Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
  • حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » شکیل عادل زادہ : آشفتہ سروں کا عشق ۔۔ رؤف کلاسرا
لکھاری

شکیل عادل زادہ : آشفتہ سروں کا عشق ۔۔ رؤف کلاسرا

ایڈیٹراپریل 2, 20172 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
articles of shakil aadil zada at girdopsh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

تین برس پہلے نیویارک آئی لینڈ کی وہ خوبصورت ڈھلتی شام، وہ بوڑھا درخت نہیں بھولتا جس کے نیچے ہم چاروں میز کے گرد دور جھیل کنارے جگمگاتے سورج کی کرنوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ سیالکوٹ کے فرزند عارف سونی کے جھیل کنارے گھر میں پتہ نہیں کب اور کیوں شکیل عادل زادہ کا ذکر چھڑ گیا۔ مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑائچ اور میں اپنے مشتاق بھائی کی بیٹی زہرہ مشتاق کی شادی میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے۔ عمر شامی بھی موجود تھے۔ پاکستانی سیاست پر گفتگو کرتے کرتے “سب رنگ“ کی یادوں میں کھو گئے۔ یہ انکشاف تھا یا اتفاق ہم سب ”سب رنگ“ اور شکیل عادل زادہ کے عاشق نکلے۔ ہم اپنے اپنے انداز میں سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کو یاد کرتے رہے۔ میں نے پوچھ لیا: سب رنگ دوبارہ کیوں نہیں نکل سکتا؟ بازی گر کا بابر زماں، استاد بٹھل یا خوابوں کی ملکہ کورا دوبارہ کیوں نہیں؟ سہیل وڑائچ کی معلومات تازہ ترین تھی، بولے: ان کی شکیل عادل زادہ سے بات ہوئی تھی۔ فنڈز کی کمی کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا: ہم خود کچھ کیوں نہ کریں؟ شامی صاحب کی صاحبِ اقتدار اور اختیار لوگوں تک رسائی ہے، بڑے بڑے لوگ ان کا دم بھرتے ہیں۔ شامی صاحب کے دربار میں حاضری دینے کو فخر سمجھتے ہیں۔ پچاس لاکھ یا ایک کروڑ کی گرانٹ کون سی بڑی بات ہے؟ شامی صاحب کسی کو کہہ کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ شامی صاحب نے حامی بھر لی۔ میں نے بھی کچھ وعدے کیے اور کچھ وعدے سہیل وڑائچ نے۔ آج تین برس بعد لگتا ہے وہ وعدے صرف وعدہ ہی رہے۔ ہم صحافی بھی سیاستدان نکلے۔ ہم تینوں نے عارف سونی کے اس خوبصورت گھر کے بوڑھے درخت کے نیچے جو وعدے کیے تھے وہ کبھی پورے نہ کیے۔ نیویارک سے لوٹے تو کہاں کا ”سب رنگ“ اور کون سا شکیل عادل زادہ۔ ایک دو دفعہ شامی صاحب کو یاد دلانے کی کوشش کی تو انہوں نے فرمایا: فلاں صاحب، جن کے خلاف آپ اپنے پروگرامز میں منفی ذکر کرتے ہیں، کو سب رنگ کے دوبارہ اجرا میں مدد پر راضی کر لیا ہے۔ پھر اپنے مخصوص انداز میں قہقہہ لگا کر شامی صاحب بولے: شرط ہے آپ ذرا ہاتھ ہولا رکھیں۔ میں نے کہا: سب رنگ کے نام پر یہ قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ میری زبان بندی سے سب رنگ دوبارہ نکل سکتا ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو گی؟ تین برس گزر گئے اور پھر میں نے شامی صاحب سے پوچھنا ہی چھوڑ دیا۔ ایک دن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر شاہد صدیقی سے ملاقات ہو گئی۔ تعارف ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ہنسے اور بولے: آشفتہ سروں کا کیا تعارف ہو سکتا ہے؟ یہ تعارف کافی نہیں، آپ اور میں سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کے مداح ہیں۔ وہ ہمارا عشق اور ہم ان کے عاشق۔ ایک دوسرے کو گلے لگایا اور دیر تک ادب اور ادیبوں پر گفتگو ہوئی، لیکن گھوم پھر کر موضوع دوبارہ سب رنگ اور شکیل عادل زادہ بن جاتے۔ شاہد صدیقی خود ایک ادیب ہیں اور کیا خوبصورت ناولٹ لکھا ہے۔ انہوں نے انگریزی کالموں میں آزادی ہند کے ہیروز پر سیریز شروع کی تو حیرانی ہوئی، پاکستان میں بھی ایسے کالم نگار موجود ہیں جو عصبیت اور نفرت کو ایک طرف رکھ کر آزادی کے ہندو ہیروز پر لکھنے کی جرات رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سیریز ہے، جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس میں مسلمانوں سے لے کر ہندوؤں اور سکھوں تک کے ان کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جنہوں نے اس خطے کی آزادی کے لیے جانیں دیں۔ جب بھی آتے جاتے ملاقات ہوئی شاہد صدیقی کے لبوں پر ایک ہی بات ہوتی: کس طرح شکیل عادل زادہ کو اسلام آباد بلا کر ان کی شان میں محفل بپا کی جائے۔ شاہد صدیقی کی محبت اور عشق دیکھ کر شکیل عادل زادہ نے انہیں بتایا کہ ان کا سب رنگ کراچی کا دفتر بند ہو رہا ہے۔ وہاں پرانے رسالوں کی فائلیں پڑی ہیں۔ پھر کیا تھا۔ جنونی شاہد صدیقی نے فوراً اپنا بندہ بھیجا اور کراچی سے اسلام آباد کارٹن منگوایا۔ جب کارٹن کو کھولا تو پہلا میسیج مجھے کیا کہ یادوں کی سہانی برات میں وہ اکیلے کھوئے ہوئے ہیں۔ انعام راجہ جیسے عظیم فنکار کی شاہکار انگلیوں سے بنے سکیچز، ذاکر کے ٹائٹل اور بازی گر کے کرداروں کے سکیچز، جو انعام راجہ کے ہاتھوں امر ہو گئے۔ مجھ سے صبر نہ ہوا اور فوراً ان کے دفتر چلا گیا، جہاں وہ سب رنگ کے پچھلے چالیس سالوں کے پرانے شمارے میز پر پھیلائے مسکرا رہے تھے، جیسے آج اپنی محبوبہ کو آخر پا لیا ہو۔ بابر زمان، کورا کو نہ پا سکا لیکن شاہد صدیقی نے سب رنگ پا لیے تھے۔ہم دونوں اپنے اپنے ہاتھوں میں وہ سب پرانے شمارے، جن سے ہماری یادیں اور نسٹلیجا جڑا تھا، الٹ پلٹ کر بچوں کی طرح خوش ہوتے رہے۔ ایک لمحے کے لیے میں کھو گیا۔کتنا انتظار۔ تین تین سال کا انتظار۔ کتنی چاہت۔ گاؤں کی تپتی دوپہر میں برآمدے میں لیٹ کر پڑھنا۔ اماں کی ڈانٹ اور سلیم بھائی کے سکوٹر کی آواز کا انتظار کہ کب لیہ سے شام نثار عادل کی ایجنسی سے سب رنگ اور دیگر ڈائجسٹس لاتے ہیں۔ کتنی شامیں، کتنے رومانس، کتنی دوپہریں ایک ہی لمحے میں گزر گئیں۔ میری آنکھوں میں حسرت دیکھ کر مسکرا پڑے اور بولے اداس نہ ہوں۔ آپ کے لیے بھی بندوبست کیا ہے۔ شاہد صدیقی نے سب رنگ کے سب پرانے شماروں کو بہترین انداز میں جلد کرا کے یونیورسٹی کی لائبریری میں ایک گوشہ شکیل عادل زادہ اور سب رنگ کا بنوا کر مجھے پیغام بھیجا: اب دیکھو۔ خوبصورت جلدوں نے ان شماروں کی عمر بڑھا دی تھی۔ شاہد صدیقی نے کہا: کچھ شمارے مسنگ ہیں لیکن عقیل عباس جعفری کے پاس سب موجود ہیں۔ وہ کراچی سے کاپی اور جلد کرا کے لائبریری بھیج دیں گے۔ اب شاہد صدیقی کا پیغام ملا ہے۔ وہ گیارہ بارہ اپریل کو اسلام آباد میں اوپن یونیورسٹی میں لٹریری میلہ کرا رہے ہیں اور اس میلے کی سب سے بڑی کشش شکیل عادل زادہ ہیں، جن کے ساتھ بیٹھک ہو گی۔ کالم نگار اور ادیب اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتابوں کے سٹال لگیں گے۔ کھانے کے سٹال بھی ہوں گے۔ ادب پر گفتگو ہو گی۔ ادب اور ادیب پر گفتگو ہو گی۔ ادب اور صحافت پر بات ہو گی۔ شاہد صدیقی کو بھی میں عام وائس چانسلر سمجھتا تھا، جنہیں ہر وقت اپنی یونیورسٹیوں میں ہونے والی سازشیوں کی فکر کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان سے ایک دو بیٹھکیں ہوئیں تو کہے بغیر نہ رہ سکا کہ شہر میں کبھی ڈاکٹر ظفر الطاف کے ساتھ دوپہر گزرتی تھی، اب آپ کے ساتھ گزارنے کو جی چاہتا ہے۔ جب کہ شام میجر عامر کے پاس گزارنے کو دل چاہتا ہے۔ ایک دن شاہد صدیقی بولے: شاعری سے لگاؤ ہے؟ میں نے کہا: زندگی میں دو ہی شاعروں کے دو شعر ہی یاد ہیں۔ اردو غزل کے بڑے شاعر ظفر اقبال اور دوسرے سرائیکی شاعر رفعت عباس۔ رفعت عباس کا شعر سنایا تو مچل اٹھے اور کہا: اس شاعر سے ملنا ہے۔ اسے پڑھنا ہے۔ ایک شعر نے ہی انہیں تڑپا دیا تھا۔

کیویں ساکوں یاد نہ رہسی اوندے گھر دا رستہ
ڈو تے سارے جنگل آسن ترے تے سارے دریا
اگلی دفعہ ملا تو رفعت عباس کی شاعری پر تمام کتابیں ملتان سے منگوا کر بیٹھے پڑھ کر داد دے رہے تھے۔ سہیل وڑائچ، شامی صاحب اور میں تو نیویارک آئی لینڈ کی ایک خوبصورت دوپہر محض علمی ٹھرک پورا کرکے سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کو بھول گئے تھے۔ سچے عاشق شاہد صدیقی جیسے ہوتے ہیں جنہوں نے چالیس برس پرانے سب رنگ کے پرانے شمارے ڈھونڈ کر یونیورسٹی میں ایک گوشہ بنا دیا۔ میں نے عرض کیا: خیال کیجیے گا، ایسی نادر چیزیں چوری بھی ہو جاتی ہیں۔ مسکرا کر بولے: آپ کا اشارہ نک ویلوٹ جیسے چوروں کی طرف ہے جس کی کہانیاں جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں پڑھتے تھے۔ آپ بھی گیارہ بارہ اپریل کو علامہ اقبال یونیورسٹی تشریف لائیں، اور دیکھیں شاہد صدیقی جیسے ادب اور ادیبوں کے عاشق نے کیا ادبی محفل سجانے کا بندوبست کیا ہے۔ ہمارے جیسے عاشق بس باتیں کرتے ہیں، کام تو شاہد صدیقی جیسے آشفتہ سر کر گزرتے ہیں۔ سب رنگ کی تاریخ کو محفوظ کر جاتے ہیں۔ استاد بٹھل، کورا بابر زمان جیسے کرداروں کو مرنے نہیں دیتے۔ انہیں زندہ رکھنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ کسی دن اوپن یونیورسٹی کی لائبریری تشریف لے جائیں اور دیکھیں۔ شکیل عادل زادہ جیسے جنونیوں کے علاوہ کسی آشفتہ سر سے ملنے کا دل چاہے تو شاہد صدیقی سے مل لیجیے۔ سر پھرے، دیوانے اور بے خود اب بھی جنم لیتے ہیں۔ آشفتہ سر اب بھی بھولے بھٹکے طویل راستوں اور دور کہیں پہاڑوں میں سورچ کے ڈھلتے وقت اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر مل جاتے ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleگدی کا تنازع : سرگودھا میں پیر کے ہاتھوں 20 مرید قتل
Next Article ہمارا پاکستان اور میڈیا کا پاکستان ۔۔ وسعت اللہ خان
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

ستمبر 10, 2026

حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا

ستمبر 10, 2026

پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا

ستمبر 10, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 10, 2026
  • حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا ستمبر 10, 2026
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا ستمبر 10, 2026
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم ستمبر 10, 2026
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم ستمبر 9, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.