحن قدرتی طور پر موسیقی کے لیے موزوں تھا۔ مشرقی پاکستان کے باشندوں کے لیے بنگالی زبان محض جذباتی وابستگی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ان کے لیے معاشی امکانات اور سیاسی مواقع کا سوال بھی تھا۔
تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ زبان کے اس جھگڑے کی جڑیں دراصل متحدہ پاکستان کے انوکھے جغرافیے میں تھیں۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبے بنگالی زبان و ثقافت سے بالکل نا آشنا تھے چنانچہ بنگالی کو قومی زبان قرار دینے میں مشکلات تھیں۔ دوسری طرف اردو کے ساتھ بنگالی کو قومی زبان بنانے سے باقی صوبوں میں مقامی زبانوں کے سلسلے میںبے چینی پیدا ہو سکتی تھی کیونکہ اردو پاکستان کے کسی خطے میں روزمرہ کی زبان نہیں تھی۔ اس پر طرّہ یہ کہ افسر شاہی میں اردو بولنے والوں کی بالادستی تھی جو اپنے صوبے بلکہ تحصیل ہی کے لب و لہجے کو سند جانتے تھے۔ فیصلہ سازوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اردو کو مذہبی لبادہ پہنا کر سرکاری زبان بنا دیا جائے۔ خیال تھا کہ مذہب کی آڑ میں اس مصنوعی بندوبست سے کسی حد تک کام چلایا جا سکے گا۔پروفیسر محمد سرور تحریک پاکستان کا ایک باب میں لکھتے ہیں کہ فضل الٰہی چوہدری (بعد ازاں صدر پاکستان) مولانا ابوالکلام آزاد سے 1956 میں اپنی ملاقات کے حوالے سے بتاتے تھے کہ مولانا نے دیگر امور کے علاوہ انھیں مدبرانہ نصیحت کی تھی کہ زبان کے مسئلے پر مشرقی پاکستان کے جذبات کا خیال رکھا جائے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مرکزی قیادت کو بنگالیوں کے اپنی زبان سے تعلق کی شدت کا اندازہ نہیں ہے

21 feb 1971
اکیس فروری 1971 ء: شہید مینار پر مادری زبان تحریک کے شہدا کی یاد میں عوام کا آخری اجتماع ۔ اس کے بعد یہ مینار مسمار کر دیا گیا تھا ۔۔

مشرقی پاکستان میں زبان کے تنازعے پر بے چینی اندر ہی اندر پھیلتی رہی۔ 26 جنوری 1952 کو دستور ساز اسمبلی کی رہنما اصول کمیٹی نے اردو زبان کو واحد قومی زبان قرار دینے کی سفارش کی تو بنگالی احتجاج کا لاوا بہہ نکلا۔ دو روز بعد پلٹن میدان کے جلسہ عام میں مرنجاں مرنج وزیر اعظم ناظم الدین کی طرف سے اردو زبان کی حمایت نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ عوامی مسلم لیگ اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں نے فوری طور پر کل جماعتی قومی زبان کمیٹی تشکیل دے دی جس کے سربراہ سرکردہ بنگالی رہنما ابو ہاشم تھے۔ ڈھاکہ کے طلبا نے 4 فروری کو قائداعظم کے یونیورسٹی خطاب کے چار برس پورے ہونے پر ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ21 فروری کو ڈھاکہ میں ایک جلوس نکالا جائے جو صوبائی اسمبلی کو بنگالی زبان کے سلسلے میں ایک یادداشت پیش کرے۔ 21 فروری کو صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہونا تھا۔مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری عزیز احمد کی بے لچک ضابطہ پسندی اور شخصی رعونت ضرب المثل تھی۔ وزیراعلیٰ نورالامین مرکزی حکومت کے حاشیہ بردار سمجھے جاتے تھے۔ صوبائی حکومت نے 20 فروری کی شام ڈھاکہ کے علاقے رمنا میں دفعہ144 نافذ کر کے ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی۔ کل جماعتی قومی زبان کمیٹی کے رہنماو¿ں کی اکثریت چاہتی تھی کہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے 21 فروری کا احتجاج منسوخ کر دیا جائے لیکن طالب علم رہنما متین الدین نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔
21 فروری کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہزاروں طالب علم دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ہوئے۔ طلبا تین گھنٹے تک آنسو گیس اور پولیس کی لاٹھیوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ جلوس ڈھاکہ میڈیکل کالج کے قریب پہنچا تو پولیس نے گولی چلا دی۔ موقع پر موجود پولیس کے کمانڈنگ افسر کا نام مسعود محمود تھا جو 28 برس بعد بھٹو صاحب کے خلاف مقدمہ قتل میں وعدہ معاف گواہ بن گیا تھا۔ پانچ طالب علم، صلاح الدین، عبدالجبار، ابو برکت، رفیق الدین اور عبدالسلام موقع پر ہلاک ہو گئے۔ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ طالب علموں پر گولی چلنے کی خبر سے ڈھاکہ شہر غم و غصے میں ڈوب گیا۔
کئی برس بعد فیض صاحب نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”انتساب“ میں پاکستان کے ان بیٹوں کو یاد کرتے ہوئے لکھا تھا:

پڑھنے والوں کے نام
وہ جو اصحابِ طبل و علم
کے دروں پر کتاب اور قلم
کا تقاضا لیے، ہاتھ پھیلائے
پہنچے مگر لوٹ کر گھر نہ آئے
22 فروری کو مرنے والے طالب علموں کا جنازہ ایک بڑے جلوس کی شکل اختیار کر گیا جس میں ڈھاکہ سیکرٹریٹ کے 5000اہلکار بھی شریک تھے۔ توپ خانہ سے نواب پور اور صدر گھاٹ سے وکٹوریہ پارک تک ڈھاکہ شہر ”جیے بانگلہ“ اور ”جیے بھاشا“ کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ احتجاج کرنے والے اسمبلی تک جانا چاہتے تھے۔ جلوس کرزن ہال تک پہنچا تو پولیس نے ایک بار پھر گولی چلا دی۔ چار بنگالی کھیت رہے۔ عوامی دباو کے پیش نظر وزیر اعلی نورالامین نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جس میں مرکزی حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ اردو کی طرح بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دیا جائے۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
معروف مورخ حسن ظہیر لکھتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی میں اب تک حزب مخالف زیادہ تر ہندو ارکان پر مشتمل تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمان ارکان نے غیر مسلم قانون سازوں کے ساتھ مل کر رائے دی۔ جلد ہی عوامی مسلم لیگ کا نام بدل کر عوامی لیگ رکھ دیا گیا اور وہ واضح طور پر حکومت مخالف سیاست کرنے لگی۔سڑکوں پر ریاستی طاقت کے اس مظاہرے کے بعد پہلی مرتبہ بنگالی مسلمانوں نے دوسرے پاکستانی شہریوں سے فاصلہ محسوس کرنا شروع کیا۔ دو برس بعد (مارچ 1953) صوبائی انتخابات میں جگتو فرنٹ نے 309میں سے301نشستیں جیت کر صوبے میں مسلم لیگ کا صفایا کر دیا۔ 1956کے دستور میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان قرار دیا گیا تو بنگالی رائے عامہ کو اندازہ ہوا کہ جو معاملات پارلیمنٹ میں بحث مباحثے سے نہیں سلجھائے جا سکتے انھیں سڑکوں پر نعرے بازی سے منوایا جا سکتا ہے۔دو روز تک مار دھاڑ اور گرفتاریوں سے بھاشا تحریک وقتی طور پر دب گئی مگر 23 فروری کی رات ڈھاکہ میڈیکل کالج کے طالب علموں نے راتوں رات اس مقام پر ’شہید مینار‘ کے نام سے ایک یادگار کھڑی کر دی جہاں طالب علم ابو برکت گولی کھا کر گرا تھا۔ یہ یادگار بنگالی قوم پرستی کی علامت بن گئی۔ 1970کا انتحاب جیت کر شیخ مجیب الرحمن نے آدھی رات کو جلوس کی صورت میں یہاں حاضر ہو کر بنگلہ دیش کے پرچم کو سلامی دی تھی۔ 25مارچ 1971کو فوجی کارروائی کے دوران شہید مینار کو منہدم کر دیا گیا تھا۔
1952کا بھاشا آندولن بنگالی زبان و ثقافت کے لیے مخصوص تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ واقعہ دنیابھر میں زبان، ثقافت اور شناخت کے لیے جدوجہد کا استعارہ بن گیا۔ 999۱ءمیں بنگلہ دیش اور 28دیگر ممالک نے یونیسکو کی جنرل کانفرنس میں قرارداد پیش کی کہ 21فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دیا جائے۔ یونیسکو نے رواداری، تنوع اور قبولیت جیسی اقدار کے تحفظ کے لیے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ سنہ2000 سے ہر سال 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

( بشکریہ : ہم سب لاہور)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنواز شریف پارٹی صدارت کے لئے نا اہل : سینیٹ الیکشن خطرے میں پڑ گئے
Next Article نواز شریف پر سپریم کورٹ کا ایک اور وار ۔۔سید مجاہد علی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم

اگست 24, 2026

آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ

اگست 23, 2026

عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ

اگست 23, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم اگست 24, 2026
  • آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ اگست 23, 2026
  • عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ اگست 23, 2026
  • راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار اگست 23, 2026
  • ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ اگست 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.