رضی الدین رضی کا شمار ملتان سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء میں ہوتا ہے مگر وہ شاعر ہونے کے علاوہ ایک صاحب طرز کالم نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب کالم” ہوتل بابا کے“ حال ہی میں شائع ہوئی ہے دنیا بھر میں سو سو سال سے زاید پرانے اخبارات ابھی تک پورے طمطراق سے شائع ہو رہے ہیں مگر پاکستانی ہر نئی شے کے پیچھے اس طرح بھاگتے ہیں کہ پرانی اشیاء ، شخصیات ، نظریات اور اقدار میلوں پیچھے رہ جاتی ہیں ۔
اگرچہ ہمارے ملک میں پرنٹ میڈیا حالت نزع میں ہے مگر ہمیں رضی صاحب کے کالموں کی یہ کتاب اس لیے بھی اچھی لگی کہ اس کا تعلق پرانے عہد سے ہے ایک ایسا عہد جس میں ڈاکٹر اختر شمار اور اطہر ناسک جیسے ہمارے مرحوم دوست چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس سے نہ صرف ا دبی منظر نامہ بل کہ بعض ادبی کرداروں کو سمجھنے میں بھی خاصی مدد ملتی ہے۔
یوں تو پاکستان سے شائع ہونے والے ہر اخبار میں روز انہ کی بنیاد پر کالموں کا اتوار بازار لگتا ہے اور ہر جگہ کالم کے نام پر دقیق مقالے یا پھر نابالغ تحریریں شائع ہوتی ہیں مگر رضی کے کالم پڑھنے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ رضی انگلیوں پر گنے جانے والے ان چند قلم کاروں میں شامل ہے جنہیں سچ مچ کالم لکھنا آتا ہے۔ ان کے کالموں میں دلچسپی کے تمام عناصر موجود ہیں جس طرح ان کی غزلوں میں پرندوں کی طرح اڑتے ہوئے مصرعے نظر آتے ہیں کچھ ایسا ہی سماں ان کالموں کے زندہ رہنے والے فقرے باندھ دیتے ہیں جو سال ہا سال گزرنے کے بعد بھی اپنے ممدوحین کا پیچھا کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک ہر اچھے کالم نگار کے قلم میں خیر کے ساتھ ساتھ ایک شر بھی ہوتا جسے ایک آدھ فقرے میں اچھال کر وہ آگے بڑھ جاتا ہے اور متاثرین اس پر واویلا کرتے رہ جاتے ہیں یہی شر اسے اپنے عہد کا بڑا کالم نگار بناتا ہے رضی ایک ایسا ہی ‘شر نگار’ ہے اور یہی وہ شے ہے جو کئی دہائیاں پہلے لکھے جانے والے اس کے کالموں کو عہد حاضر میں قابل مطالعہ بناتی ہے۔
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

![رضی الدین رضی کی” شر نگاری”اور کالم ہوتل بابا کے :ڈاکٹر جواز جعفری کا تبصرہ ]hotel](https://girdopesh.com/wp-content/uploads/2023/05/hotel-429x438.jpg)