ہم میں سے جو لوگ اسّی کی دہائی میں پلے بڑھے انہوں نے پی ٹی وی کی صورت میں ایک عجیب و غریب دور دیکھا ۔ ایک چینل تھا، ایک حکمران تھا اور ایک ہی قسم کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔میرا بچپن اور لڑکپن جنرل ضیا کی صورت دیکھتے ہوئے گز را، اُس وقت یوں لگتا تھا جیسے یہ صورتحال آنے والی صدیوں تک ایسی ہی رہے گی ۔تاہم پی ٹی وی کے تفریحی پروگراموں کا معاملہ مختلف تھا ۔ پی ٹی و ی کو خبروں کا طعنہ تو دیا جا سکتا ہےمگر تفریحی پروگراموں میں اُس کے نمبر پورےتھے ۔ ڈراموں نے تو خیر ہند سندھ میں دھوم مچا رکھی تھی ،بچوں کے پروگرام بھی لا جواب تھے ۔ مجھےنہیں یاد پڑتا کہ میں نے ’الف لیلیٰ ‘کی کوئی قسط چھوڑی ہو یانرگس رشید کا ’ایک بٹا تین ‘ نہ دیکھا ہو ۔ ایسا ہی ایک پروگرام فاروق قیصر کا ’کلیاں ‘تھا ۔کہنے کو تو یہ بچوں کے لیے پتلی تماشا تھا مگر اسے خالصتاً بچوں کا پروگرام کہنا زیادتی ہوگی ،یہ طنز و مزاح کا ایک شاہکار تھا ، فاروق قیصر نہ صرف اِس کے خالق اور مصنف تھے بلکہ وہ انکل سرگم کے کردار میں خود پرفارم بھی کرتے تھے ۔عام طور سے دیکھاگیا ہے کہ کسی شاعر کی کوئی غزل مشہور ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے ہِٹ ہو جاتا ہے اورپھر ہر مشاعرے میں اُس سے وہی غزل سننے کی فرمایش کی جاتی ہے ۔کبھی کبھی تو لوگ ایک شعر پر پور ی زندگی گزار دیتے ہیں ۔ اسی طرح اداکار بھی تمام عمر ایک مشہور کردار کی تمنا کرتے ہیں او ر اگر ایسا کوئی کردار نصیب ہو جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں ۔ فاروق قیصر شاید وہ منفرد مصنف تھے جن کے تخلیق کردہ ایک سے زائد کردار آ ج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔ انکل سرگم ، ماصی مصیبتے، بونگا بخیل (چلو فیر سانوں کی)،مسٹر ہے گا،نونی (کر لو جو کرنا ہے )،ماما زیر غور اوررولا جیسے کردار فاروق قیصر کے قلم سے نکلےاور زبان زد عام ہو گئے۔ انکل سرگم کے علاوہ جو پُتلا مجھے بے حد پسند تھا وہ بونگے بخیل کا تھا ، اِس کردار میں ایک غریب ، مسکین اور عام آدمی کی بیچارگی جھلکتی تھی ۔ ایک پروگرام میں انکل سرگم عام آدمی کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ عام آدمی وہ ہوتا ہے جو نہ کچھ کھاتا ہے نہ پہنتا ہے ،نہ وہ سفر کرتا ہے نہ ہی کہیں آتا جاتا ہے ، اِس کے علاوہ اُس کے کرائے کے گھر میں بجلی نہیں ہوتی، گیس کا چولہا نہیں ہوتا ، اُس کی بیوی نہیں ہوتی اُس کے بچے نہیں ہوتے، چونکہ اُس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا لہذا وہ ایک عام آدمی ہو گیا،اِس لیے بجٹ کا اُس پہ کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘بونگے بخیل کا کردار ایسا ہی تھا۔ بونگے کے دو شعر ملاحظہ ہوں ’میرے پیارے اللہ میاں یہ کیسا انصاف ہے ، میرے گھر میں لوڈ شیڈنگ اور اُس کو بِل بھی معاف ہے ۔میرے ننھے بچے تو پسینے میں نہاتے ہیں ، اُس کے بچے گرمی میں انگلینڈ چلے جاتے ہیں ۔‘ فاروق قیصر کے پروگراموں میں مزاحیہ مشاعرے کی روایت تھی جہاں اُن کے کردار اِس قسم کے شعر پڑھتے تھے ، ایسے مشاعرے میں جب آخر میں انکل سرگم کو دعوت کلام دی جاتی تو القابات کی ایک فہرست یوں گنوائی جاتی کہ ’اب تشریف لاتے ہیں ، آدھے گنجم آدھے بالم، آدھے برہم آدھے سالم ، جناب سرگم۔‘اسی طرح انکل سرگم جب اپنے اسسٹنٹ رولے کو جھاڑ پلاتے تو اسے ’بد تمیز ، سمال کرکری چھوٹا بھانڈا ، کوارٹر پلیٹ ‘ کہتے اورکسی کی کم علمی پر طنز کرنا ہوتا تو اسے ’اردو میڈیم ‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ یہ طنز دراصل اُس ذہنیت پر تھا جس کے تحت ہمارے ملک میں انگریزی بولنے والی کلاس سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچوں کو اپنے سے کمتر سمجھتی تھی (ہے )۔
