واشنگٹن :کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہمارا سیارہ یعنی زمین کے ایک دن کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟یقیناً آپ کا جواب ہوگا 24 گھنٹے، جس کے دوران زمین مدار کے گرد چکر مکمل کرلیتی ہے۔مگر ہمارے سیارے نے حال ہی میں مختصر ترین دن کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
29 جون 2022 کو ہمارے سیارے نے مدار کے گرد اپنا چکر 24 گھنٹے سے 1.59 ملی سیکنڈ قبل مکمل کرلیا۔ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر حالیہ برسوں میں زمین کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہوگئی ہے۔
زمین کی گردش کے تیز ترین 28 دن (1960 سے اب تک) 2020 میں ریکارڈ ہوئے، کیونکہ زمین اپنے مدار میں اوسط سے زیادہ رفتار سے گردش کررہی تھی۔
ویسے یہ کوئی باعث تشویش نہیں، ہماری زمین کی گردش کی رفتار ہر وقت کچھ حد تک بدلتی رہتی ہے، جس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جیسے ماحولیاتی دباؤ، ہوا، سمندری کرنٹ اور کور کی حرکت۔
19 جولائی 2020 کو زمین نے مدار کے گرد اپنا چکر 1.47 ملی سیکنڈ قبل مکمل کرلیا تھا جسے سائنسدانوں سے 1960 سے اب تک کا مختصر ترین دن قرار دیا تھا۔مگر یہ ریکارڈ 29 جون 2022 کو ٹوٹ گیا۔
اسی طرح 26 جولائی 2022 کو بھی زمین نے اپنے مدار کا چکر 1.50 ملی سکینڈ پہلے مکمل کرلیا، یعنی یہ دوسرا مختصر ترین دن بن گیا۔زمین کی گردش کو دیکھتے ہوئے اکثر لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے 1972 سے اب تک ایسا 27 بار ہوا ہے اور آخری بار ایسا دسمبر 2016 کو ہوا۔جو عموماً زمین کی گردش میں معمولی تاخیر کا نتیجہ ہوتا ہے مگر اب منفی لیپ سکینڈ پر غور کیا جارہا ہے۔یعنی سائنسدان غور کررہے ہیں کہ ایک لیپ سکینڈ کے اضافے کی بجائے اس میں ایک لیپ سکینڈ کمی کی جائے تاکہ جوہری گھڑیوں کے میکنزم کو درست رکھا جاسکے۔
زمین کی تیز رفتار گردش جوہری گھڑیوں پر اثرانداز ہوتی ہے جو جی پی ایس سیٹلائیٹس کو استعمال کرتی ہیں ، اگر زمین کی گردش میں تیزرفتاری کا سلسلہ برقرار رہے تو جی پی ایس سیٹلائیٹس زیادہ جلدی بیکار ہوسکتے ہیں۔اسی طرح زمین کی گردش سے وقت پر مرتب ہونے والے اثرات اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور کمیونیکیشن سسٹمز کو بھی متاثر کرسکتے ہیں جو نیٹ ورک ٹائم پروٹوکول سرورز سے جڑے ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے سائنسدانوں کی جانب سے منفی لیپ سینڈ پر غور کیا جارہا ہے۔
( جیو نیوز )
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

