سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس مؤخر کیا جائے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج اور جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ ’مجھے اپنی سالانہ چھٹیوں کے دوران سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے واٹس ایپ میسج موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے 28 جولائی 2022 کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سپریم کورٹ کے 5 ججوں کی تعیناتی پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب میں نے سالانہ چھٹی لی اس وقت جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس طے نہیں تھی لیکن جیسے ہی میں پاکستان سے روانہ ہوا تو چیف جسٹس نے فیصلہ کیا کہ جوڈیشل کونسل کے 2 اجلاس ہوں گے تاکہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس میں تعیناتیوں پر غور کیا جا سکے اور اب جوڈیشل کمیشن کا تیسرا غیر اعلانیہ اجلاس سپریم کورٹ کی گرمیوں کی تعطیلات کے دوران منعقد ہونا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کی گرمیوں کی تعطیلات کا خود چیف جسٹس نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے بعد یہ سرکاری گزٹ میں درج کر دی گئی تھیں، اگر چیف جسٹس اپنے نوٹیفکیشن کو بالکل بے معنی قرار دیتے ہیں تو اس کی خلاف ورزی سے پہلے وہ اسے واپس لے لیں‘۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نشاندہی کی کہ 28 جون کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس اور جسٹس اعجاز الاحسن کے علاوہ ہر کسی نے اجلاس ملتوی کرنے کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اجلاس بلانے کا کوئی جواز نہیں اور سب سے سینئر جج منظور شدہ سالانہ چھٹیوں پر ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ‘میں انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کو مسترد نہیں کر سکتے، منظور شدہ تعطیلات کے دوران ایسے وقت میں ایک اور اجلاس بلانا بلاجواز ہے جب کچھ اراکین سالانہ چھٹی پر ہوں اور اٹارنی جنرل حال ہی میں کرائی گئی دوسری سرجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
خط میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اجلاس 13 اگست تک ملتوی کیے جانے کی تجویز دی، انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے مہینوں تک اپنا اجلاس نہیں بلایا جب وہ پاکستان میں موجود تھے اور پھر اس طرح کے 3 اجلاس اس وقت طے طلب کیے جب میں منظور شدہ سالانہ چھٹیوں پر ہوں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ چیف جسٹس نہیں چاہتے کہ میں اجلاس میں موجود ہوں جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے‘۔
خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے قبل مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا کہ اس معاملے پر آگے کیسے بڑھنا ہے۔
ان کا اپنے خط میں کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سینئر ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے۔
چیف جسٹس پاکستان کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ 2 ہزار 347 دستاویزات کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے جبکہ یہ دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج نے مزید لکھا ہے کہ یہ دستاویزات نہ مجھے کوریئر کی گئیں اور نہ ہی سفارت خانے کے ذریعے بھجوائی گئیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے بھیجے گئے خط کے مطابق واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی جبکہ واٹس ایپ کے ذریعے مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جاسکتے۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’براہ کرم آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن اور اپنے نامزد امیدواروں کا مذاق نہ بنائیں، جوڈیشل کمیشن کو صرف چیف جسٹس کے پہلے سے منتخب کردہ نامزد افراد پر غور کرنےکا پابند کرنا نامناسب ہے، جوڈیشل کمیشن اپنے چیئرمین کی جانب سے احترام اور تدبر کے ساتھ پیش آنے کا مستحق ہے۔
خط میں کہا گیا کہ ’چیف جسٹس نے یہ کہہ کر غیر منصفانہ عمل کا اعتراف کیا کہ انہوں نے صرف چند ججوں کے ناموں پر غور کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ من مانی ہے، چیف جسٹس نے بتایا کہ انہوں نے پشاور سے 3، لاہور سے 6 اور سندھ سے 12 ججوں کے ناموں پر غور کیا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ لاہور ہائی کورٹ سندھ ہائی کورٹ سے بہت بڑی ہے لیکن ایک جیسی تعداد یا تناسب کو مدنظر نہیں رکھا گیا‘۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘چیف جسٹس کی جانب سے اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کے ناموں پر گور نہ کرنا امتیازی سلوک ہے، ان علاقوں کے عوام کا احساس محرومی مزید بڑھتا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شیف جسٹس نے سب سے پہلے یہ فیصلہ کر کے ریورس انجینئرنگ کا سہارا لیا کہ کس کس کو نامزد کرنا ہے اور پھر اپنی نامزدگیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کیا‘۔
انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ تمام تعیناتیاں آئین کے مطابق پہلے سے طے شدہ اور غیر امتیازی معیار کی بنیاد پر کسی تعصب کے تاثر کے بغیر کی جانی چاہئیں، آئین چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن کے دیگر ارکان کے اضافی اختیارات نہیں دیتا، چیف جسٹس کو صرف جوڈیشل کمیشن کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

