Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, ستمبر 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
  • حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » گم راہ(1)۔۔طلعت جاوید
افسانے

گم راہ(1)۔۔طلعت جاوید

ایڈیٹرجون 3, 20203 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
PIA
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چیک اِن کاؤنٹر پر مسافروں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی ایئرلائن کی زمینی میزبان نہایت سرعت سے تمام مسافروں کے ٹکٹ وصول کرتی، کمپیوٹر میں اندراج کے بعد ٹکٹ اور پرنٹر سے نکلا ہوا بورڈنگ کارڈ ایک ساتھ ہر مسافر کے حوالے کرتے ہوئے ” ﷲ حافظ“ کہتی اور ایک مصنوعی مگر خوبصورت مسکراہٹ نچھاور کرتے ہوئے دوسرے مسافر کی جانب متوجہ ہو جاتی تھی۔ ساتھ کھڑے ہوئے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون میں ملبوس سپروائزر کی عقابی نگاہیں مسافروں، ان کے سامان اور کمپیوٹر کی سکرین کا بیک وقت معائنہ کر رہی تھیں۔ تمام مرد مسافروں خواہ وہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہوں کی نگاہیں خاتون میزبان کے دوپٹے سے نکلی ہوئی لٹوں، بُندوں، گلے میں پڑے لاکٹ اور آدھے ننگے بازوؤں کے ساتھ مسلسل اُلجھ رہی تھیں۔ کبھی کبھار سپروائزر کی مداخلت انگیز نگاہ ان پر پڑ جاتی تو وہ کھسیانے ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے تھے۔ خود سپروائزر اس سوچ میں غلطاں تھا کہ وہ نجانے کونسی کریم استعمال کرتی ہے کہ اس کی گردن اس کے چہرے کی رنگت سے اس قدر مماثلت رکھتی ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر اس اعلان کے بعد کہ جن مسافروں نے اپنا بورڈنگ کارڈ حاصل نہیں کیا وہ فوراً چیک اِن کاؤنٹر سے رجوع کریں وگرنہ سیٹ منسوخ ہو جائے گی، میزبان خاتون کے انداز میں اور تیزی آ گئی اور سپروائزر نے عارضی طور پر اس کی حفاظت کی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا اور جلدی جلدی سامان کا وزن کر کے ان پر سٹکر چپکانے لگا۔ جوں جوں قطار آگے بڑھ رہی تھی مسافر اپنا سامان بھی گھسیٹ کر اپنے ساتھ آگے بڑھا رہے تھے۔
ایک مسافر جو ادھیڑ عمر کا تھا وہ قطار سے باہر دیوار کے ساتھ رکھے ہوئے صوفوں پر سے اٹھ کر بار بار چیک اِن کاؤنٹر کے پاس آتا اور آہستگی سے میزبان خاتون کو کچھ کہتا تھا، یوں کہ قطار میں کھڑے ہوئے مسافر اسے سن نہ پائیں۔ خاتون میزبان نہایت احترام سے قطار میں کھڑے ہوئے مسافروں کی طرف اشارہ کرتی اور اس شخص کو صوفے پر بیٹھنے کی ہدایت کرتی تھی۔ وہ شخص پانچویں بار کاؤنٹر کے پاس آیا تو سپروائزر نے نہایت درشتگی سے اسے ڈانٹ دیا۔ میرے آگے ابھی چار مسافر اور بھی تھے۔ مَیں نے اس شخص کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو دیکھے وہ زیرِ لب کچھ پڑھ رہا تھا جیسے دُعا مانگ رہا ہو یا تلاوت کر رہا ہو۔ مَیں نے اپنا دستی بیگ نہایت مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور کبھی کبھار نادانستہ طور پر اسے اپنے سینے میں دبوچ لیتا تھا کہ کوئی اسے چھین نہ لے۔ اس بیگ میں بیس لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ تھے۔ دراصل میری کمپنی کے مالک بٹ صاحب نے کراچی میں ایک فوری ادائیگی کرنا تھی۔ رقم بینک ڈرافٹ یا چیک کے ذریعے بھجواتے تو ایک دو روز لگ جاتے، ادائیگی اسی روز ہونا تھی لہٰذا مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ مَیں فوراً جا کر یہ رقم سیٹھ ﷲ والا کو پہنچا دوں۔ ٹکٹ مجھے مہیا کر دیا گیا تھا، رقم گن کر مَیں گھر آیا اور آدھے گھنٹے میں تیار ہو کر کمپنی کی گاڑی میں ایئرپورٹ پہنچ گیا تھا۔ میرے گھر والوں کے لیے یہ نئی بات نہ تھی۔ مجھے اکثر اس قدر جلدی میں اپنے مالک کے کام کی غرض سے فوری سفر پر جانا پڑتا تھا اور وہ اس بات کے عادی تھے۔ ویسے بھی میری بیوی جمشید اپنے گھر کے کاموں میں اس قدر مصروف رہتی تھی کہ اسے میرے کام کاج اور آمد و رفت سے کوئی غرض نہ تھی۔ دونوں بیٹے کالج میں پڑھتے تھے، اپنے مشاغل میں مست اور ان سے میری ملاقات کبھی کبھار ہی ہوتی تھی۔ نجانے وہ مصروف رہتے تھے یا مجھے ہی وقت نہ ملتا تھا مگر ہم گھر کے چار افراد ساتھ رہنے کے باوجود اپنی الگ الگ دنیا میں گم رہتے تھے۔ جمشید نے کبھی استفسار نہ کیا تھا کہ کتنے روز کے لیے گھر سے باہر جا رہا ہوں اور کب واپس آؤں گا۔ وہ ہر بار گھر سے باہر جانے سے قبل بجلی اور ٹیلیفون کے بل کی رقم، سبزی، گوشت اور دودھ کے پیسے اور دھوبی کے بل وصل کرنا نہ بھولتی تھی۔ مَیں بھی یہ ادائیگیاں کر کے ہلکا پھلکا محسوس کرتا تھا کہ اب چند روز مجھے کوئی اور مالی ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے گی۔ اس روز بھی مَیں بغیر بتائے کہ کتنے دنوں کے لیے جا رہا ہوں گھر سے نکلا تھا اور رقم کا بیگ گود میں رکھے ایئرپورٹ چلا گیا تھا۔ نجانے کب نیل پالش لگے ایک ہاتھ نے بورڈنگ کارڈ اور ٹکٹ میرے حوالے کیا اور بغیر آنکھیں ملائے تھکی ہوئی مسکراہٹ سے مجھے بھی ﷲ حافظ کہا اور مَیں قطار سے باہر نکل گیا۔
مجھے قطار سے نکلتا دیکھ کر وہ ادھیڑ عمر شخص بھی صوفے سے اٹھا اور میرے قریب آ گیا۔ مَیں نے لاشعوری طور پر رقم کا بیگ اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ اس کے ہاتھ میں اگلی پرواز کی ٹکٹ تھی اور وہ اپنی بیوی کی اچانک وفات کی خبر سن کر اس پرواز سے کراچی جانا چاہتا تھا۔ اس نے کنفرم ٹکٹ مجھے دکھائی اور التجا کی کہ مَیں اپنی ٹکٹ اور بورڈنگ کارڈ اسے دے دوں اور خود اس کی ٹکٹ استعمال کرتے ہوئے اگلی پرواز سے چلا جاؤں۔ بظاہر مجھے اس میں کوئی نامناسب بات نہ لگی مجھے ادائیگی کرناتھا مگر چند گھنٹوں کی تاخیر سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ یہ بات تھی تو اصول و ضوابط کے خلاف مگر اس شخص کی مجبوری دیکھ کر مَیں نے اس کی مدد کا تہیہ کر لیا۔ مَیں اسے ایک کونے میں لے گیا اس کی ٹکٹ کا جائزہ لیا اور آنکھ بچا کر اپنا بورڈنگ کارڈ اور ٹکٹ اس کے حوالے کر دیا۔ ایئرپورٹ لاؤنج میں کسی کو علم نہ ہو سکا کہ وہ شخص میرا بورڈنگ کارڈ اور ٹکٹ لے کر جہاز میں سوار ہو گیا ہے۔ ایک گھنٹے کے بعد مَیں نے بھی دوسری پرواز کا بورڈنگ کارڈ حاصل کر لیا اور لاؤنج میں جا بیٹھا۔ میری اصل پرواز روانہ ہو چکی تھی۔ مزید ایک گھنٹہ انتظار کے بعد ہماری پرواز کے روانہ ہونے کا اعلان ہو گیا۔ ہم تمام مسافر اپنا اپنا سامان اٹھائے جہاز کی جانب بڑھنے لگے۔ مَیں اپنا رقم سے بھرا بیگ اپنے ساتھ چمٹائے کسی اور شخص کے نام سے جہاز میں جا بیٹھا۔ جہاز کی روانگی سے قبل جہاز کے باہر ایئرپورٹ پر غیر معمولی صورت حال محسوس ہوئی ہمارے جہاز کا عملہ بھی بجھا بجھا سا لگا مگر ہمیں کسی صورت حال کا علم نہ تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر جب جہاز نے لینڈ کیا تو وہاں ایمرجنسی جیسے حالات تھے۔ لاؤنج میں داخل ہوئے تو علم ہوا کہ ہمارے سے پہلے آنے والی پرواز کریش ہو گئی ہے اور کسی سواری کے زندہ بچنے کی کوئی اُمید نہیں۔ ایئرپورٹ کا عملہ اور پورٹر مبارکباد دے رہے تھے کہ ہم اس پرواز میں نہیں تھے اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے درحقیقت مجھے قدرت نے اس حادثے سے بچا لیا ہے وگرنہ دراصل مجھے تو اسی پرواز سے آنا تھا۔ مگر مجھے یہ علم نہ تھا کہ مَیں بھی زندگی کے ایک طویل سفر پر روانہ ہونے والا ہوں۔ معاً مجھے اس ادھیڑ عمر شخص کا خیال آیا جو میری ٹکٹ پر سفر کر رہا تھا اور اسے اپنی مرحومہ بیوی کے جنازے میں شرکت کرنا تھی۔ ایئرپورٹ پر لگے ہوئے ٹیلیویژن سیٹ اس حادثے کی خبر نشر کر رہے تھے۔ مَیں بھی اپنا بیگ مضبوطی سے تھامے وہ تفصیلات دیکھنے لگا۔ ایئرلائن والوں نے جہاز میں ہلاک ہونے والوں کی فہرست لگا دی تھی۔ مجھے حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں میں اپنا نام نظر آیا۔ مَیں نے سوچا کہ اپنے گھر خیریت کی اطلاع دے دوں مگر دوسرے ہی لمحے کچھ سوچ کر مَیں خاموش ہو گیا۔ مَیں جو کوئی بھی تھا اس حادثے کا شکار ہو گیا تھا اس بات کا کسی کے پاس ثبوت نہ تھا کہ مَیں اس پرواز میں جاں بحق نہیں ہوا۔ حادثے میں میرے ساتھ وہ بیس لاکھ کی رقم بھی ضائع ہو گئی تھی جو مَیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا …….. مَیں اپنا بیگ مضبوطی سے تھامے لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھ گیا اور ٹھنڈے دل سے حالات کا تجزیہ کرنے لگا۔ اس سے پہلے کہ مَیں کوئی بھی قدم اٹھاؤں مجھے حالات اور واقعات کا جائزہ لینا تھا۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ مجھے نئی زندگی مل جائے اور اب مَیں اس نئی زندگی کو حقیقتاً نئی زندگی بنانے کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔
چاکیواڑہ کے ایک فلیٹ میں گلشن آرا نے جب کام کاج سے فارغ ہو کر ٹیلیویژن لگایا تو ایک اندوہناک فضائی حادثے کی تفصیلات دکھائی جا رہی تھیں۔ وہ کام چھوڑ کر حادثے کی خبر سننے بیٹھ گئی۔ گلشن آرا کی چند ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر شکور پنجاب کے ایک صنعتی ادارے میں کام کرتا تھا اور اکثر کراچی اس کا آنا ہوتا تھا۔ شکور پہلے سے شادی شدہ تھا اور دو بچوں کا باپ۔ گلشن آرا جس دفتر میں کام کرتی تھی شکور کا وہاں چند بار آنا ہوا تو وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ گلشن آرا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ وہ شکور کو ایک مالدار تاجر کے طور پر جانتی تھی جس کا پنجاب میں وسیع کاروبار تھا اور اپنی بیمار بیوی کے سبب وہ بے حد پریشان رہتا تھا۔ دفتر میں آمد و رفت گہرے تعلقات کا شاخسانہ بن گئی۔ پہلے پہل وہ دفتر سے باہر ملنے لگے پھر ہاکس بے اور کلفٹن کی سیریں ان کا معمول بن گئیں اور ایک روز گلشن آرا نے شکور کو اپنے گھر مدعو کر لیا۔ بوڑھے والدین شکور کے دیکھ بھال کے انداز اور ان کے خاندان کے لیے اس کی مالی آسودگی کی فکر سے بیحد متاثر تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ شکور ادھیڑ عمر اور عیالدار ہے اور گلشن آرا نو عمر مگر وہ کسی مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ شکور کو اپنے گھر سے جو ذہنی آسودگی نہ ملتی تھی گلشن آرا اس کی فراہمی کا سبب بن گئی۔ شکور نے کسی طرح گلشن آرا کے والدین کو راضی کر لیا کہ وہ اپنے خاندان سے پوشیدہ اس کے ساتھ شادی کرے گا اور الگ گھر میں آزادی سے رکھے گا۔ انہیں اور کیا چاہیے تھا۔ چند ہفتوں میں وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ شکور نے گلشن آرا کو چاکیواڑہ میں ایک فلیٹ لے دیا اور پھر جب کبھی اپنی کمپنی کے کام اسے کراچی آنا ہوتا وہ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہوتا۔
گلشن آرا کو ٹیلیویژن کی سکرین پر جہاز کے حادثے کی تفصیل دیکھتے دیکھتے شکور کا خیال آیا مگر اس سے پہلے کہ وہ کسی وہم کا شکار ہوتی فلیٹ کا دروازہ کھٹکا اور اسے شکور کے کھنکارنے کی آواز آئی۔ شکور کا آنا اسی طرح سے ہوتا تھا۔ کسی روز اچانک آ جاتا اور کبھی فون پر واپس پنجاب چلے جانے کی خبر سنا دیتا۔ شکور گلشن آرا کو پریشان سا لگا۔ بیگ اس نے الماری کے اندر چھپا دیا اور باوجویکہ کہ گلشن آرا ٹیلیویژن پر جہاز کے حادثے کی خبریں دیکھ رہی تھی اس نے ٹیلیویژن کا سوئچ بند کر دیا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔
بٹ صاحب کو جہاز کے حادثے کی اطلاع ان کے منیجر نے دی۔ سیٹھ ﷲ والا کو جب بیس لاکھ روپے کی رقم نہ ملی تو اس نے بٹ صاحب کے منیجر سے رابطہ کر کے استفسار کیا تھا۔ اس اثناءمیں شکور کے جہاز کے حادثے کی اطلاع پورے دفتر میں پھیل گئی۔ بٹ صاحب ہمت والے تھے۔ رقم ڈوبنے کا صدمہ تو تھا ہی مگر شکور کی بے وقت اور اندوہناک موت نے انہیں بھی دہلا کے رکھ دیا۔ شکور کے گھر میں جہاز کے حادثے کی اطلاع ابھی نہیں پہنچی تھی۔ بٹ صاحب اور چند ایک دفتر والے اس کے گھر پہنچ گئے اور انہیں شکور کے جہاز کے حادثے کی اطلاع دی۔ حادثے کی خبر ان پر بجلی بن کر گری۔ جمشید کو پہلی بار احساس ہوا کہ شکور سے اس کا کس قدر گہرا رشتہ تھا جسے اس نے فراموش کر دیا تھا۔ شکور کے بیٹے بھی اطلاع سن کر گھر آ گئے اور یوں شکور کے گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔
بٹ صاحب اپنے مالی نقصان کے باوجود دل بڑا کر کے شکور کی غائبانہ نماز جنازہ اور قل خوانی کے انتظامات کرتے رہے۔ اس کے گھر والوں میں اتنی استطاعت نہ تھی۔ محلے میں شکور کا گھر، اس کی بیوہ اور بچے ایک اہمیت اختیار کر گئے تھے۔ عوام الناس اور اخباری رپورٹر شکور کے حالاتِ زندگی جاننے کے لیے بے قرار تھے۔ ان کے دفتر کے لوگ بیمہ پالیسی کے کاغذات مکمل کرا رہے تھے تاکہ جلد از جلد ان کے خاندان کو کلیم مل سکے۔ ایئرلائن والوں نے تمام ہلاک شدگان کے لیے 10لاکھ روپیہ فی کس ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بٹ صاحب اپنے بیس لاکھ روپے پر تو فاتحہ پڑھ چکے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے پانچ لاکھ روپے شکور کے خاندان کی مالی اعانت کے طور پر دینے کا اعلان کیا۔ کچھ رقم دفتر کے فنڈ اور گروپ بیمہ پالیسی کے تحت واجب الادا تھی۔ چند ہی روز میں شکور کی بیوہ کو لگ بھگ پچیس لاکھ روپے مل گئے۔ اتنی رقم ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ اس وافر رقم نے شکور کی اندوہناک موت کا زخم کسی حد تک مندمل کر دیا تھا۔
( جاری )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمسلم لیگ (ن) کے رہنماشیخ طاہر رشید طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے
Next Article کورونا بجٹ میں ریلیف ملے گا یا حوصلہ ؟ ۔۔ صائمہ نورین بخاری
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم

ستمبر 13, 2026

رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ

ستمبر 12, 2026

کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی

ستمبر 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم ستمبر 13, 2026
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ ستمبر 12, 2026
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی ستمبر 12, 2026
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟ ستمبر 12, 2026
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.