کہتے ہیں کہ ایک چوک میں ایک مولوی صاحب اور ایک وکیل صاحب کا آمنا سامنا ہو گیا۔ دونوں دلائل کی دنیا کے شہسوار تھے ایک دوسرے کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے پر لگ گئے۔ جب بحث نتیجہ خیز نہ ہو سکی تو دونوں نے سوچا کہ فیصلہ کسی تیسرے سے کرا لیا جائے۔ انہوں نے راہ چلتے ایک محلے دار کو روکا اور کہا کہ ہمارے جھگڑے کے منصف بن جائیں۔ مولوی صاحب کا استدلال یہ تھا کہ وکیل اپنے موکل کا مقدمہ جیتنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اس لئے یہ جھوٹے ہیں۔ وکیل صاحب بولے کہ مولوی صاحب اپنے مسلک کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مناظروں، مباحثوں میں ضعیف اور من گھڑت قصے بیان کر ڈالتے ہیں یوں یہ جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں جب دلائل طول پکڑ گئے تو راہگیر نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ”تم دونوں سچے ہو“ یہ بات ہمیں مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کے جلسہ عام کے بعد تبصرے دیکھ سن کر یاد آئی حکومت کے وزیر مشیر اس جلسے کو ”فلاپ شو“ اور جلسی قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مینار پاکستان پر اب تک ہونے والے جلسوں میں یہ ناکام ترین اور سب سے چھوٹا تھا۔ اپنے وقت کے مقبول ترین شاعر احمد فراز کے صاحبزادے، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے تو اسے اپوزیشن کے خلاف عوامی ریفرینڈم قرار دے دیا۔ ان کا خیال ہے کہ گیارہ جماعتیں مل کر دس پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ جمع نہ کر سکیں۔ بعض نے کہا کہ لاہور کے عوام نے اپوزیشن کا بیانیہ مسترد کر کے جلسے سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ دوسری طرف اپوزیشن کے زعما اس جلسے کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اسے فقید المثال قرار دیا کچھ نے شرکاء کی تعداد لاکھوں میں بتائی۔ راقم الحروف نے اپنے طالب علمی اور صحافتی ادوار کے پچپن سال میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، بانی چیئرمین پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو، بانی تحریک استقلال ایئر مارشل (ر) اصغر خان، سابق وزرائے اعظم میاں نوازشریف، محترمہ بینظیر بھٹو، موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے جلسے دیکھ رکھے ہیں اس لئے مینار پاکستان پر اپوزیشن کے جلسے پر حکومتی موقف اور حزب مخالف کا تبصرہ دونوں غلط لگتے ہیں۔
یہ جلسہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا نہ فلاپ شو تھا یہ شرکاء کی تعداد اور ان کے جوش و جذبے کے اعتبار سے کامیاب اور بڑا جلسہ تھا۔ البتہ گزشتہ ہفتہ عشرہ کے دوران جس طرح مریم نواز نے بڑی بڑی ریلیاں نکال کر جو ماحول پیدا کر دیا تھا اس سے جلسے کے بارے میں توقعات زیادہ تھیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہماری سیاست میں این آر او کا بہت چرچا ہے۔ پی ٹی آئی تسلسل سے کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے جو ہم نے نہیں دینا۔ اپوزیشن جواباً کہتی آئی ہے کہ عمرانی حکومت کے پاس تو این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں اس لئے ان سے این آر او مانگنے کا سوال ہی نہیں ہے اب مولانا فضل الرحمن نے جلسہ لاہور میں لانگ مارچ کے لئے دو ماہ بعد کی بات کر کے لگتا ہے کہ حکومت کو دو ماہ کا این آر او دے بھی دیا ہے۔ عین جلسے والے دن وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بنی گالا والے گھر کے وسیع لان میں اپنے دو کتوں شیرو اور ٹائیگر کے ساتھ اپنی تصویر میڈیا کو بڑے اہتمام کے ساتھ جاری کی جس کی ترجمانی ان کے رفقاء نے یہ کی کہ دیکھو ہمارے خان کو اپوزیشن کی سرگرمیوں کی کوئی پروا ہے نہ خوف، وہ اتوار کی چھٹی انجوائے کر رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ عمران خان یہی کہنا چاہ رہے ہوں مگر اس تصویر کا ایک مطلب یہ بھی تو نکل سکتا ہے کہ تین سو کنال کے وسیع و عریض گھر میں کپتان کے غمگسار اب یہ دو کتے ہی رہ گئے ہیں وہ بھی ”کھانے پینے“ کے لالچ میں۔ ہو سکے تو خان جی یہ تصویر اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ہٹا دیں اس سے تو آپ کی سیاسی و سماجی تنہائی کا تاثر ابھرتا ہے۔
محمود اچکزئی کا شمار ان سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے دل کی بات کہہ ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اس لئے وہ عموماً تنقید کی زد میں رہتے ہیں مگر انہیں اس کی کبھی پرواہ نہیں رہی۔ وہ پارلیمینٹ اور جلسہ عام میں ایک طرح ہی بولتے ہیں۔ مصلحت غالباً ان کی سرشت میں نہیں۔ انہوں نے پی ڈی ایم کا حصہ ہوتے ہوئے کوئٹہ کے جلسے میں پاک افغان سرحد پر لگنے والی باڑ کے حوالے سے جو باتیں کیں انہیں قومی حلقوں میں ہدف تنقید بنایا گیا پھر دن گزرنے کے ساتھ وہ بات آئی گئی ہو گئی۔ اب انہوں نے لاہور کے جلسہ عام میں پنجابیوں کو ہی نشانے پر رکھ لیا انہوں نے پنجاب میں کھڑے ہو کر پنجابیوں کے لّتے لئے۔ انہیں غلام ذہنیت اور چاپلوسی قرار دے دیا۔ بعض تاریخی مواقع پر بعض پنجابی لیڈروں کی طرف سے اس طرز کے رویئے کا اظہار ہوا ہوگا لیکن ساری پنجابی قوم کو لتاڑ ڈالنا بھی تو انصاف نہیں۔ تاریخی طور پر تو ہر قومیت میں کبھی نہ کبھی کچھ نہ کچھ افراد ایسے گزرے ہوں گے جو حریت پسندی اور جرأت اظہار کے اس معیار پر نہ ہوں جو محمود اچکزئی کا پسندیدہ ہو پی ڈی ایم کی قیادت میں بلا شبہ ہر قومیت کی نمائندگی موجود ہے جو کسی بھی تحریک کے کامیاب مستقبل کے لئے نیک شگون ہے اور ان تمام قومیتوں میں اتحاد و یگانگت تحریک کی منزل کو قریب لا سکتی ہے اس لئے پی ڈی ایم کی قیادت جہاں اختر مینگل، محمود اچکزئی، میاں افتخار جیسے قومیت پرستوں کو تحریک پاکستان کے مقام آغاز ”مینار پاکستان“ تک لے آئی وہیں اسے اپنے ان ساتھیوں کو بٹھا کر سمجھانا چاہئے کہ ہر بات ہر جگہ کہنے کی نہیں ہوتی۔ اگر اس موقعہ پر از خود یا کسی کی انگیخت پر اپوزیشن کے کسی پنجابی رکن پارلیمینٹ کی ”رگِ پنجابیت“ پھڑک اٹھی تو محمود اچکزئی کا تو کچھ نہیں جائے گا۔ وہ آرام سے اپنی چادر جھاڑ کر بلوچستان میں محو استراحت ہو جائیں گے، مگر پی ڈی ایم کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ منزل جس کا حصول یوں بھی کچھ آسان دکھائی نہیں دیتا، کھوٹی ہو سکتی ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