امریکی ٹی و ی پر بچوں کے لیے ایک پتلی تماشا چلا کرتا تھا ’سیسمی اسٹریٹ ‘ ۔یہ پروگرام ستّر کی دہائی میں بے حد مقبول ہوا اور اِس کی وجہ وہ پتلی کردار تھے جو بچوں کو بہت پسند آئے تھے خاص طور سے ایک بطخ، بگ برڈ ، کا کردار جو اپنے جثے کی وجہ سے بہت مخولیہ لگتی تھی ۔ سیسمی اسٹریٹ کے مرکزی خیال اور کرداروں کو پاکستان میں شعیب ہاشمی نے اچک لیا اور اُس سے ملتی جلتی بطخ بنا کر یہاں پروگرام شروع کر دیا ۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی اسلم اظہر کی خواہش تھی کہ کسی طرح سیسمی اسٹریٹ کے نشریاتی حقوق حاصل کرکے اسے پاکستان میں چلایا جائے (شایدبہت بعد میں یہ پروگرا م پاکستان میں چلا ) مگر اُس وقت شعیب ہاشمی وغیرہ کی وجہ سے یہ اُن کی یہ خواہش پور ی نہ ہو سکی، وجہ صاف تھی کہ اگر اصلی بطخ آجاتی تو اُن کی بطخ کہاں جا تی ! فارق قیصر کو البتہ یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کلیاں کے نام سو جو پتلی تماشا شروع کیا اُس کے تمام کردار اصلی، دیسی اور مقامی تھے ، اُن میں کوئی ملاوٹ نہیں تھی اور اُن کے مکالمے عام آدمی کے دل کی آواز تھے ۔اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو فاروق قیصر ایک رجحان ساز تخلیق کار تھے جنہوں نے پاکستان میں پتلی تماشے کا آغاز کیا۔فاروق قیصر اپنی دھرتی سے جڑے ہوئے آدمی تھے ، ایک عام پاکستانی کا مقدمہ جس طرح انہوں نے اپنے پروگراموں میں لڑا وہ قابل تحسین ہے ۔یہ بات بھی عجیب ہے کہ اردو میں مزاح لکھنے کے باوجود اردو بولنے والے ایک مخصوص طبقے نے اُس وقت اُن کی مخالفت کی جب کلیاں کا کردار مسٹر ہے گا مقبول ہوا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ کردا ر اردو بولنے والوں کا مذاق اڑانے کے لیے بنایا گیا ہے ، اُن دنوں فاروق قیصر کے خلاف اخبارات میں خطوط لکھے گئے اور پی ٹی وی کو شکایات بھی کی گئیں مگر فاروق قیصر نے متانت سے اِس مخالفت کا سامنا کیا اور اِس تنقید کو بے بنیاد قرار دیا ۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ تنقید درست نہیں تھی۔
ہمارے ہاں فنکار، اداکار اور بعض کھلاڑی اکثر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں اُن کی قدر نہیں کی گئی ، کبھی کبھار فنکاروں کی کسمپرسی کی خبریں بھی ٹی وی پر چلائی جاتی ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ فلاں فنکار یا لکھاری بیماری کا شکار ہو کر بستر مرگ پر پڑا ہے اور اُس کا کوئی پرسان حال نہیں ، حکومت داد رسی نہیں کرتی ، امریکہ میں ہوتا تو کروڑوں میں کھیلتا ، یہاں کوڑی کوڑی کا محتاج ہے ۔دو اڑھائی سال پہلے مشہور ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ حکومت سے امداد کی اپیل کرتے نظر آئے ۔ اسی طر ح مہد ی حسن خان کے بیٹو ں نے انہیں کراچی سٹیڈیم میں وہیل چئیر پر بٹھا کر لوگوں سے امداد مانگی ۔ما جد جہانگیر نے اپنی گاڑی پر پوسڑ لگایا کہ میں ففٹی ففٹی کا مشہور اداکار ہوں میری مدد کیجیے۔ اللہ سے ہمیشہ رحم کی دعا کرنی چاہیے ، اِن میں سے کوئی بھی شخص غریب نہیں تھا، اپنے کیرئیر کے عروج پر یہ لوگ لاکھوں میں کھیلتے تھے،اُس وقت انہو ں نے اگر سمجھداری دکھائی ہوتی اور جمع پونجی سے کہیں سرمایہ کاری کی ہوتی تو کبھی امداد مانگنے کی نوبت نہ آتی ۔مانگنے کا پیسے کی تنگی سے کوئی تعلق نہیں ، کوئی خودا دار شخص یہ کام نہیں کرتا۔ فاروق قیصر بھی فنکار تھے ، لکھنا اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا ، وہ بھی اسی ملک میں فوت ہوئے مگر انہوں نے تو یہ گلہ نہیں کیا کہ اُن کی پذیرا ئی نہیں کی گئی یا اُن کے مرتبے کے مطابق پیسے نہیں ملے ۔انسان کوہر حال میں اپنے وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔ فارق قیصر وقار کے ساتھ جیے ۔ Farooq Qaiser is dead, long live Uncle Sargam.
(گردوپیش کے لئے ارسال کیا گیا کالم)
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

