اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا۔ تاہم نواز شریف کو نا اہل قرار نہیں دیا گیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔ فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔ فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا۔ فیصلے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جے آئی ٹی ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے۔ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، ایس ای سی پی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو شامل کیا جائے، جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔
بدھ, اگست 26, 2026
تازہ خبریں:
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس

