بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک آرمی میجر اور ایک سپاہی شہید ہو گیا۔
یہ واقعہ ضلع شیرانی میں تین چوکیوں پر بیک وقت حملوں میں چار سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کی باوثوق انٹیلی جنس کی بنیاد پر ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں آپریشن کا آغاز کیا۔
مزید کہا گیا کہ فرار ہونے والے راستے بند کرنے کے لیے ناکہ بندیوں کے قیام کا عمل جاری تھا کہ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں میجر ثاقب حسین اور نائیک باقر علی نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ایک اور سپاہی زخمی ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں حملے کے مجرموں کو پکڑنے کے لیے فالو اپ آپریشن جاری ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اس واقعے سے کئی گھنٹے قبل بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے 3 اہلکار شہید ہوگئے تھے جبکہ ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی بلال شبیر نے بتایا کہ اتوار کی رات 12 بج کر 5 منٹ پر نامعلوم دہشت گردوں نے ضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر میں پولیس اسٹیشن اور ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 2 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو ان کے ساتھی اپنے ساتھ لے کر جانے میں کامیاب ہوگئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے دانہ سر اور دیگر علاقوں میں ناکہ بندی کردی ہے۔
بلال شبیر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوا جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ شہید اہلکاروں کی میتیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ژوب منتقل کردی گئیں جبکہ مارے جانے والے دہشت گرد کی لاش کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کردیا گیا۔
ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت سب انسپکٹر بہادر خان، سپاہی محمد افضل اور سپاہی محمد باز خان، سپاہی ایف سی (گن مین کیپٹن سعید) کے نام سے ہوئی جن کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ژوب منتقل کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
منگل, ستمبر 15, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟

