ملتان کے علاقے نواں شہر چوک کے قریب آر ٹی او آفس کی نزدیکی گلی میں واقع سپیئر پارٹس کے سامان کے گودام میں ہولناک آتشزدگی سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔ اس ہولناک آتشزدگی سے دوسری قریبی دکانوں اور ایک مکان کو بھی نقصان پہنچا۔ ریسکیو 1122اور دیگر امدادی اداروں نے کئی گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا مگر متاثرہ گودام سے دوسرے دن بھی دھواں اٹھتا رہا رات بھر اور اگلے دن بھی ریسکیو1122کی کئی گاڑیاں اور عملہ موقع پر موجود رہا اور پانی کے چھڑکاؤ کا عمل جاری رکھا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق گوکہ آگ بجھ چکی ہے مگر یہاں سے
دھواں مسلسل اس وقت تک اٹھتا رہے گا جب تک متاثرہ عمارت کا ملبہ اٹھا
نہیں لیا جاتا جبکہ گودام مالک مسلسل کہنے کے باوجود ملبہ اٹھانے میں لیت
و لعل سے کام لے رہا ہے اور اس بات پر اصرار کررہا ہے کہ پانی ڈالنے کا
عمل جاری رکھا جائے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اگر مزید پانی ڈالا گیا تومتاثرہ عمارت سے ملحقہ عمارات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ملتان میں ہولناک آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی اس قسم کے کئی افسوسناک واقعات رونما ہوچکے ہیں مگر ان واقعات کے ہونے کے باوجود آج تک نہ صرف شہریوں نے خود بلکہ حکومتی اور انتظامی اداروں نے بھی نہ کوئی
مؤثر اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی نہ اس کا نفاذ ہو سکا جس کے باعث اس قسم کے ہولناک واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہیں اور پل بھر میں تاجر اور دیگر شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں اور آج تک نہ کبھی مقامی انتظامیہ نے ایسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کراکر کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا نہ کوئی سزا دلوائی گئی بلکہ ہر واقعہ کو اتفاقیہ حادثہ قرار دے کر منوں مٹی تلے دبا دیا جاتا ہے۔
اس قسم کے واقعات کو ہم اتفاقی حادثہ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے اور کافی حدتک ان کے ذمہ دار ہم خود اور متعلقہ ادارے ہیں ملتان جنوبی پنجاب کی
معاشی حب ہے اور کئی اضلاع سے ہر قسم کے سامان کی سپلائی ملتان سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملتان ایک بڑا کاروباری و تجارتی مرکز بن چکا ہے اور تاجروں نے سامان کی بڑی کھیپ رہائشی علاقوں میں قائم گھروں میں گودام بنا کر سٹور کر رکھی ہیں حالانکہ قانون اور ضابطے کی رو سے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت ممنوع ہے مگر اندرون ملتان کے علاقوں حسن پروانہ کالونی، ٹیپو سلطان کالونی ، چوک شہیداں، حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ، پل شوالہ، چوک فوارہ، نواں شہر اور اسی طرح دیگر علاقوں میں تمام رہائشی گلیاں اور محلے غیر قانونی طور پر کمرشل علاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جو ان تاجروں
نے بھاری کرایوں کے عوض حاصل کررکھے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ ان
علاقوں میں جن رہائشی عمارتوں کا کرایہ چند سال قبل سینکڑوں میں تھا اب ہزاروں اور ہزاروں والا لاکھوں میں جا چکا ہے جس سے ان علاقوں میں نظام زندگی دن بھر اور رات کے اوقات میں بھی مفلوج رہتا ہے ہیوی ٹرالر ، ٹرک اور مزدے اور لوڈر رکشے ان چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بلا روک ٹوک آجارہے ہیں جس سے نہ صرف اکثر اوقات بجلی کا نظام درہم برہم رہتا ہے بلکہ بھاری لوڈ کے باعث زیر زمین بچھایا گیا سیوریج کا نظام بھی بوسیدہ ہوچکا ہے واٹرسپلائی کے پائپ بھی اکثر اوقات بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے پھٹ جاتے ہیں جس سے ان علاقوں کے مکینوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے شکایات کےباجود کوئی محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوتا بلڈنگ مالکان ہزاروں روپے وصول کرنے کے باوجود پراپرٹی ٹیکس کی مد میں سرکاری خزانے میں ایک کوڑی جمع کرانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے جس سے حکومت کو سالانہ لاکھوں کا پراپرٹی ٹیکس کی مد میں نقصان ہو رہا ہے ۔
علاوہ ازیں کرائے پر رہنے والوں کو مہنگے داموں عمارتیں ملنے سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور رہائشی علاقوں میں گودام قائم ہونے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا پورا نیٹ ورک تباہ ہوچکا ہے اور خدانخواستہ آتشزدگی جیسے واقعات میں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع بلکہ دوسری عمارات کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں مقامی انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ ممکنہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ مل کر ان علاقوں کا سروے کرائے اور غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے گودام مالکان کیخلاف کارروائی کرے اور جو رہائشی عمارتیں بطور گودام کمرشل اور استعمال ہو رہی ہیں ان کو کمرشل ڈکلیئر کرکے ان سے ٹیکس وصول کرے اس سے ایک تو سرکاری آمدن میں اضافہ ہو گا اور دوسرا المناک حادثات و سانحات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
