اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو آج وفاقی دارالحکومت میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
ایک بیان میں اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور ریلی سے وی آئی پی نقل و حرکت اور سکیورٹی میں خلل پیدا ہوگا۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جڑواں شہروں میں دہشتگردی کی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ماضی میں تحریک انصاف نے شرائط کی خلاف ورزی کی جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا۔
دوسری طرف رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح ہدایات کے باوجود کے ریلی نکالنا آئینی حق ہے، انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
’یہ پر امن ریلی آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالی جا رہی ہے۔ یعنی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے عدالتوں کو صاف پیغام کے ہم آپ کا حکم نہیں مانتے۔‘
ادھر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو زمان پارک سے لکشمی چوک ریلی کی مشروط اجازت دی ہے جس کے مطابق عدلیہ اور اداروں کے خلاف تقاریرکی اجازت نہیں ہوگی جبکہ عوامی املاک کو نقصان پہنچا تو پی ٹی آئی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔
اس کے علاوہ ریلی کے دوران کاروباری مراکز بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کارکن ڈنڈے یا اسلحہ ساتھ نہیں لائیں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت شہر میں جلسے، جلوسوں اور ریلیاں نکالنے پر پابندی ہے۔
ایک بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے ’کسی ریلی کی اجازت نہیں لی گئی۔ بغیر اجازت ریلیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کل شہریوں کو رستوں کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شہری سفر کرنے سے پہلے راستوں کے متعلق معلومات حاصل کرلیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس انتظامات کرے گی۔ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق پکار 15 پر اطلاع دے کراپنا قومی فریضہ نبھائیں۔‘
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور، پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں آج ریلیاں نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں ریلی نکالنے کی اجازت نہ مل سکی، لاہور میں مشروط اجازت
ایڈیٹر5 Views

