خلیفہ مسر ور حسنین صدیقی کے ساتھ ہمارا تعلق کالج کے زمانے سے ہے۔ ایک گروپ فوٹو میں ہم سب”لڑکے“ مسلم ہائی سکول کے گراؤنڈ میں نامور ماہرتعلیم ہاشم خان اورمعروف شاعر منیر فاطمی کے ساتھ ہیں۔41برس پرانی اس تصویر میں میرے ساتھ شاکرحسین شاکر، سلیم ناز اوراسلام تبسم بھی موجود ہیں۔۔ ہم چاروں نے1981ء میں نوجوانوں کی ادبی تنظیم ”مجلس فکرنو“ قائم کی تھی۔شاکر حسین شاکر مجلس فکر نو کےمعتمد ( یعنی جنرل سیکرٹری) ،سلیم ناز نائب صدر اور اسلام تبسم نائب معتمد ( جوائنٹ سیکریٹری ) تھے جبکہ صدارت کا نمائشی عہدہ ہمارے سپرد کیا گیا تھا۔بعدازاں 1988-89ء میں زکریایونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بھی اسی نام کے ساتھ تنظیم قائم کی گئی جس کے گروپ فوٹو میں اس زمانے کے طلبا وطالبات چیئرمین شعبہ اردو ڈاکٹر انوار احمد کے ساتھ موجودہیں۔مجلس فکر نو کی پہلی سالگرہ کے موقع پر 5فروری 1983ء کو ہم نے ملتان آرٹس کونسل میں ڈاکٹر مقصودزاہدی کی صدارت میں شام انشائیہ اور غزل کی تقریب کابھی اہتمام کیاتھا۔اس مشاعرے میں شاعروں کو حروف تہجی کی ترتیب سے پڑھایا گیا اس طرح اسلم یوسفی اور اقبال ارشد نے سب سے پہلے کلام سنایا ۔ اسلم یوسفی اس پر ہم سے خفا بھی ہو گئے تھے ۔
یہ تو سالگرہ کا احوال تھا لیکن اس تنظیم کی پہلی تقریب ہم نے ہاشم خان صاحب کے تعاون سے 8مئی 1982ء کو مسلم ہائی سکول میں منعقد کی۔ یہ بیت بازی کامقابلہ تھا جس میں کالج کے علاوہ سکول کے طلبا بھی شریک تھے۔ تقریب کی صدارت منیر فاطمی صاحب نے کی۔ تقریب میں اطہر ناسک، اسلام تبسم اوراس دور کے بہت سے نوجوان لکھاری بھی موجودتھے جن میں ایک نام مسرورحسنین صدیقی کابھی تھا۔ مسرور صدیقی نے اس مقابلے میں دوسرا انعام حاصل کیاتھا۔ماضی کی یہ خوبصورت یادیں مجھے خلیفہ مسرور کے نئے سفرنامے ”سفر مودت“ کے مطالعے کے بعد یاد آئیں۔ ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا کہ مسرور صدیقی اور عامرشہزاد صدیقی ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اورپھران کے ساتھ رابطے کی ایک کڑی سرائیکی کے معروف شاعر اوردانشور ممتاز حیدر ڈاہر بھی بن گئے جن سے ملاقات کے لیے ہم مسرور صدیقی کے پرانے گھر میں جا کر بہت سا وقت گزارتے تھے۔ آئیں اب اصل موضوع کی جانب آتے ہیں جس کے لیے ہم نے یہ تمہید باندھی اور وہ موضوع ہے خلیفہ مسرور کا دوسرا سفرنامہ”سفر مودت“۔اس سے پہلے وہ 2020ء میں ”زائر حرم“کے نام سے سفرنامہ حج بھی منظرعام پرلاچکے ہیں۔
”سفرمودت“ دراصل مسرورحسنین صدیقی کے سفر اربعین کی روداد ہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ 2017ء،2018اور 2022ء میں عراق کاسفر کیا اورپھروہ تمام احوال اس کتاب کاحصہ بنادیا۔کتاب کے مطالعے کے دوران ہمیں اپنے وہ دوست بھی یاد آئے جنہوں نے چند برس قبل اربعین کے سفر کی تیاری کی اور ہمیں بتایا کہ ہم اس مرتبہ محرم الحرام بہرصورت کربلامیں گزاریں گے۔ لیکن پھریوں ہوا کہ ان کاسفر گفتگو تک ہی محدودرہ گیااورانہوں نے چشم تصور میں ہی نہ صرف یہ کہ اربعین کاسفر کیا بلکہ عقیدت میں ڈوبا ہوا ایک آدھ کالم بھی تصوراتی سفر کے حوالے سے تحریر کردیا۔ ہم 2012ء میں جب عمرے کے لیے سعودی عرب گئے تھے تو اس وقت ہمیں یہ بتایاگیا تھا کہ خدا کے گھر کی زیارت انہی کو نصیب ہوتی ہے جنہیں اس کی جانب سے بلاوا آتا ہے۔یہ جملہ خلیفہ مسرور حسنین کی اس کتاب میں بھی ہمیں بارہا پڑھنے کوملا۔ اور پھر ہمیں خیال آیا کہ ہمارے جو دوست اربعین کے سفر کی تیاریاں کررہے تھے وہ شاید اسی لیے اب تک وہاں نہیں جاسکے کہ انہیں وہاں سے بلاوا ہی نہیں آیا۔ پھرہم جیسوں کے ذہن میں یہ سوال بھی ضرور ابھرتا ہے کہ کیا مقدس مقامات کابلاوا انہی کے مقدر میں ہوتا ہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہیں اور جوصاحب استطاعت نہ ہو اس کے دل میں کتنی ہی عقیدت اور تڑپ موجودکیوں نہ ہو وہ مقدس مقامات کی زیارت کی حسرت دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
192صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مسرور صدیقی نے یادگار تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں ایک تصویران کے دادا کے جنازے کی ہے جو حضرت امام حسینؓ کے مزار کے احاطہ میں ادا کیا جارہاہے۔کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے سفر کی روداد کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالوں سے بھی اس کتاب کو مزین کیا ہے۔ جن مزارات پرانہوں نے حاضری دی اس کی تفصیل کے علاوہ متعلقہ ہستی کی زندگی کا مختصر احوال بھی اس کتاب میں شامل کردیاگیاہے۔ اس طرح یہ کتاب کربلااور شہدائے کربلا کے حوالے سے دستاویزی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
یہ تو سالگرہ کا احوال تھا لیکن اس تنظیم کی پہلی تقریب ہم نے ہاشم خان صاحب کے تعاون سے 8مئی 1982ء کو مسلم ہائی سکول میں منعقد کی۔ یہ بیت بازی کامقابلہ تھا جس میں کالج کے علاوہ سکول کے طلبا بھی شریک تھے۔ تقریب کی صدارت منیر فاطمی صاحب نے کی۔ تقریب میں اطہر ناسک، اسلام تبسم اوراس دور کے بہت سے نوجوان لکھاری بھی موجودتھے جن میں ایک نام مسرورحسنین صدیقی کابھی تھا۔ مسرور صدیقی نے اس مقابلے میں دوسرا انعام حاصل کیاتھا۔ماضی کی یہ خوبصورت یادیں مجھے خلیفہ مسرور کے نئے سفرنامے ”سفر مودت“ کے مطالعے کے بعد یاد آئیں۔ ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوا کہ مسرور صدیقی اور عامرشہزاد صدیقی ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اورپھران کے ساتھ رابطے کی ایک کڑی سرائیکی کے معروف شاعر اوردانشور ممتاز حیدر ڈاہر بھی بن گئے جن سے ملاقات کے لیے ہم مسرور صدیقی کے پرانے گھر میں جا کر بہت سا وقت گزارتے تھے۔ آئیں اب اصل موضوع کی جانب آتے ہیں جس کے لیے ہم نے یہ تمہید باندھی اور وہ موضوع ہے خلیفہ مسرور کا دوسرا سفرنامہ”سفر مودت“۔اس سے پہلے وہ 2020ء میں ”زائر حرم“کے نام سے سفرنامہ حج بھی منظرعام پرلاچکے ہیں۔
”سفرمودت“ دراصل مسرورحسنین صدیقی کے سفر اربعین کی روداد ہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ 2017ء،2018اور 2022ء میں عراق کاسفر کیا اورپھروہ تمام احوال اس کتاب کاحصہ بنادیا۔کتاب کے مطالعے کے دوران ہمیں اپنے وہ دوست بھی یاد آئے جنہوں نے چند برس قبل اربعین کے سفر کی تیاری کی اور ہمیں بتایا کہ ہم اس مرتبہ محرم الحرام بہرصورت کربلامیں گزاریں گے۔ لیکن پھریوں ہوا کہ ان کاسفر گفتگو تک ہی محدودرہ گیااورانہوں نے چشم تصور میں ہی نہ صرف یہ کہ اربعین کاسفر کیا بلکہ عقیدت میں ڈوبا ہوا ایک آدھ کالم بھی تصوراتی سفر کے حوالے سے تحریر کردیا۔ ہم 2012ء میں جب عمرے کے لیے سعودی عرب گئے تھے تو اس وقت ہمیں یہ بتایاگیا تھا کہ خدا کے گھر کی زیارت انہی کو نصیب ہوتی ہے جنہیں اس کی جانب سے بلاوا آتا ہے۔یہ جملہ خلیفہ مسرور حسنین کی اس کتاب میں بھی ہمیں بارہا پڑھنے کوملا۔ اور پھر ہمیں خیال آیا کہ ہمارے جو دوست اربعین کے سفر کی تیاریاں کررہے تھے وہ شاید اسی لیے اب تک وہاں نہیں جاسکے کہ انہیں وہاں سے بلاوا ہی نہیں آیا۔ پھرہم جیسوں کے ذہن میں یہ سوال بھی ضرور ابھرتا ہے کہ کیا مقدس مقامات کابلاوا انہی کے مقدر میں ہوتا ہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہیں اور جوصاحب استطاعت نہ ہو اس کے دل میں کتنی ہی عقیدت اور تڑپ موجودکیوں نہ ہو وہ مقدس مقامات کی زیارت کی حسرت دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔
192صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مسرور صدیقی نے یادگار تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں ایک تصویران کے دادا کے جنازے کی ہے جو حضرت امام حسینؓ کے مزار کے احاطہ میں ادا کیا جارہاہے۔کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے سفر کی روداد کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالوں سے بھی اس کتاب کو مزین کیا ہے۔ جن مزارات پرانہوں نے حاضری دی اس کی تفصیل کے علاوہ متعلقہ ہستی کی زندگی کا مختصر احوال بھی اس کتاب میں شامل کردیاگیاہے۔ اس طرح یہ کتاب کربلااور شہدائے کربلا کے حوالے سے دستاویزی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

