نامور صحافی ،شاعر اوردانشور شبیرحسن اخترکی11 ویں برسی آج منائی جاری ہے ۔شبیرحسن اختریکم ستمبر1928ءکوجام پورمیں پیداہوئے ۔ان کے والدکیفی جام پوری خودبھی ماہر تعلیم اورنامور شاعر تھے ۔شبیرحسن اختر جام پوری نے جام پورسے میٹرک کاامتحان پاس کیا۔ایف اے ،بی اے کے بعد وہ تدریس سے وابستہ ہوئے اورمسلم ہائی سکول ملتا ن میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔شبیر حسن اخترنے ایم اے کاامتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1962میں پاس کیا۔وہ روزنامہ امروز سے 30برس تک وابستہ رہے اوریہاں انہوں نے نیوز ایڈیٹر ،کالم نگار اورمیگزین انچارج کے طورپرخدمات سرانجام دیں رہے۔امروز کی بندش کی بعد وہ سرائیکی ریسرچ سنٹر زکریایونیورسٹی سے وابستہ ہوئے ۔شبیرحسن اختر نے فریدشناسی اورتاریخ وادب کے حوالے سے چارکتابیں ترتیب دیں ۔جن میں ملتان اردوکی جنم بھومی قابل ذکرہے ۔24جنوری 2007ءکو وہ دل کادورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ۔
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

