کل ہی کی بات ہے کھانا کھانے کے لیے ایک معروف ہوٹل میں جانا ہوا۔۔بارہا اسی جگہ جاتے رہتے ہیں لیکن موسم حالات و واقعات اور مزاج کی بات ہوتی کہ سامنے پڑا گلاس کبھی آدھا خالی نظر آتا اور کبھی آدھا بھرا ہوا۔۔۔ شیشے کے پار سبز ہرے بھرے پودے اور ان پر نیچے سے اوپر کے زاویے میں پڑنے والی روشنی نظروں کو خيرہ کر دینے والا منظر پیش کر رہے تھے۔۔۔بشری اور خصوصاً نسوانی فطرت ہے ہر بھلی لگنے والی چيز کو ہاتھ لگا کر دیکھنے کی غیر ارادی سی خواہش ہوتی ہے۔۔کتاب کا سرورق ہو، کپڑا ہو، سبزی پھل یا کوئی مسالہ جات ہوں،پیارا سا کوئی بچہ ہویا پھول پتےہوں ہماراہاتھ غیر ارادی طور پر ان کو چھو لینا چاہتا ہے۔۔۔شیشے کے پار نظر آنے والے پودے خصوصاً منی پلانٹ (ivy leaf plant) جو کہیں بھی لگا دو جی اٹھنے اور بڑھنے کی خصوصیت کی وجہ سے بہت پسند ہے اتنے حسین لگ رہے تھے کہ دل کرتا تھا کہ ہاتھ بڑھاو اور چھو لو۔۔۔شیشہ بھی اس قدر صاف شفاف تھا کہ اس کی موجودگی محسوس نہ ہوتی تھی۔۔۔۔بلاشبہ زندگی میں بہت سی چيزيں ایسی ہوتی ہیں جو نظروں کے عین سامنے ہوتی ہیں اور لگتا ہے ہاتھ بڑھائيں گے اور پا لیں گے۔۔۔لیکن قسمت اور نصیب اس شیشے کی مانند ہماری خواہش اور ہمارے درمیان حائل رہتے ہیں ۔۔۔کتنی ہی کوشش کر لیں سر پٹخ لیں ہماری حیثيت بالکل اس بھکاری کی مانند ہوتی ہے جو شیشے کے پار نظر آنے والی چمکتی دمکتی چيزو ں کو دیکھ کر ان کی خواہش اور حسرت تو پالتا ہے مگر ان کو پا نہیں سکتا۔۔۔اور بعض چيزيں بشمول عزت محبت اور مقام کے ایسے مل جاتی ہیں اور وہاں سے مل جاتی ہیں جن کو پا لینا بظاہر ناممکن اور راستے دشوار لگتے تھے۔۔۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