دھواں مسلسل اس وقت تک اٹھتا رہے گا جب تک متاثرہ عمارت کا ملبہ اٹھا
نہیں لیا جاتا جبکہ گودام مالک مسلسل کہنے کے باوجود ملبہ اٹھانے میں لیت
و لعل سے کام لے رہا ہے اور اس بات پر اصرار کررہا ہے کہ پانی ڈالنے کا
عمل جاری رکھا جائے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اگر مزید پانی ڈالا گیا تومتاثرہ عمارت سے ملحقہ عمارات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ملتان میں ہولناک آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی اس قسم کے کئی افسوسناک واقعات رونما ہوچکے ہیں مگر ان واقعات کے ہونے کے باوجود آج تک نہ صرف شہریوں نے خود بلکہ حکومتی اور انتظامی اداروں نے بھی نہ کوئی
مؤثر اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی نہ اس کا نفاذ ہو سکا جس کے باعث اس قسم کے ہولناک واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہیں اور پل بھر میں تاجر اور دیگر شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں اور آج تک نہ کبھی مقامی انتظامیہ نے ایسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کراکر کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا نہ کوئی سزا دلوائی گئی بلکہ ہر واقعہ کو اتفاقیہ حادثہ قرار دے کر منوں مٹی تلے دبا دیا جاتا ہے۔
اس قسم کے واقعات کو ہم اتفاقی حادثہ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے اور کافی حدتک ان کے ذمہ دار ہم خود اور متعلقہ ادارے ہیں ملتان جنوبی پنجاب کی
معاشی حب ہے اور کئی اضلاع سے ہر قسم کے سامان کی سپلائی ملتان سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملتان ایک بڑا کاروباری و تجارتی مرکز بن چکا ہے اور تاجروں نے سامان کی بڑی کھیپ رہائشی علاقوں میں قائم گھروں میں گودام بنا کر سٹور کر رکھی ہیں حالانکہ قانون اور ضابطے کی رو سے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت ممنوع ہے مگر اندرون ملتان کے علاقوں حسن پروانہ کالونی، ٹیپو سلطان کالونی ، چوک شہیداں، حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ، پل شوالہ، چوک فوارہ، نواں شہر اور اسی طرح دیگر علاقوں میں تمام رہائشی گلیاں اور محلے غیر قانونی طور پر کمرشل علاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جو ان تاجروں
نے بھاری کرایوں کے عوض حاصل کررکھے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ ان
علاقوں میں جن رہائشی عمارتوں کا کرایہ چند سال قبل سینکڑوں میں تھا اب ہزاروں اور ہزاروں والا لاکھوں میں جا چکا ہے جس سے ان علاقوں میں نظام زندگی دن بھر اور رات کے اوقات میں بھی مفلوج رہتا ہے ہیوی ٹرالر ، ٹرک اور مزدے اور لوڈر رکشے ان چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بلا روک ٹوک آجارہے ہیں جس سے نہ صرف اکثر اوقات بجلی کا نظام درہم برہم رہتا ہے بلکہ بھاری لوڈ کے باعث زیر زمین بچھایا گیا سیوریج کا نظام بھی بوسیدہ ہوچکا ہے واٹرسپلائی کے پائپ بھی اکثر اوقات بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے پھٹ جاتے ہیں جس سے ان علاقوں کے مکینوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے شکایات کےباجود کوئی محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوتا بلڈنگ مالکان ہزاروں روپے وصول کرنے کے باوجود پراپرٹی ٹیکس کی مد میں سرکاری خزانے میں ایک کوڑی جمع کرانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے جس سے حکومت کو سالانہ لاکھوں کا پراپرٹی ٹیکس کی مد میں نقصان ہو رہا ہے ۔
علاوہ ازیں کرائے پر رہنے والوں کو مہنگے داموں عمارتیں ملنے سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور رہائشی علاقوں میں گودام قائم ہونے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا پورا نیٹ ورک تباہ ہوچکا ہے اور خدانخواستہ آتشزدگی جیسے واقعات میں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع بلکہ دوسری عمارات کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں مقامی انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ ممکنہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ مل کر ان علاقوں کا سروے کرائے اور غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے گودام مالکان کیخلاف کارروائی کرے اور جو رہائشی عمارتیں بطور گودام کمرشل اور استعمال ہو رہی ہیں ان کو کمرشل ڈکلیئر کرکے ان سے ٹیکس وصول کرے اس سے ایک تو سرکاری آمدن میں اضافہ ہو گا اور دوسرا المناک حادثات و سانحات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

