عام طور پر گھڑی کا موجد پیٹر ہیلی کو کہا جاتا ہے، اس کا تعلق جرمنی سے تھا۔ اس نے 1485ء میں گھڑی بنائی اور اس میں جدت پیدا کی۔ شروع میں “سن ڈائل دھوپ گھڑی” کا استعمال عام تھا۔
سن ڈائل سے سائے اور چکنی سطح پر بنے اعداد کی مدد سے صرف دن میں وقت معلوم کیا جاسکتا تھا
سوئٹزر لینڈ میں قیمتی گھڑیا ں بنتی ہیں جو اکثر تحفہ میں دی جاتی ہیں زیادہ تر لوگ تحفہ خود استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک آدھ بندہ تحفہ کو بیچ بھی دیتا ہے تاہم مہذب لوگ تحفہ کو بیچنا برا سمجھتے ہیں۔
لیکن معاشرےمیں کچھ لوگ ایسے بھی پاۓ جاتے ہیں جوتحفہ فروخت کرنے کے عمل کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔اور اگر آپ انہیں سمجھائیں کہ بھائی یہ اچھی بات نہیں تو آگے سے گالیاں دیتے ہیں اس لئے باشعور لوگ ان سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

