قصو: پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کریں گے جن کے مطابق پولیس نے ایک شخص کو ایک بچی کے قتل کے غلط الزام میں ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔یہ واقعہ گذشتہ برس فروری میں پیش آیا تھا۔یہ الزامات بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں اس وقت سامنے آئے جب حال ہی میں صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب انصاری کے ڈی این اے سے معلوم ہوا کہ ان بچیوں کو مارنے والا شخص ایک ہی ہے۔پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال فروری میں مدثر نامی شخص گرفتاری کے دوران مزاحمت کی وجہ سے مارا گیا تھا۔
(بشکریہ : بی بی سی اردو )
پیر, نومبر 2, 2026
تازہ خبریں:
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

