اسلام آباد:اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ ”پاکستان کی ادبی زبانوں کا میلہ 2022“ شروع ہوگیاجس کے لیے انڈس کلچر ل ایسوسی ایشن نے تعاون فراہم کیا۔ میلے میں جڑواں شہروں سے آئے ہوئے کتابوں کے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تین روزہ ”پاکستان کی ادبی زبانوں کا میلہ2022“کا افتتاح وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن غزالہ سیفی نے کیا۔
اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ 21فروری کو ماں بولی زبانوں کے عالمی دن سے پہلے ہم نے دن کی اہمیت کا اُجاگر کرنے کے لیے اس میلے کے انعقاد کا پروگرام ترتیب دیا ہے تاکہ عوام الناس کو اپنی ماں بولی زبان اور ملک کی دیگر علاقائی زبانوں سے آشنا ئی ہو سکے۔ڈاکٹریوسف خشک نے کہاکہ دنیا کی طرح کی پاکستان میں بھی 27زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اکادمی ادبیات ان زبانوں کو بچانے کے لیے ایک طویل مدت کامنصوبہ بنارہی ہے۔
ادب زبانوں کے میلے میں مختلف پبلشرز کی جانب سے سٹال لگائے گئے۔ میلے میں آنے والے کتابوں کے شائقین نے اکادمی ادبیات کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ادبی سرگرمیاں ضروری ہیں تاکہ ادب شناسی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
پاکستان کی مادری زبانوں کا میلہ : ستائیس پاکستانی زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ڈاکٹر یوسف خشک
ایڈیٹر7 Views
Previous Articleوسعت اللہ خان کا کالم:بس اللہ مالک ہے
Next Article امتیاز عالم کا کالم:حجاب، عفت و عصمت اور عورت مارچ

