پاک بھارت میچ کا بخار اتر گیا اور قوم پھر سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی خبریں سننے لگی ۔لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میچ پر بے شمار تبصرے جاری ہیں ، کہیں سرفراز پر تنقید ہورہی ہے تو کہیں کرکٹ بورڈ پر کہیں سے شعیب ملک اور دیگر کرکٹرز کی وڈیوز سامنے آ رہیں ہیں تو کہیں وینا ملک اور ثانیہ مرزا ٹوئٹر پر دست بہ گریباں ہیں۔ ان ٹوئٹس کی بھی الگ کہانی ہے جو عمران خان نے میچ کی صبح داغے اور وہ بھی پانچ پانچ کہ جس میں انہوں نے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے سرفراز کو یہ حکم دیا کہ اگر ٹاس جیتنا تو پہلے بیٹنگ کرنا اب اگر ہم یہ کہیں کہ یہ بات کتنی بچکانہ ہے اور اگر پی ٹی آئی کی لینگویج میں کہیں تو احمقانہ ہے کہ نہ آپ کو وکٹ کا پتہ ہے، نہ موسم کا…سب چھوڑیں آپ تو اپنی ٹیم سے بھی بہت واجبی سی واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو لڑکوں کے پوٹینشل کا پورا آئیڈیا ہے آپ کون سی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اس مشورے کے بعد تو بہت سے سوال اٹھ سکتے ہیں…
ہم نے سنا تھا کہ مخلص لوگ مشورہ کان میں دیتے ہیں مثال کے طور پر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خان صاحب کا یہ مشورہ ایک عالمگیر مشورہ تھا تو کیا یہی مشورہ انڈین ٹیم کو نہیں ملا کہ اگر کوہلی یا دھونی خان کو فالو کرتے ہوں تو انہیں بھی تو آپ نے جیت کا گرُ بتا دیا ؟؟کہ اگر انڈیا ٹاس جیت بھی جائے تو وہ کبھی پاکستان کو کھیلنے نہ دے..
اگر آپ کو اتنی ہی فکر ہو رہی تھی تو آپ وہاں فون کرتے وہاں پر موجود ٹیم آفیشلز سے بات کرتے موسم اور وکٹ کی جانکاری لیتے اور کان میں کہہ دیتے جو آپ کو کہنا تھا دوسری بات میں تو سمجھتا ہوں کہ خان کی عزت بچ گئی کیونکہ آپ ذرا سوچیں کہ اگر خان کے آفاقی مشورے پر عمل کرنے کے بعد بھی ٹیم ہار جاتی تو کتنی سبکی ہوتی؟؟ کیونکہ یہ ٹیم جس مورال کے ساتھ وہاں پر موجود ہے یہ انڈیا سے پہلے کھیلتی یا بعد میں اس نے جیتنا نہیں تھا ایک طرف موجودہ ٹیم کا مورال ہے دوسری طرف ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلنے جانے والے میچز کی تاریخ کا جبر، کسی اور ٹورنامنٹ میں تو شاید کوئی امید لگائی جا سکتی ہے ورلڈ کپ میں نہیں..
ایک اور صاحب بھی بہت سیخ پا تھے۔ وہ تھے ہمارے گریٹ وسیم اکرم ان کا گلہ یہ تھا کہ میں وہاں موجود تھا مجھ سے کسی نے مشورہ تک نہیں لیا؟؟ اس گلے کے جواب میں ایک سیدھا سا سوال یہ ہے کہ جنرل توقیر سے لیکر احسان مانی تک جتنے چیئرمین پی سی بی میں آئے سب نے آپ جیسے لیجنڈ کو نیشنل ٹیم کی کوچنگ کی آفر کی لیکن آپ نے کبھی اس کی حامی نہیں بھری اس کی کئی وجوہات ہوں گی لیکن سیدھی سیدھی اور واضح وجہ پیسے ہیں کیونکہ جنابِ وسیم اکرم کو اشتہارات، پرسنل شارٹ پیریڈ کوچنگز اور کمنٹری سے کئی گناہ زیادہ آمدن ہوتی ہے جو ان کو نیشنل ٹیم کی کوچنگ سے ہونی ہے اور سارا سال آپ کو ٹیم کے ساتھ ذلیل بھی ہونا پڑتا ہے اور اگر کہیں پرفارمنس خراب ہو تو گالیاں اور تنقید الگ جوب دہی الگ تو کیا فائدہ کہ بندہ ذلالت بھی زیادہ بھگتے اور پیسے بھی کم کمائے لہذا سوٹ ٹائیاں لگا کر تازہ دم ہو کر گراؤ نڈ میں جاؤ کمنٹری بکس میں بیٹھ کر انگریزی میں گپیں لگاؤ چائے پیو تبصرہ کرو اور موٹے پیسے لیتے ہوئے گھر جاؤ اگر ٹیم جیت جائے تو تعریفیں کرو ہار جائے تو تنقید کرو جو بھی کرو لیکن ذمہ داری نہیں لینی۔ اس حکومت کے آتے ہی تین رکنی کمیٹی بنی جس میں وسیم اکرم، ہارون الرشید اور محسن حسن خان شامل کر دیے گئے اس کمیٹی کا کام تجاویز بنانا تھا کہ کس طرح سے معاملات کو بہتر طور پر چلایا جائے اطلاعات کے مطابق اب تک کمیٹی کے ارکان تین بار ملے جس میں دو بار وسیم اکرم نہیں آئے اور ایک بار محسن حسن خان کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے وسیم اکرم تو محسن خان کو سرے سے کرکٹر مانتے ہی نہیں ہیں اور محسن حسن خان نے وسیم اکرم پر میچ فکسنگ کے سنگین الزامات ایک سے زیادہ مرتبہ عائد کیے ہیں اب صورتحال یہ ہے کہ وسیم اکرم شاید عمران خان کو انکار نہیں کر پائے اور کمیٹی کے رکن بن گئے اور محسن حسن خان ویسے ہی کوئی نوکری ڈھونڈ رہے تھے اور عمران خان کی سفارش پر انہیں یہاں ایڈجسٹ کر دیا گیا یہ سب بتانے کا مقصد صرف یہ اجاگر کرنا ہے کہ ہمارے ملک کے عظیم کرکٹرز ہماری کرکٹ کے لیے کتنے سیریس ہیں اور عوام کو جو کہ اس کھیل کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیتی ہے یہ بتانا کہ ٹھنڈ رکھیے آپ کی جذباتیت کئی لوگوں اور اداروں کو کروڑوں ڈالرز کا فائدہ پہنچا دیتی ہیں..
دو باتیں واضح ہیں ایک کہ ٹیم کا مورال نہ ہونے کے برابر ہے اس میچ سے پہلے تک کم از کم پاکستانی باؤلرز پرفارمنس دے رہے تھے لیکن اس میچ میں باؤلرز کا بھی کباڑا نکل گیا فیلڈنگ اور بیٹنگ تو پہلے دن سے ناٹ رسپانڈنگ پر لگی ہوئی ہے دوسرے ہر ایک کو واضح گروپنگ نظر رہی ہے یہاں تک کہ فیلڈ پر بھی اس کا اشارہ کپتان سرفراز نے اطلاعات کے مطابق دے بھی دیا ہے سنا ہے کہ میچ کے بعد کپتان ڈریسنگ روم میں جاکر خوب گرجے برسے اور سب خاموش رہے دوسری جانب مکی آرتھر پر بھی بہت سے سوالات ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کو لیکر بہت سے تحفظات کا شکار ہیں کہ پی سی بی میں ان کا مستقبل کیا ہو گا اس سب کو دیکھتے ہوئے ہم جناب وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ کرکٹ کو میں ایسا ٹھیک کروں گا کہ دنیا دیکھے گی کہاں گیا وہ ٹیلنٹ ہنٹ آپ انحصار بھی کر رہے ہیں تو نجم سیٹھی اور نواز شریف کے پی ایس ایل پر بھئی واہ… نا اہلوں نے کم از کم کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر تک پہنچایا تو سہی آپکی حکومت کے زمانے میں ہونے والے پہلے ورلڈ کپ کا حال یہ ہے کہ پاکستان دس میں سے نویں نمبر پر ہے اور صرف افغانستان سے اوپر ہے جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ اس حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پی سی بی پر تنخواہوں کی مد میں ایک کروڑ سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے خان صاحب مایوس سے مایوس آدمی بھی آپ سے ایک امید رکھتا ہے کہ آپ کچھ کریں یا نہ کریں آپ میں کسی اور کام کو کرنے کی صلاحیت ہو یا نہ ہو آپ کرکٹ کو ٹھیک کر سکتے ہیں قوم کے اس غرور کو خدارا رہنے دیں اور اس کھیل کہ جس کے آپ ایک لیجنڈ ہیں پر توجہ دیں۔

