لندن : چیمپینز ٹرافی کرکٹ تورنامنٹ کے فائنل میں اتوار کے روز پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ہو گا ۔ دونوں حریف ٹیموں کے مد مقابل آنے سے کرکٹ کے شایئقین کا جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف جارحانہ اور مثبت کرکٹ کھیلنے اور جیت کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کوچ مکی آرتھر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی کارکردگی ہمارے لیے نیک شگون ہے۔ ڈیبیو کرنے والے تین نوجوانوں فہیم اشرف، رومان رئیس اور فخر زمان نے ٹیم کیلئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ شاداب بھی عمدہ کھیل پیش کر رہا ہے۔ عامر سہیل کے بیان کے بارے میں سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم اس بارے میں نہیں سوچ رہی کہ انہوں نے کیا کہا۔ ہم نے اب تک جارحانہ کرکٹ کھیلی ہے اور کل کے میچ میں بھی مثبت کرکٹ کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ کپتان نے مڈل آرڈر بیٹنگ لائن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ کے بعد وہ فارم میں واپس آ گئی ہے۔ انہوں نے انڈیا کے خلاف بدترین شکست کے بعد ایونٹ میں شاندار انداز میں واپسی کا کریڈٹ باؤلرز کو دیتے ہوئے کہا کہ میں لوگوں کی دعاؤں اور مستقل فتوحات کے بعد پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنے پر ان کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ عامر فٹ ہیں اور وہ میچ کھیلیں گے البتہ سرفراز احمد نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے وکٹ معائنہ نہیں کیا اس لیے فائنل الیون کا فیصلہ نہیں کیا۔
بدھ, اگست 26, 2026
تازہ خبریں:
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم

