اِس واقعے کو پانچ دن گزر چکے ہیں ، ابھی تک کوئی جلوس نہیں نکلا، کسی مدرسے کا گھیراو نہیں ہوا، کسی نے چنگھاڑتا ہوا کالم نہیں لکھا ، کسی نے زہر میں بجھی ہوئی ٹویٹ نہیں کی ، کسی نے شرعی سزاوں کے نفاذ اور عملدرآمد کا مطالبہ نہیں کیا ،کسی نے جمعے کے خطبے میں ملزم کا نام لے کر اُس کے گھناونے جرم پر فتوی ٰ صادر نہیں کیا اور تحفظ دین کے کسی داعی کے ذہن میں ملزم کی گرفتاری تک دھرنا دینے کا خیال تک نہیں آیا ۔کیوں ؟وجہ ہم سب کو معلوم ہے کہ یہ واقعہ کسی جدید انگریزی اسکول میں پیش نہیں آیا ، ملزم کا تعلق کسی اقلیتی برادری سے نہیں ہے ، واقعے میں کوئی اداکار یا شو بز کا کوئی شخص ملوث نہیں ہے اور واقعے میں کسی نام نہاد لبرل شخص کا ذکر نہیں ہے۔اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو اب تک ملزمان کو بغیر کسی ٹرائل کے بھٹی میں جھونک دیا گیا ہوتا یا ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا ہوتا یا اُن کے خلاف کفر کا فتوی ٰ جاری کر دیا گیا ہوتا۔ لیکن اب چونکہ معاملہ ستر برس کے باریش مفتی صاحب کا ہے اِس لیے سب کی زبانوں پر آبلے پڑ گئے ہیں ، یکایک ہمارے دوستوں کے قلم کی سیاہی بھی خشک ہو گئی ہے ، وہ مذہبی رہنما جو چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی ہماری گوشمالی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اب یوں خاموش ہو گئے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اب کہیں سے یہ تاویل بھی نہیں آ رہی کہ اگلے روز آنے والا زلزلہ دراصل اِس مکروہ گناہ کا نتیجہ تھا اور تو اور اب کسی کو سورة لوط کی آیات بھی یاد نہیں آ رہیں ۔اِس واقعے کی ایف آئی آر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، یہ ایف آئی آر ایسی ہے کہ اِس کے مندرجات یہاں نقل نہیں کیے جا سکتے، صرف اتنا لکھا جا سکتا ہے کہ یہ ایف آئی آر صابر شاہ نامی مدرسے کے ایک طالب علم نے مفتی عزیر الرحمن کے خلاف کٹوائی ہے ۔ صابر شاہ جامعہ منظور الاسلامیہ صدر،لاہور میں زیر تعلیم تھا ، وہا ں مفتی عزیز الرحمن نے مسلسل تین سال تک اُس کے ساتھ بدکاری کی اور اب اِس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صابر شاہ کو قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے ۔بد کاری کے دوران کیا ہوتا رہا ، میرا قلم یہ لکھنے سے قاصر ہے۔
اگر اِس قسم کا واقعہ کسی با پردہ لڑکی کے ساتھ مغربی طرز کے کسی کالج میں پیش آیا ہوتا اور ملزم کلین شیو ہوتا تو اب تک ’انصاف‘ ہو چکا ہوتا۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ مفتی صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں وہ بدکاری کی توجیہہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ’اِس فعل کے دوران کوئی جبر نہیں ہے اور یہ (لڑکا)آزادانہ اپنا ویڈیو خود بنا رہاہے‘۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔
جب بھی اِس قسم کا معاملہ سامنے آتا ہے تو مذہبی جھکاو رکھنے والے ہمارے دوستوں کی جانب سے فوراًکچھ تاویلات سامنے آ جا تی ہیں جو کچھ اِس قسم کی ہوتی ہیں کہ ’ہم نے تو واقعے کی مذمت کر دی ہے ، پولیس نے ایف آئی آر کاٹ دی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا ، ہم کب اِس کا دفاع کر رہے ہیں ، عدالت سے ملزم کو سزا مل جائے گی لہذا اِس ایک واقعے کی آڑ میں مدرسوں کو بدنام نہ کیا جائے ،اِے کہیں زیادہ گھناونے واقعات مغرب میں ہوتے ہیں ۔‘ وغیرہ۔معذرت کے ساتھ ،اِن تاویلات میں کوئی دم نہیں ۔یہ کہنا کہ ہم کب اِس واقعے کا دفاع کر رہے ہیں یا ہم اِس کی مذمت کر چکے ہیں ، کافی نہیں۔ اگر کوئی اِس واقعے کی مذمت نہیں کرے گا تو کیا اِس کا دفاع کرے گا؟ یہ تو ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔یہ درست ہے کہ ایف آئی آر کٹ چکی اور قانون اپنا راستہ لے گا مگر کیا یہی روش ہم دیگر معاملات میں بھی اپناتے ہیں ؟ باقی معاملات میں تو ہم خود قانون ہاتھ میں لے کر بندے کو ’کیفر کردار ‘تک پہنچاتے ہیں ، شہر کا شہر مفلوج کر دیتے ہیں ، پولیس کے جوان شہید کر دیتے ہیں ، اقلیتوں کی بستیو ں کو آگ لگا دیتے ہیں ،اب قانون کا سبق کیوں یاد آ گیا؟لیکن چلیے اچھی بات ہے ، امید ہے کہ آئندہ باقی معاملات میں بھی یہ سبق یاد رہے گا۔مسئلہ مگریہ ہے کہ جب ہم شدت پسندانہ بیانیے کی ترویج کرتے ہیں تو یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اِس کے نتیجے میں تشدد کا ماحول جنم لے گا جس میں بغیر کسی ٹرائل کے ملزم کے قتل کو جائز سمجھا جائے گا۔جب ایسا کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا ہے تو پھر ہم محض یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ نہیں کر سکتے کہ یہ بات قابل مذمت ہے تاوقتیکہ ہمارے قلم سے اسی طرح پھنکارتے ہوئے الفاظ نہ نکلیں جیسے شدت پسندانہ بیانیہ تشکیل کرتے وقت نکلتے تھے ۔ یہ دلیل درست ہے کہ محض چند واقعات کی آڑ میں مدرسوں میں کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے مگر پھر یہی رعایت جدید اسکولوں کو بھی ملنی چاہیے ، اُس وقت تو ہم سب مغرب زدہ کہہ کر اُن تعلیمی اداروں پر پِل پڑتے ہیں جب ایسا کوئی واقعہ وہاں رپورٹ ہوتا ہے ۔
اِس پورے معاملے میں چند لوگوں نے ڈنکے کی چوٹ پر حق کی بات کی جن کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی ۔اِن میں مولانا طاہر اشرفی شامل ہیں جنہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا کہ ایسے گھناونے فعل کے مرتکب شخص کو الٹا لٹکا دینا چاہیے ، مولانا اِس سے پہلے بھی بہت سے معاملات میں دو ٹوک موقف اپنا چکے ہیں جو قابل تحسین ہے، اس کا تفصیلی ذکر پھر کبھی۔نوجوان صحافی سبوخ سید، سینئر تجزیہ کار مرتضی ٰ سولنگی اور ڈان کے پروگرام ’ذرا ہٹ کے ‘ (جس کے نام کے جملہ حقوق فدوی کے نام پر محفوظ ہیں ) کے میزبانوں مبشر زیدی ، وسعت اللہ خان اور ضرار کھوڑونے بھی اِس واقعے کو اسی طرح رپورٹ کیا جیسے کسی کھرے اور دبنگ صحافی کو کرنا چاہیے۔یقینا کچھ او ر لوگ بھی ہوں گے مگر فی الحال یہی نام ذہن میں آ رہے ہیں۔میرا یہ حسن ظن ہے کہ ہمارے دوست کالم نگار ضرور اِس موضوع پر طبع آزمائی کریں گے کیونکہ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہو ں کہ وہ خلوص نیت سے اِس قسم کے واقعات ،جو دین کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ، کے خلاف ہیں ۔ اسی طرح شعلہ بیان مقرر اور عالم دین مفتی عدنان کاکا خیل (پرویز مشرف فیم ) سے بھی امید ہے کہ وہ اِس معاملے پر ویسی ہی ٹویٹ کریں گے جیسی انہوں نے صبا قمر کے مسجد وزیر خان میں تصاویر کھنچوانے والے معاملے پر کی تھی ۔وہ ٹویٹ کچھ اِس قسم کی تھی :”مسجد وزیر خان لاہور میں ایک رقاصہ اور ایک بھانڈ کے مل کر خانہ خدا میں ناچ گانے کی شوٹنگ کی خبر وائرل ہے ۔ یہ اللہ کے گھر کی سخت بے حرمتی ، توہین اور تقدس کی پامالی ہے۔تمام ذمہ داروں پر توہین مقدسات کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کرکے فوری گرفتاریاں کئیں ۔تمام مسلمان آواز اٹھائیں۔“اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وفا ق المدارس اور دیگر جید علما بھی اِس واقعے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور جلد ہی ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کچھ ٹھوس ایسے اقدامات کا اعلان کریں گے جن کے ذریعے مستقبل میں اِس قسم کے واقعات کا تدارک کیا جا سکے گا۔ اِس ضمن میں کیتھولک چرچ کی مثال ہمارے سامنے ہے،وہاں بھی جب ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تو چرچ نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ متاثرین کو ہرجانے بھی ادا کیے گئے۔ہم بھی یہ پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں ۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیاکالم)
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا

