پاکستانی سوشل میڈیا پر عمران خان یا پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف عمومی بات کر کے رد عمل سے بچنا محال ہے ایسے میں پاکستانی گلوکارہ قرۃالعین بلوچ کا ایک ٹویٹ انھیں ان کمنٹس کی زد میں لے آیا ہے جنھیں پڑھنا ان کے یا خواتین کے حقوق کی علمبردار کسی بھی خاتون کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔ملک میں اور بیرونِ ملک گلوکاری کی دنیا میں خاصا نام کمانے والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ نے جو QB کے نام سے مشہور ہیں گذشتہ روز ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر مہذب الفاظ استعمال کیے ۔اس ٹویٹ کی وجہ بنی وہ ڈیجیٹل ویڈیو جو عائشہ گلالئی کے عمران خان پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں تھی۔ اس ویڈیو کے بارے میں کی گئی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے عمران خان کے بارے میں اپنے خیال کا اظہار نامناسب الفاظ میں کیا۔اس کے بعد کیو بی کو اس سے بھی بُرے القابات سے نوازا جانے لگا جو خود انھوں نے عمران خان کے لیے استعمال کیے تھے۔18 گھنٹوں کے دوران اُن کے ٹویٹ پر تین ہزار سے زیادہ کمنٹس آئے ایک ہزار کے قریب ری ٹویٹس کیے گئے اور تقریباً سوا دو ہزار افراد نے بحث میں حصہ لیے بغیر اسے صرف لائک کرنے پر اکتفا کیا۔پھر تو جیسے سب کو لائسنس ہی مل گیا، کسی نے قرۃ العین کے کردار پر رکیک حملے کیے، کسی نے اصول کی کتاب کھولی اورکسی نے تنقید کی کہ جو الفاظ کیو بی نے کسی مرد کے لیے استعمال کیے ہیں اگر وہی کوئی مرد کسی عورت کے لیے استعمال کرے تو کتنا ‘ہنگامہ’ ہو؟پی ٹی آئی کے حامیوں نے تو اپیل کر ڈالی کہ ‘گائز’ اس بد تمیزی کے بارے میں سب مل کر ٹوئٹر سے شکایت کریں۔اس کے علاوہ کیو بی کا موازنہ سوشل میڈیا سلیبریٹی قندیل بلوچ سے بھی کیا گیا جو دراصل عمران خان کے بارے میں ٹویٹ کرنے سے ہی مشہور ہوئی تھیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

