کینسر یا سرطان صرف ایک بیماری نہیں بلکہ بہت سی متعلقہ بیماریوں کا مجموعہ ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں رونمَا ہو سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ہمارے جسم کے خلیوں میں موجود جینز کی بیماری ہے، ہمارے جینز ہمارے خلیوں کے مختلف افعال کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ جب ہمارے جینز میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو خلیے بھی ٹھیک کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ خلیے بغیر کسی وجہ کے بڑھنا اور تقسیم ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ سرطان بےکار خلیوں کو تلف ہونے سے بھی روک دیتا ہے، یہی بےکار خلیے سرطان کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔
ہم جینیاتی تبدیلیوں کی سمجھ بوجھ ہی سے سرطان کو سمجھ سکتے ہیں. اس کے علاوہ سرطان کی شماریات یا اسٹیٹکس کی مدد سے بھی اس کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کینسر کی شماریات اور جانچ پڑتال ہی ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارے معاشرے پر اس کا کتنا بوجھ موجود ہے۔ شماریات کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہر سال کتنے لوگ اس کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں یا اس کی تشخیص کے بعد اس سے مقابلہ کر کے زندہ رہتے ہیں۔ شماریات میں بتدریج تبدیلی سائنسدانوں کو بتاتی ہے کہ کہاں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے. سرطان کی شماریات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ متعلقہ آبادی میں اس کے علاج میں کتنی عدم مساوات موجود ہے. اس کی مثالیں کسی آبادی میں زیادہ اموات کا ہونا، اس کی جلد تشخیص کے لیے بنیادی ٹیسٹوں کا نہ ہونا اور دیر سے تشخیص کے نتیجے میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے سرطان کا ہونا شامل ہیں.
( ماخذ: این سی آئی)
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

