کراچی: پی سی بی ’’سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ سے دامن بچانے لگا جب کہ نیوزی لینڈ سے سیریز کے اسپانسرز میں تاحال کوئی ایسی ’’نیوز ویب سائٹ‘‘ شامل نہیں جس کے اصل کام پر شکوک ظاہر کیے جاتے ہوں۔
پاکستان کرکٹ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران چند مشکوک اسپانسرز بھی سامنے آئے ہیں، گوکہ بظاہر وہ نیوز ویب سائٹس ہیں مگر ان میں سے بعض کا تعلق جوئے کی کمپنیز سے بتایا گیا، وہ یہاں نام میں معمولی تبدیلی کر کے کام کر رہی تھیں، باہمی سیریز کے بعد پی ایس ایل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، اس پر بعض کھلاڑیوں نے احتجاج بھی کیا۔
محمد رضوان نے اختتامی میچز میں ملتان سلطانز کے اسپانسر کا لوگو ٹیپ سے چھپا دیا تھا، یہ معاملہ زیادہ بڑھا تو پی سی بی کو بھی ایکشن لینا پڑا، نیوزی لینڈ سے سیریز کے اسپانسرز میں اس بار ’’ڈافا نیوز‘‘ شامل نہیں، دیگر ممالک میں اسی لوگو کی حامل ’’ڈافا بیٹس‘‘ نامی کمپنی کرکٹ کو اسپانسر کرتی ہے۔
لہٰذا پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ کی اسپانسر کمپنی نیوز سائٹ ہے،حالیہ سیریز میں اسی طرح کی دیگر کمپنیز کو بھی اسپانسرشپ نہیں کرنے دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکام کو لگتا ہے سیروگیٹ اسپانسر شپ سے غلط تاثر سامنے آ رہا ہے، اس لیے نیوزی لینڈ سے ہوم سیریز میں مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ اور حقوق کی حامل کمپنی کو فی الحال ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
گزشتہ روز سامنے آنے والی فہرست میں ٹائٹل اسپانسر ایک بینک ہے، دیگر کمپنیز میں بھی کوئی ایسی ’’نیوز سائٹ‘‘ شامل نہیں،ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بورڈ کا یہ اقدام صرف ایک سیریز کیلیے ہے یا اسے مستقبل کے تمام ایونٹس میں لاگو کیا جائے گا۔
(بشکریہ:ایکسپریس)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

