کرکٹ کی اصطلاح میں جب باﺅلر مقررہ کریز سے قدم باہر نکالتا ہے تو اسے نوبال کہاجاتا ہے۔ اس ضمن میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو اضافی سکور بھی مل جاتا ہے اور کھیلنے کےلئے اضافی گیند بھی ہمارے وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیران یا تو بے حد بھولے ہیں یا وہ عوام کو پاگل سمجھ ررہے ہیں۔بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں محض دولاکھ کورونا ٹیسٹ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔تقریباً گزشتہ دوماہ کے دوران پورے پاکستان میں دولاکھ کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے بیس ہزار سے زائد مثبت مریض ہیں۔ ہمارے نہایت بھولے وزیراعظم اس نمبر پر لاک ڈاﺅن میں کمی کرتے آرہے ہیں جبکہ حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ حالیہ دنوں میں چھ ہزار ٹیسٹ روانہ کیے جارہے ہیں جن میں سے تقریباً ایک ہزار مریض ہیں اس وباءکے پھربھی عمران خان کہتے ہیں کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں۔
اگروزیراعظم صاحب کسی میچ کی طرح کورونا مریضوں کی نسبت نکالیں تو جو مریضوں کی تعداد ہوگی وہ کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ مثال کے طورپر اگر دو کروڑ افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں تو اس میں سے دولاکھ افراد اس وباءکے زیراثر ہوں گے۔
آج تک 564 سے زائد افراد اس وباءسے اپنی زندگی گنوا چکے ہیں اور آج کے دن جب لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ہوا اب تک 20 اموات ہو چکی پھربھی کہتے ہیں کہ حالات بہت بہتر ہورہے ہیں۔ جیسا کہ سننے میں آیا ہے کہ یہ وائرس50برس سے زائدافراد پر حملہ آور ہوتاہے اور ہمارے 701فیصد اراکین اسمبلی 60سال سے زائد عمر کے ہیں۔ جو اجلاس بلایا جا رہا ہے اس کے حوالے سے ان کے خدشات تو بنتے ہیں کہ اب وہ پاکستان سے باہر بھی علاج کروانے نہیں جاسکتے کیونکہ اس وباءنے پوری دنیا پر اپنی اجارہ داری بنارکھی ہے۔پوری دنیا کی طاقت ورترین ریاستیں بھی اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی ہیں مگر ایک پاکستان ہے جو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہے کہ شاید بلی اسے نہیں دیکھ رہی۔
کورونا ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے پر ہی ٹھیک اعداد و شمار سامنے آسکتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے حکمران اور عوام خواب خرگوش میں ڈوبے رہیں اور مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہے۔
عمران خا ن صاحب کورونا ابھی تک پاکستان کے ساتھٓ سنگل ڈبل کرکے کھیل رہا ہے اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیاگیا تو یہ نہ ہو کورونا جارحانہ اننگز کھیلنے پرآجائے جس سے جہاں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے وہیں اس وباءسے شرح اموات میں بھی ا ضافہ ممکن ہے۔ورلڈ ہیلتھ آ رگنائزیشن باربار تنبہیہ کررہی ہے کہ کورونا کے حو الے سے احتیاطی تدابیر میں غفلت نہ برتی جائے ورنہ جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈاکٹرز بھی باربار حکومت اور عوام سے درخواست کررہے ہیں کہ اپنی اوردوسروں کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں اور سماجی دوری اختیار کریں اس میں ہی انسانیت کی بقاءہے۔ ایسا نہ ہو کہ کورونا نوبال پر چھگا لگادے اور ہمارے حکمران ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔حکمران محض چندا مانگتے رہیں
جمعرات, اکتوبر 29, 2026
تازہ خبریں:
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی

